امریکہ نے پابندیاں لگا کر جنگ کا اعلان کیا ہے ، روسی وزیر اعظم

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخاب میں مبینہ مداخلت کرنے پر روس کے خلاف پابندیوں کے بل پر دستخط کر کے اس کو قانون کی شکل دے دی ہے۔اس بل پر صدر نے وائٹ ہاؤس میں دستخط کیے۔ اس نئے قانون کے تحت ایران اور شمالی کوریا پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔صدر نے کانگریس پر اس بل کو منظور کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔صدر ٹرمپ کے دستخط کیے جانے کے بعد روسی وزیر اعظم دیمیتری میودیو نے کہا کہ اس بل کو قانون کی شکل دینے کا مطلب ہے کہ امریکہ نے روس کے خلاف ‘مکمل تجارتی جنگ’ کا اعلان کر دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پابندیوں کے باعث نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کی امیدیں ختم ہو گئی ہیں۔دوست جانب ایران نے ان پابندیوں کے بارے میں کہا ہے کہ نئی پابندیاں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور تہران اس کا موزوں جواب دے گا۔واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تنقید کے باوجود روس پر نئی پابندیاں لگانے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔روس کی امریکی انتخاب میں مبینہ مداخلت کے معاملے میں تحقیقات جاری ہیں اور اسی تناظر میں امریکی صدر نے ملک کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز پر دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔امریکی ایوان نمائندگان کی بھاری اکثریت نے ان اقدامات کی حمایت کی جس کے ذریعے شمالی کوریا اور ایران پر بیلیسٹک میزائل کے تجربے کی وجہ سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ان نئی پابنیوں کی وجہ سے روس کے تیل اور گیس کے پراجیکٹس پر اثر پڑے گا۔یاد رہے کہ گذشتہ دسمبر میں اس وقت کے صدر براک اوباما نے الیکشن ہیکنگ کے حوالے سے 35 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا تھا اور دو روسی کمپاؤنڈ بند کر دیے گئے تھے۔روس امریکی انتخاب میں مداخلت کے الزام کر مسترد کرتا آیا ہے۔روس نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکہ قبضے میں لیے گئے دونوں کمپاؤنڈ کو روس کے حوالے کرے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو روس جوابی کارروائی کرے گا۔گذشتہ دنوں اعلیٰ سطح کی بات چیت کے بعد ایک روسی اہلکار نے کہا تھا کہ کمپاؤنڈ کا مسئلہ تقریباً حل ہو گیا ہے۔تاہم اس نئے بل کے تحت صدر ٹرمپ پابندیوں میں تبدیلی یا سفارتی جائیداد کی واپسی کانگریس کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.