//

آئی ایم ایف شرائط کے تحت نئے ٹیکس سسٹم کا اطلاق شروع ,سہولتیں ایکٹو لسٹ پر ہونے سے مشروط

اسلام آباد : آئی ایم ایف شرائط کے تحت نئے ٹیکس سسٹم کا اطلاق شروع ہو گیا۔ کمپنیوں کو ٹیکس ادائیگی کے بدلے سہولتیں ایکٹو لسٹ پر ہونے سے مشروط ہو گئیں۔

ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسچینج کمپنیوں کو بینک اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے پر ٹیکس 0.15 فیصد ادا کرنا ہو گا۔ دیگر ٹیکس گزاروں کے لیے یہ شرح 0.6 فیصد ہے۔ ان کمپنیوں کو اسٹیٹ بینک قوانین کے تحت لائسنس لینا اور ایکٹولسٹ پر ہونا لازم ہے۔ 0.15 فیصد کی آسان شرح سے ٹیکس کی سہولت صرف بزنس اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے پر حاصل ہو گی۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فلاحی ادارہ بھی یہ سہولت حاصل کر سکے گا۔  ان اداروں کو ذاتی یا خاندانی مفاد کے تحت فلاحی کاموں پر یہ سہولت نہیں ملے گی۔ کمپیوٹر کی ایکسپورٹ اور کوئلے کی کانوں کے بزنس پر ٹیکس کریڈٹ صرف ایکٹو ٹیکس لسٹ پر آنے سے ملے گا۔ آئی ٹی قوانین اور مائننگ انڈسٹری پر لاگو شرائط  کے عملدرآمد کا ثبوت دینا ہو گا۔

ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ  ان لینڈ ریوینیو کی جانب سے متعلقہ سرٹیفکیٹ بینک اکاؤنٹ کے ساتھ منسلک ہونا لازم ہے۔ این جی اوز کے لیے بھی یہی طریقہ کار لاگو ہو گا۔ ٹیکس سے استثنیٰ کے لیے ایکٹو لسٹ پر آکر ریٹرن فائل کرنا ہو گا۔ 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ صرف سول اور ملٹری ملازمین اور انکے لواحقین کے لیے فلاحی کاموں پر ملے گا۔ اس مقصد کے لیے ٹرسٹ، غیر منافع بخش ادارہ بنا کر ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کرانا لازم ہے۔ مذہبی فلاحی ادارے کو بھی یہ سہولت دستیاب ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.