اٹھارہویں ترمیم پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے،رانا تنویرحسین

Pakistani Politician

اسلام آباد جدت ویب یڈیسک وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر نے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ اٹھارہویں ترمیم پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے اگر فیڈریشن کو ملک بھر کیلئے ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے تو ضروری ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی صورت میں پیدا شدہ مسائل کے حل کیلئے پہلے کی طرح مشترکہ ترامیم لانا ہونگی وفاقی حکومت کے پاس اس وقت صرف وفاقی دارالحکومت کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے تک محدود کردیا گیاہے صوبائی حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں اگروہ نہیں کرپارہیں تو وفاق کو واپس ذمہ داری سونپ دیں جب صوبائی حکومتوں کی بات کی جاتی ہے تو اپوزیشن انگلی اٹھانا شروع کردیتی ہے ۔ قومی اسمبلی میں بدھ کو اراکین اسمبلی شیخ صلاح الدین ، کشورہ زہرہ ساجد احمد کے توجہ دلائو نوٹس کے ردعمل کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ متعدد دفعہ حکومت بتا چکی ہے کہ پی سی ڈبلیو آر ریسرچ کا ادارہ ہے عملدرآمد کا ادارہ نہیں ہے ہمارے ادارے مختلف جگہوں سے سیمپل لیکر ان کو رپورٹس ذمہ داران کو بھیج رہے ہیں اٹھارہویںترمیم کے بعد ذمہ داری صوبوں کو منتقل تو ہوئی لیکن وفاقی سطح سے رہنمائی تاحال جاری ہے وفاقی دارالحکومت کیلئے میونسپل کارپوریشن اور سی ڈی اے سے تعاون لے رہے ہیں اس صاف پانی کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے دو ہزار سولہ کے سروے کے مطابق پچیس شہروں سے لئے گئے نمونوں میں سے اکتیس فیصد قابل استعمال اور 68فیصد ناقابل استعمال ظاہر ہوئے ہیں مقامی و صوبائی حکومتوں کو پانی کے لیول اور کی صورتحال بارے معلومات کردار ادا کررہے ہیں رکن اسمبلی شیخ صلاح الدین کے سوال کے جواب میں وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ بوتل والے پانی کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری پی سی کیو سی کی ہے جس نے اس وقت 130 کمپنیوں کو سیل کیا ہے جو حفظات صحت کے اصولوں پر پورا نہیں کررہی ہیں اس وقت پی سی کیو سی کی طرف سے بوتل بند پانیوں کی اس وقت چیک وہ منظور شدہ منرل کمپنیوں کی تعداد 109ہے انہوں نے کہا کہ حکومت ذمہ داری ادا کررہی ہے قبل ازیں توجہ دلاتے ہوئے اراکین اسمبلی شیخ صلاح الدین ، کشور زہرہ ساجد احمد نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت تیسری دفعہ اقتدار میں ہے ذمہ داران آج تک محفوظ پانی کو شہریوں کی دسترس تک لانے کیلئے کیا کام کررہے ہیں آج تک کچھ کیا تو عوام کو محفوظ پانی میسر آئے شیخ صلاح الدین نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایوان نے مشترکہ طو ر پر بل کو ڈیفر کیا تھا لیکن آج پھر کام مکمل کروائے بغیر بل اپوان میں پیش کردیا گیا ہے اس سلسلے میں سٹیک ہولڈرز اور فیواسا کے صدر ڈاکٹر کلیم و ڈاکٹر شہزاد کو ان بورڈ لے لیا جائے تو حکومت کیلئے آسانی ہوگی رکن اسمبلی صاحبزادہ یعقوب نے اس موقع پر بل کی مختلف شقوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا رانا تنویر نے اس موقع پر کہا کہ کامسیٹس پر اعتراضات اٹھانے والے شاہد لاعلم ہیں کہ سترہویں ترمیم میں کامسیٹ نے پاکستان جامعات کی پہلی پانچ بہترین جامعات میں رینکنگ حاصل کررکھی ہے ایک سال پہلے بہترین درجہ دلانے کیلئے کام شروع تھا اصل مقصد یہ ہے کہ ایچ ای سی کی طرف سے اعتراض آیا ہے کہ جامع کا درجہ نہ ہونے سبب ترقیاتی منصوبوں کیلئے مطلوبہ فنڈز انسٹی ٹیوٹ کو جاری نہیں کیاجاسکتا انسٹی ٹیوٹ کو فنڈنگ کا مسئلہ ہے یہ ریفرنس سائنس و ٹیکنالوجی کی کمیٹی میں بھیجا جاسکتا ہے یہ کہا تو حکومت نے غلطی سے بل ایوان میں پیش کیا شاہد مناسب نہیں ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.