/

ایک عام صحت مند فرد کو روزانہ کتنا گوشت کھانا چاہیئے؟ طبی ماہرین

ویب ڈیسک ::میانہ روی یا اعتدال پسندی بہترین ہے طبی ماہرین کے مطابق ایک عام صحت مند فرد کو روزانہ 60 گرام سے ایک پاؤ گوشت کھاناچاہیے، کیوںکہ ایک پاؤ گوشت میں تقریباً 143 کیلوریز، 3 سے 5 گرام چکنائی، 26 گرام پروٹین اور کئی وٹامنز اور معدنیات پائے جاتے ہیں

کسی بھی جانور کے جسم کی ساخت کے لحاظ سے مفید اجزاء کی مقدار مختلف ہوسکتی ہے لیکن افادیت یکساں ہی ہے گوشت میں مندرجہ ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں-پروٹین : گوشت پروٹین سے بنتا ہے طبی ماہرین کے مطابق جانور سے حاصل کردہ پروٹین سب سے اعلیٰ درجے کی غذائیت کی حامل ہوتی ہے یہ پروٹین انسانی گوشت کے پروٹین سے ملتی جُلتی ہےاسی لیے کسی آپریشن اور بیماری کے بعد بحالیٔ صحت کے لیے گوشت کا استعمال بےحد مفید ثابت ہوتا ہے۔

چربی : گائے اور بکرے کے گوشت میں مختلف مقدار میں چکنائی یا چربی پائی جاتی ہے، جس کا تعیّن عُمر، جنس اور غذا کے مطابق ہوتا ہے۔ جانور کی چربی میں موجود بعض فیٹی ایسڈز انسانی صحت کے لیے ازحد ضروری ہیں جبکہ ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر سمیت دل کے امراض میں مبتلا افراد کو خاص احتیاط کرنی چاہیے۔

وٹامن بی 12- اور بی -6 : یہ وٹامن خون بننےمیں مددگار ثابت ہوتا ہے اور اعصابی نظام کے لیے بھی مفید ہے۔ اگر جسم میں وٹامن بی-12 کی کمی واقع ہوجائے، تو سُستی، تھکاوٹ، مشقّت کے دوران سانس لینے میں تکلیف، جِلد کی رنگت ماند پڑجانا، دِل کی دھڑکن میں تیزی اور بال گرنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اوراعصابی نظام پر بھی مضر اثرات مرتّب ہوتے ہیں جبکہ گوشت میں وٹامن بی -6 خون کی افزائش اور جسم کوتوانائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کریٹینن ، زنک اور فاسفورس:فاسفورس اہم عنصر ہے جسم کی نشوونما کے لیے ضروری ہے، جو سُرخ گوشت میں پایا جاتا ہے جبکہ کریٹین یہ پٹّھوں کو توانائی فراہم کرتا ہے اور زنک جسم کی نشوونما کے علاوہ وائرسز کی روک تھام میں بھی ا ہم کردار ادا کرتا ہے۔

سیلینئیم اور فولاد: سیلینئیم جسم میں مختلف کیمیائی مراحل کی انجام دہی میں معاونت فراہم کرتا ہےجبکہ فولاد بھی گوشت میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، اسی لیے بکرے اور گائے کے گوشت کو’’ ریڈمیٹ ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ گوشت میں موجود فولاد جسم میں جلد اور زیادہ مقدار میں جذب ہوتا ہے۔

بڑی عید کے بڑے عید پکوان (بیف)

عید کے ایّام میں اور اس کے بعد بھی کئی روزتک گوشت کے کئی طرح کے مرغوب اور پسندیدہ پکوان بنائے جاتے ہیں، ایسے میں ان لذیذ اورمزے دار کھانوں سے ہاتھ روکنا قدرے مشکل ہو جاتا ہے، تو یہ گوشت کے پکوان ضرور کھائیں، لیکن اعتدال کا راستہ اختیار کریں۔گوشت کے ساتھ سبزیوں، پھلوں کا استعمال بھی بےحدضروری ہے تاکہ غذا میں توازن برقرار رہے، بالخصوص ذیابطیس، بلڈپریشر اور امراضِ معدہ کے مریض گوشت اور مرغّن کھانوں کے استعمال میں زیادہ احتیاط برتیں۔ ذیابطیس کے مریض اگر کھانے میں زیادتی کر جائیں، تو بہتر ہوگا کہ کچھ دیر کے لیے تیز رفتاری سے چلیں تاکہ خون میں شوگر کی مقدار معمول پر آجائے۔بُلند فشارِخون اور معدے کے السر میں مبتلا افراد تلا ہوا گوشت کھانے کے بجائے کوئلوں پر بُھون کر یا اُبال کر استعمال کریں ہائی بلڈ پریشر کے مریض نمک کم سے کم استعمال کریں اور کچھ دیر آرام بھی کرلیں تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود اگر طبیعت میں کوئی خرابی محسوس ہو تو اپنے معالج سے رجوع کریں۔علاوہ ازیں، عام دِنوں میں بھی سافٹ ڈرنکس کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے،مگر عید کے موقعے پر تو لازماً سبز چائے کا استعمال کیا جائے کہ یہ کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ عید الاضحی پر بطور خاص اس بات کا خیال رکھیں کہ کھانا وقت پر کھا لیا جائے ،کیوںکہ گوشت دیر سے ہضم ہوتا ہے اور وقت ،بے وقت یا زائد کھانے سے نظامِ انہضام خرابی کا شکار ہو سکتا ہے کھانے کے معاملے میں وقت کی پابندی نہ کرنے کی عادت بعض اوقات صحت کے لیے خاصی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

بڑی عید کے خاص پکوان (مٹن)

گوشت پکاتے وقت کم سے کم تیل یا گھی استعمال کریں۔ ادرک، لہسن، ہلدی، اور گرم مسالے ضرور شامل کریں۔ایک وقت میں آدھا پاؤ سے ایک پاؤ گوشت کھایا جا سکتا ہے۔ گوشت کے ساتھ سبزیوں کا سلاد ضرور استعمال کریں کہ یہ فائبر فراہم کرتا ہے، تو اس کے کھانے سے قبض کی شکایت بھی نہیں ہوتی۔

گوشت کے ساتھ لیموں کا استعمال خاص طور پر کیا جائے، کیوںکہ لیموں، گوشت میں موجود فولاد کو جسم میں جذب ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.