بلدیاتی اداروں کا مالی استحکام ……درست معلومات پر منحصر

صوبائی مالیاتی کمیشن کے قیام کے بعد امید ہو چلی تھی کہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں و دیہی علاقوں کی فنڈنگ کا نیا فارمولا طے پا جائیگا، 7 جون کو اس سلسلے میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں کمیشن کا اجلاس بھی ہوا مئیر کراچی وسیم اختر بھی اس میں شریک ہوئے، آواز ایک ہی اٹھی کہ بلدیاتی اداروں کو مالی بحران سے نکالا جائے اور ضرورت کے مطابق فنڈنگ کی جائے، طے پایا کہ بلدیاتی اداروں کو فنڈنگ کا ایک بڑا ذریعہ جسے ضلعی آکٹرائے ٹیکس ہے، اسے بڑھایا جائیگا لیکن اس سلسلے میں معقول جواز کے ساتھ سفارشات مرتب کرنی ہونگی، حکومت سندھ کے ہر بلدیاتی ادارے میں ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیول کا آڈٹ افسر مقرر ہوتا ہے جو مالیاتی امور کی بے قاعدگی کو دور کرنے کا ذمہ دار ہونے کے ساتھ مالیاتی کنٹرول بھی کرتا ہے، بلدیاتی ادارے کا ایک روپیہ بھی اس کے دستخط کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا، مالیاتی بے ضابطگیوں پر وہ سخت قسم کے اقدامات بھی کرسکتا ہے، ہر سرکاری ادارے میں مالیاتی کنٹرول اور ضابطگی کیلئے ایسا ہی ہوتا ہے چونکہ مالیاتی کمیشن کا تعلق وزارت خزانہ سے ہوتا ہے اس لیے صوبائی مالیاتی کمیشن کے پہلے اجلاس کے بعد سندھ کے تمام بلدیاتی اداروں میں تعینات آڈٹ افسران کو پابند کیا گیا کہ وہ اس ضمن میں تفصیلی اخراجات جس میں ملازمین کی تنخواہیں، اوور ٹائم و دیگر سہولیات کے ساتھ ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات اور ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پینشنز کی بھی تفصیلات فراہم کرینگے تاکہ اسٹیبلشمنٹ کے اخراجات کا درست تخمینہ لگانے کے بعد اس کو سامنے رکھتے ہوئے اور ترقیاتی و دیگر غیر ترقیاتی مصارف کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ کے آکٹرائے ضلعی ٹیکس کا حجم بڑھانے کے اقدامات کئے جا سکیں اب تک محکمہ خزانہ سندھ کو آڈٹ افسران کیجانب سے درست معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں وہ بلدیاتی ادارے کو ملنے والے فنڈز کے خرچے کی تفصیلات فراہم کر کے کمی ظاہر کر کے مزید فنڈز کا مطالبہ کر دیتے ہیں جس کا معقول جواز پیش کرنے میں وہ یکسر ناکام ہیں، نااہلی کی انتہا اس درجے تک ہے کہ وہ ملازمین کی تنخواہوں، پینشنز، بقایا جات کی معلومات دینے سے بھی قاصر ہیں جس کی سیدھی اور صاف وجہ بلدیاتی اداروں کے شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ میں سنگین غلطیاں ہیں، شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ میں ملی بھگت سے اپنے حساب سے ملازمین کو ایڈجسٹ کر دیا گیا ہے یہاں تک بھرتیاں تک کر دی گئیں ہیں جو اخراجات کو کئی گنا بڑھا چکی ہیں آڈٹ افسران کیونکہ خود اس تمام کام میں ملوث ہیں لہذا وہ حکومت سندھ کے وزارت خزانہ کو مبہم رپورٹ پیش کر کے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جسکا نقصان معصوم ملازمین دیر سے تنخواہوں کی ادائیگیوں کی شکل میں بھگت رہے ہیں جبکہ المناک پہلو یہ ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین جو کہ عمر کے اس حصے میں جب ان میں در بدر ٹھوکریں کھانے کی سکت جواب دے چکی ہے، ریٹائرڈ ملازمین آڈٹ افسران کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن تو دور کی بات ہے، بقایا جات سے بھی محروم ہیں کیونکہ بقایاجات اور پینشنز کی مد میں ملنے والی رقم کو جعلی بھرتی شدہ ملازمین میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ریٹائرڈ ملازمین زمین کی خاک چھاننے کے بعدکچھ رقم لینے میںکامیاب ہو جاتے ہیں یا مٹی اوڑھ کر ابدی نیند سو جاتے ہیں، یہ بات بالکل درست ہے ایک جھوٹ چھپانا ہے تو سو جھوٹ بولنے پڑیں گے ایسا ہی آڈٹ افسران اپنے آپ کو بچانے کیلئے سندھ حکومت سے بول رہے ہیں اور انکے ساتھ بلدیاتی اداروں کے افسران کی پوری زنجیر ہے جو انہیں اور اپنے آپ کو بچانے کیلئے غریبوں کی بد دعائیں لے رہے ہیں،بلدیاتی ملازمین کو اسوقت صحت جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم کردیا گیا ہے زائد ڈیوٹیوں کی انجام دہی پر اوورٹائم یا لیٹ سٹنگ الاؤنس، لون یا کوئی بھی مراعات حاصل کرنا دن بہ دن ناپید ہوتا جا رہا ہے اس کی وجہ بھی سندھ کے تعینات کردہ کرپٹ آڈٹ افسران ہیں جن کا مزاج اتنا سنگ دلانہ ہوگیا ہے کہ کسی کی موت کے بعد کوئی مالی فائل ان کے پاس پہنچ جائے تو یہ کمیشن لئے بغیر دستخط نہیں کرتے، مالیاتی کنٹرول کرنے والے افسران کا بلدیاتی اداروں میں یہ حال ہے تو دیگر سرکاری اداروں میں کیا کچھ نہیں ہوتا ہوگا ؟تحریر میں کوشش کی ہے کہ درست حقائق تنقید برائے تعمیر کو ملحوظ خاطر رکھ کر تحریر کئے جائےں ورنہ دیگر حقائق اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں ، جوبلدیاتی فنڈز کوہڑپنے کےلئے استعمال کئے جارہے ہیں ،ایسا نہیں ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے بلدیاتی اداروں کی فنڈنگ اتنی گئی گزری ہے کہ اس سے صفائی بھی نہ کروائی جاسکے مناسب حکمت عملی ہو تو فنڈز بڑھائے بغیر بھی کچرے سے پاک شہر و دیہات دستیاب ہو سکتے ہیں ،البتہ ترقیاتی کاموں کے لئے بلدیاتی اداروں کی حالت انتہائی خراب ہے ، سندھ کے بلدیاتی اداروں کے منتخب مئیرز، چئیرمینز اگر یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ مالیاتی کمیشن کا اجلاس ہوگا اور وہ دلائل پر دلائل دیکر اپنے بلدیاتی اداروں کیلئے فنڈز لے آئیں گے فی الوقت احمقوں کی جنت میں رہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں،یہ علیحدہ بات ہے کہ سندھ حکومت مہربانی کر کے اپنے تئیں آکٹرائے ضلعی ٹیکس کو بڑھانے کے احکامات جاری کردے لیکن ممکنات میں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے جس کی صاف اور ٹھوس وجہ ابتک بلدیاتی اداروں کی آڈٹ افسران کی جانب سے ترقیاتی و غیرترقیاتی مصارف کی تفصیلات کا فراہم نہیں کیا جانا ہے خاص طور پر ملازمین کے اخراجات سے سندھ حکومت کو آشنائی فراہم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے کیونکہ جب حقائق سامنے آئیں گے تو کئی کرپشن کے کیسز بے نقاب ہونے کے ساتھ ہزاروں جعلی بھرتیاں بھی سامنے آ جائیں گی جو کہ شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کی گئیں ہیں، کراچی کے مئیر وسیم اختر، ضلعی بلدیات کے چئیرمینز اور اندرون سندھ کے مئیرز اور چئیرمینز اچھی طرح سمجھ لیں کہ جب تک انکے آڈٹ افسران انکے متعلقہ بلدیاتی ادارے کے مالی اخراجات کی حقائق پر مبنی رپورٹ پیش نہیں کریں گے جس میں بلدیاتی اداروں کے محکمہ جات کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا اسوقت تک آکٹرائے ضلعی ٹیکس کے ساتھ دیگر فنڈنگ میں اضافہ ممکن نہیں ہے، مالیاتی کمیشنز کے اجلاس ہوتے رہیں گے اور مبہم رپورٹس پر ملتوی کئے جاتے رہیں گے کیونکہ صوبائی مالیاتی کمیشن اسوقت تک مالیات کا کوئی فارمولا طے نہیں کرے گا جب تک اسے ٹھوس شواہد کے ساتھ ثابت نہ کیا جائے کہ مزید فنڈزکیوں چاہیئیں ؟ لہذا بلدیاتی نمائندگان پہلے اپنے اپنے بلدیاتی اداروں میں سندھ حکومت کے تعینات کردہ آڈٹ افسران کوپابند کریں کہ وہ متعلقہ بلدیاتی ادارے کے ایک ایک پیسے کے خرچے کی درست رپورٹ محکمہ خزانہ سندھ کو فراہم کرےں اسطرح آئندہ کی کئی برائیاں جو مئیرز، چئیرمینز کے گلوں میں طوق کی طرح ڈالی جاسکتیں ہیں اسکا قلع قمع بھی ہوگا اور بلدیاتی اداروں کو انکی ضرورت کے مطابق فنڈنگ کو بھی یقینی بنانا آسان ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.