بیگم نصرت بھٹوصاحبہ، مادر جمہوریت

جنرل ضیائالحق کے دور آمریت میں جب شہید ذوالفقارعلی بھٹو کو پابند سلاسل کیاگیا تو پیپلز پارٹی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی تھی یہ دور اتنا خطرناک تھا کہ لوگ پیپلز پارٹی کانام لیتے تھے تو انہیں کال کوٹھریوں کی شکل دیکھنا پڑتی تھی ایسے میں شہید ذوالفقارعلی بھٹو کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹوصاحبہ اور صاحبزادی شہید بینظیر بھٹو صاحبہ ان سے آخری ملاقات کیلئے جیل تشریف لائیں تو شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے انہیں مشورہ دیا کہ حالات بالکل سازگار نہیں ہیں لہذا وہ کچھ عرصے کیلئے جلاوطنی اختیار کرلیں اور وہیں سے پارٹی کو مستحکم کرنے کی کوششیں کریں اسوقت شدید کرب و اذیت کے باوجود جب پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنا مشکل ترین مرحلہ تھا دونوں بہادر خواتین نے ملک سے باہر جانے کے بجائے ملک میں قیام کر کے پارٹی کو استحکام بخشنے کو ترجیح دی،1981 میں بیگم نصرت بھٹو صاحبہ نے مارشل کیخلاف ایم آر ڈی تشکیل دی اور مقصد بنالیا کہ مارشل لائ کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور جمہوریت کو ہر صورت بحال کروایا جائیگا جمہوریت کی بحالی کیلئے پیپلز پارٹی کے کارکنان نے بیگم نصرت بھٹو صاحبہ کی قیادت میں جولازوال قربانیاں دیں وہ آج بھی تاریخ کا سنہری باب ہیں جیلوں میں بند ہونے کے ساتھ کوڑوں پھانسیوں کی سزائیں جھیلنے والے کارکنان کسی قیمت جھکنے کو تیار نہیں تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آج وہ بیگم نصرت بھٹوصاحبہ کے ساتھ نہیں کھڑے ہوئے تو کل جمہوریت کا سورج کسی طور بھی پاکستان میں طلوع نہیں ہوگا بدترین ظلم وتشدد، سختیاں جیل کی صعوبتیں بیگم نصرت بھٹوصاحبہ کومرعوب نہیں کرسکیں اور نہ ہی بیگم نصرت بھٹو نے کبھی اپنے کارکنان کو تنہاچھوڑا جس کارکن کے ساتھ مشکل درپیش ہوتی تھی وہ وہاں موجود ہوتی تھیں اورایک شفیق ماں کی طرح کارکنان کاحوصلہ بڑھاتی تھیں اور کہتی تھیں کہ جمہوریت چاہیئے تو مشکلات کو جھیلنے کا ڈھنگ سیکھنا ہوگاآمریت کا ڈٹ کرمقابلہ کرناہوگا وہ شہیدذوالفقار علی بھٹو کی مثال دیتیں کہ انہوں نے جمہوریت کی خاطر پھانسی کو قبول کر لیامگرآمر کے سامنے سر جھکانا پسندنہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پاکستان میں جمہوریت ہی ترقی کی ضامن ہے 1979 میں ذوالفقارعلی بھٹوکی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی چئیر پرسن منتخب ہونے والی بیگم نصرت بھٹو صاحبہ نے جمہوریت کی بحالی کیلئے دردناک عذاب تک کو جھیلنا منظور کیا مگر آمریت سے سمجھوتہ کرنے کو کبھی ترجیح نہیں دی کئی مواقع آئے کہ وہ سمجھوتہ کر کے سکون کی زندگی گزار سکتی تھیں اور پاکستان چھوڑ کر کہیں بھی جاکر بس جاتیں لیکن انہوں نے جمہوریت پر ہر چیز کو قربان کردیا مملکت خدادادپاکستان میں جمہوریت کا قیام ان کیلئے ہمیشہ مقدم رہا اور ان کا یہ مشن جنون اختیار کرتا چلاگیاوہ ظلم وجبر برداشت کرتی رہیں لیکن اپنے موقف پر ڈٹے رہنا وہ شہید زوالفقار علی بھٹو سے سیکھ چکی تھیں ہرمرحلے پر اذیتیں جھیلیں مگراصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ان کی بلاتھکان کوششوں سے بالآخر1988 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت قائم ہوئی اور محترمہ بینظیر بھٹوصاحبہ وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئیں گوکہ بحالی جمہوریت کے بعد جمہوریت کا سلسلہ کبھی تھمتا تو کبھی سنبھلتا رہا مگر آج یہ سلسلہ کئی سالوں سے لگاتار جاری وساری ہے پوری دنیامیں جمہوری ممالک کی سیاسی قیادت جہاں شہید ذوالفقار بھٹو کو جمہوریت کے استحکام کے لحاظ سے اہمیت دیتی ہے وہیں بیگم نصرت بھٹوصاحبہ کی آمریت کےخلاف جدوجہد کو آج بھی انتہائ قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے بیگم نصرت بھٹو صاحبہ نے وقت اورحالات کومدنظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کی قیادت اپنی بیٹی شہید بینظیر بھٹو کو سونپی وہیں خود ان کی بھرپور معاونت کرتی رہیں اور یہ سلسلہ ان کی طویل علالت کے باوجود بھی جاری رہا لیکن 23 اکتوبر 2011 کو وہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں جس کے بعد ایک آمریت کیخلاف سینہ سپر رہنے کادور اختتام پذیر ہوا لیکن ان کی وفات تک شہید بینظیر بھٹو ان کی تربیت میں مکمل طور پر جمہوری سیاستداں بن چکی تھیں جسے انہوں نے ثابت بھی کیا 23 اکتوبر 2011 کوجمہوریت کے لئے بے مثال قربانیاں دینے کا ایک طویل باب بند ہوگیا لیکن پیپلز پارٹی کے اس دور کے کارکنان، رہنما آج بھی ان کی جمہوریت کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور برملا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ جرات مندی کی مثال بن کر بیگم نصرت بھٹوصاحبہ نے جمہوریت اور پیپلز پارٹی کو جو دوام بخشا ہے اس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی ملنا مشکل ہے۔