تہران ‘ماسکو کے درمیان جوہری پلانٹ کی تعمیرکیلئے مذاکرات شروع

Iran and Russia

تہران جدت ویب ڈیسک :ایران کے وزیر توانائی رضا اردکانیان نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ نئے جوہری پلانٹ کی تعمیرات کے لیے مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے اور منصوبے سے تقریباً 3 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر برائے توانائی رضا اردکانیان کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس جوہری بجلی پیدا کرنے کی موجودہ صلاحیت 1 ہزار میگا واٹ ہے۔دوسری جانب ایران نے جوہری معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے رواں برس اگست میں مزید پابندیاں عائد کی۔قبلِ ازیں ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے تہران کے ساتھ محاذ آرائی کی کوشش کی تو وہ لڑائی ’جنگوں کی ماں âMothers of all warsá‘ ہوگی۔ایران کے دارالحکومت تہران میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے حسن روحانی کا کہنا تھا کہ اگر ایران کےساتھ امن کے حوالے سے اقدام کیا جائے تو وہ دنیا میں قائم تمام امن معاہدوں کی ماں ہوگا، اور اگر جنگ کی گئی تو وہ جنگ دنیا میں ہونے والی تمام جنگوں کی ماں ہوگی۔حسن روحانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا، ایران کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی فروخت سے نہیں روک سکتا۔واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے اتحادی ممالک کی تجاویز اور مشوروں کو رد کرتے ہوئے 8 مئی کو ایران کےساتھ عالمی جوہری معاہدہ منسوخ کردیا تھا جو سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دورِ حکومت میں 2015 میں امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا، جس میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس شامل تھے۔22 مئی کو امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ امریکا کی عائد پابندیوں کی پاسداری نہیں کرے گا تو اسے ‘تاریخ کی سخت ترین پابندیوں’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔7 جولائی کو برطانیہ، فرانس، جرمنی سمیت روس اور چین نے ایران کو یقین دہانی کرائی تھی کہ امریکا کی جانب سے ’ایران جوہری معاہدے 2015‘ سے دستبردار ہونے کے باوجود تہران کو معاہدے کے تحت اقتصادی فوائد حاصل رہیں گے۔امریکا کے اس معاہدے سے دستبرداری کے بعد ایران اور واشنگٹن کے تعلقات میں سرد مہری برقرار ہے۔22 جولائی کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جوہری معاہدے سے متعلق امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تجویز مسترد کرتے ہوئے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ایران میں روس کا تعمیرکردہ ایک جوہری ریکٹر فعال ہے،روس کے ساتھ 2014 میں معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران میں 8 سے زائد ریکٹر تعمیر کرنے تھے۔#/s#

Leave a Reply

Your email address will not be published.