جب چڑیاں چگ جائیں گی کھیت 

ےہ پاکستان کا ایک بہت بڑاالمیہ ہے کہ ےہاں مجرم کو تحفظ فراہم کیاجاتاہے مجرم کیساتھ احساس ہمدردی کے رویے کااظہار کیا جاتا ہے مجرم کو بچانے کے لیے حکمران و انتظامیہ سمیت سب اکٹھے ہوجاتے ہیںحتی کہ پولیس بھی مجرم کو اپناوی آئی پی مہمان تصورکرتی ہے رہی بات عدلیہ کی تو ےہاں پر بھی مجرم کے ساتھ خصوصی رعائتی برتاو¾ کیا جاتاہے اور عدلیہ کی معاونت کرنے والے وہ وکلائ جومعاشرے کو انصاف کی فراہمی میں تعاون کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھی مجرم کو معصوم ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیتے ہیںوزیراعظم ےوسف رضا گیلانی پر جرم ثابت ہوگیا ۔ےہ وہ جرم تھا جو سر عام فخر کے ساتھ کیا گیا تھااس میں نہ تو قوم کا کوئی مفاد تھا اور نہ ہی ملک کا اگر مفاد تھا تو وہ صرف اور صرف ایک شخص کا ذاتی مفاد تھا جس کی خاطر ہمارے ملک کے قانون اور آئین میں دراڑیں ڈال دی گئی ہیں وہ پارٹی جس کے بانی اس ملک کے آئین کے بانی ہیں اسی پارٹی نے آئین کو گھر کی لونڈی کا درجہ دے رکھا ہے ویسے تو ےہ جرم دیگر جرائم کی مناسبت سے نہایت معمولی تھا اس طرح کے جرائم تو ہمارے حکمران اپنے سینوں کے ساتھ تمغوں کی طرح سجائے بڑے فخر سے دندناتے پھر رہے ہیں ان کی ایک جیب میں قانون ہے تو دوسری جیب میںآئین اور جب ان کا جی چاہتا ہے رومال کی طرح اپنا جرم صاف کر کے اسے قوم کے منہ پر ماردیتے ہیںعدلیہ نے بھی ےہ ثابت کردیا کہ مجرم کا عہدہ اور اس کی حیثیت کے مطابق ہی سزا دینی چاہیے پہلے تو ہین عدالت کے کیس کے فیصلہ میں کئی ماہ لگادیئے گئے قوم کا کروڑوں روپیہ اس پر ضائع کردیا گیا ساری انتظامی مشینری استعمال کی گئی اور عدلیہ کے انتہائی قیمتی وقت کا بھی ضیاع کیا گیا اور اس معمولی سے کیس کی وجہ سے بہت سارے اہم کیسوں کے فیصلے بھی مزید تاخیر کا باعث بنے ہمارے سامنے وحیدہ شاہ کیس کی مثال موجود ہے مجرم نے جرم کیا عدالت نے فیصلہ سنا ےا اور مجر م کو سزا ہوگئی اس کو کہتے ہیں انصاف کی فراہمی ےہ کہاں کا نصاف ہے کہ ایک مجرم کی خاطر انصاف کی فراہمی کے طور طریقے ہی تبدیل کردیے جائیں اور مجرم کو مزید جرائم کا مرتکب ہونے کا موقع فراہم کیا جائے اس سارے معاملے میں جہاں مجرم قصور وار ہے وہاں عدالت عالیہ اس سے بھی بڑی قصور وار ہے جس نے مجرم کے جرم کی نوعیت کی بجائے اس کی حیثیت اور اس کے عہدے کو مدنظر رکھا اب عوام کو سپریم کورٹ کے باقی معاملات کی بھی سمجھ آرہی ہے کہ ےہ سپریم کورٹ کے بس سے باہر ہے کہ وہ کسی بھی کیس کا فیصلہ کرے عدلیہ کے خوف کا اظہار بھی سب پر واضح ہوگیا ہے عدلیہ نے اب عزت بچانے کے لیے ےہی رستہ اختیار کیا ہے کہ فیصلے میں زیادہ سے زیادہ تاخیر کی جائے درمیان میں دیگر غیر اہم نوعیت کے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے اور عدلیہ اپنے آپ کوان معاملات میں مصروف رکھ کر اہم کیسوں کے نتیجے تک پہنچنے سے بچ جائے گی انصاف کی فراہمی میں اس تعصب کے بھیانک نتائج نکلیں گے تاریخ میں عدلیہ کو مجرموں کی معاون قرار دیا جائے گا اور موجودہ حکومت کے ختم ہونے تک عدلیہ اپنی عزت اور وقار بھی کھو دے گی عدلیہ کاکردار ان سیاستدانوں کی مانند ہے جو عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ ان کا ووٹ حاصل کرکے وہ عوام کی بھر پور خدمت کریں گے جوں ہی وہ اقتدار میں آتے ہیں عوام کی دھلائی شروع ہوجاتی ہے اور پھر بیچاری عوام نہ ادھر کی نہ ادھر کی رہتی ہے ےہی کچھ عدلیہ کرنے جارہی ہے عوام سے انصاف کی فراہمی کا وعدہ کیااور جب انصاف مہیا کرنے کا وقت آےا تو مختلف حیلو ں بہانوںسے راہ فرار اختیا ر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اب کیا فرق رہ گیا ہے عدلیہ اور سیاست دانوں میں اس سے زیادہ انصاف تو تھانے کاایس ایچ او ہی فراہم کردیتا ہے جو سفارشوں اور رشوت کے باوجود کبھی نہ کبھی ضمیر کی آواز پر کسی نہ کسی غریب پر ترس کھا لیتا ہے کیا دوسرے اداروں کی طرح ہماری عدلیہ کا ڈھانچہ بھی کمزور ہوگیا ہے کیا عدالت کی ساکھ عزت اور وقار قوم کے مفاد کی بجائے ذاتی انا کا شکار ہو جائے گی کیا عدلیہ بھی مک مکائو اور ڈنگ ٹپائو پالیسی کی راہ اختیا ر کر رہی ہے ےہ وہ سوالات ہیں جو اس وقت سب کے ذہنوں میںگردش کررہے ہیں عدلیہ کی معاونت اور انصاف اور عوام میں پل کا کردار ادا کرنے والے وکلائ حضرات بھی اپنی طاقت کے نشے میں دھت سب کچھ بھولے ہوئے ہیں انہیں ان کے فرائض کی ادائیگی اور ذمہ داری کا احساس ہی نہیں رہا وہ اپنا قیمتی وقت اور اپنی قیمتی طاقت کو کھو رہے ہیں ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہو نے جارہا ہے جو مشرف دور میں متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ہوا تھا سب مولوی حضرات نے پہلی مرتبہ اسمبلیوں میں اتنی نشستیں حاصل کی تھیں اور حکومت وقت میں اقتدار کا مزا بھی چکھا تھا مگر وہ نہ تو اسلام کے لیے کچھ کر سکے اور نہ ہی اس قوم کے لیے ان کے اپنے ہی دور میں مدارس پر پابندیاں لگیں ان کے اپنے ہی دور میں پاکستان اور افغانستان میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا گیا ان کے اپنے ہی دور میں اسلامی نتظیموں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کو پابندیوں اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا جس طرح پیپلز پارٹی نے پیپلز پارٹی کوخودنقصان پہنچاےا مسلم لیگ نے خود ہی مسلم لیگ کے ٹکڑے کر دیے مذہبی سیاسی جماعتوں نے خود ہی اپنے پائوں پر کلہاڑیاں ماریں اسی طرح عدلیہ بھی خود ہی اپنا نقصان کرنے جارہی ہے جو وقت کی طاقت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہوئے عوام کے اعتماد کی خوش فہمی میں مبتلاہے اور عدلیہ کی بنیاد بننے والے وہ ستونâ وکلائ حضراتá جن کی مضبوط دیواروں پر عدلیہ کا ڈھانچہ قائم ہے وہ بھی اب لڑکھڑا رہے ہیںایک دوسرے کا نقصان کررہے ہیں کیا دوسروں کی طرح عدلیہ اور وکلائ بھی بات کو تب سمجھیں گے جب بہت دیر ہوچکی ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں راہِ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.