جشن آزادی۔۔۔۔۔میئر کراچی اور کے ایم سی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا انقلابی اقدام

قوموں کی آزادی کا دن ان کے لئے عید کے تہوار سے کم نہیں ہوتا ۔ جو قومیں اپنی آزادی کو بھول جاتی ہیں وہ عبرت کا نشان بن جاتی ہیں۔ پاکستانی قوم وہ زندہ قوم ہے جو اپنا جشن آزادی بھرپور اور قومی جزبے کے تحت مناتی ہے۔ پاکستان بنے ہوئے 70سال ہو چکے ہیں۔ پاکستانی قوم جس طرح جشن آزادی پر یکجا ہو جاتی ہے کاش ہمیشہ کے لئے ایسی ہوجائے اور قومیت کے کالم میں ہم صرف پاکستانی لکھیں تو پاکستان کی قسمت بدل جائے۔ تاہم یہ ایک الگ بحث ہے۔ اس بار شہر کراچی میں سب سے پہلے پاکستان کے یوم آزادی کی مہم ایم کیو ایم پاکستان نے شروع کی۔ 26جولائی کو ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے شایان شان جشن منانے کے اعلان کے علاوہ شہر کی دیواروں پر جشن آزادی کی چاکنگ بھی شروع ہوگئی ۔ جو سوشل میڈیا پر نظر بھی آئیں۔ یہ ایک مثبت سمت میں اچھی سوچ کی علامت ہے اور اسکی دوسری کڑی 31جولائی کو نظر آئی جب میئر کراچی وسیم اختر اور ڈپٹی میئر ارشد عبداللہ وہرہ نے کے ایم سی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ساتھ کشمیر روڈ پر واقع کے ایم سی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے دفتر میں جشن آزادی کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے 14روزہ جشن آزادی کے پروگراموں کا اعلان کیا۔ جو کراچی کے عوام کے لئے انتہائی خوش گوار اعلانات تھے۔ یکم اگست سے 14اگست تک جشن آزادی کا نام چیمپینئز کا پاکستان کے عنوان سے منسوب کرنے کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان سے محبت کو اجاگر کرنے کے لئے یہ ایک اچھا قدم ہے ۔ اس پروگرام کے تحت 20ہزار قومی پرچم شہر بھر میں لگائے جائیں گے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے ڈپٹی میئر ارشد عبداللہ وہرہ ، قائد ایوان اسلم آفریدی، اولمپیئن اصلاح الدین، سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب محمد ، بلدیہ شرقی کے چیئرمین معید انور، بلدیہ وسطی کے چیئرمین ریحان ہاشمی، پاکستان مسلم لیگ âنá کے پارلیمانی لیڈر امان اللہ خان آفریدی، اے این پی کے پارلیمانی لیڈر عالم زیب آلائی، جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر جنید مکاتی، جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر سید اکبر شاہ ہاشمی، کے ایم سی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر جمیل فاروقی، نائب صدر محمد نذیر لاکھانی، جنرل سیکریٹری محمد بلال منظر، سیکریٹری اطلاعات علی حسن ساجد، اراکین مجلس عاملہ محمد رضوان خان ، محمد اسماعیل، ڈاکٹر شارق و دیگر کے ہمراہ جشن آزادی منانے کا اعلان کیا جس کی خاص بات یہ بھی تھی کہ بلدیہ عظمی کراچی اسپانسر شپ پر یہ پروگرام کرارہی ہے اس ضمن میں سرکاری اخراجات نہیں کئے جا رہے۔میئر کراچی کے اعلان کے مطابق شہر کے مختلف شاہراہوں اور چوراہوں کو سجایا جائے گااوروہاں قومی پرچم کے بڑے غبارے لگائے جائیں گے۔ شہر کی بڑی اور تاریخی عمارتوں کو سجایا جائے گا ۔ پاکستان کے نامور کھلاڑیوں کی بڑی بڑی تصاویر اور کٹ آئوٹس شہر بھر میں لگائے جائیں گے۔ یکم اگست کو خداد اد چورنگی سوسائٹی آفس پر قومی پرچم لہرانے کی تقریب منعقد کرکے جشن آزادی کی تقریبات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ میئر کراچی کے دیگر پروگراموں میں 2اگست کو نمائش چورنگی پر قومی پرچم لہرایا جائے گا۔ 4اگست کو فائیو اسٹار چورنگی پر قومی پرچم لہرایا جائے گا۔ 5اگست کو گرانٹ فلیگ تقریب منعقد ہوگی۔ اسکے علاوہ سفاری پارک اور مختلف جگہوں پر رنگا رنگ پروگرام بھی ترتیب دیئے گئے ہیں۔ کراچی میں جسطرح جشن آزادی منایا جا رہا ہے اور ایم کیو ایم پاکستان جس طرح پاکستان کے جشن آزادی میں حصہ ڈال رہی ہے وہ خوش آئند ہے لیکن قومی سیاست کرنے والی جماعتیں سیاست میں لگی ہوئی ہیں انہیں وزیر اعظم اور دوسرے معاملات کی فکر لاحق ہے۔ خود عمران خان کی مثال لے لیں نئے پاکستان کی بات کرنے والے سیاست داں نے اسلام آباد کے پریڈ گرائونڈ میں نواز شریف کے لتے لینے میں تو دیر نہیں لگائی ۔ لیکن قوم کی یکجہتی کے لئے شاندار جشن آزادی کا اعلان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ن لیگ، پی پی پی ، مسلم لیگ âقá، مسلم لیگ فنکشنل، اے این پی، جماعت اسلامی سمیت کسی مزہبی سیاسی جماعت نے قومی اتحاد اور جشن آزادی کی بات اب تک نہیں کی۔ اس لئے ہم ایم کیو ایم پاکستان ، میئر کراچی اور کے ایم سی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کو آغاز اور سب سے پہلے جشن آزادی منانے پر مبارکباد اور اسکی تقلید کے لئے سب جماعتوں کو مشورہ دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.