حیدرآباد شہر سانحات

لسانی سیات کا دکھ پاکستان کی تکلیف اور کمزوری رہا ہے۔ شہید ملت لیاقت علی خان بھی اسی سیاست کا شکار ہوئے۔ مجیب الرحمان کو بھی لسانی سیاست کھا گئی۔ ملک کے وزیر اعظم لسانی سوچ رکھنے والوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ملک میں اگر کوئی چیز پروان نہیں چڑھی تو وہ سب سے پہلے پاکستان کی سوچ تھی۔ لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کو ترجیح ملے اور تمام تر ملک دشمن قوتیں اس کرہ ارض سے ختم ہوں۔ لسانیت کا ذہر بھی رفتہ رفتہ ختم ہونا چاہئے جس نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا۔ لیکن اسکے لئے ضروری ہے کہ ان حالات اور واقعات پر بھی نظر رکھ جائے جو ملک میں سانحات اور لسانیت کی وجہ بنے۔ کراچی صوبہ تحریک، مہاجر پشتون پنجابی اتحاد، سندھ صوبہ ، مہاجر قومی موومنٹ، مہاجر قومی موومنٹ حقیقی، متحدہ قومی موومنٹ، ایم کیو ایم او آر سی، پاک سر زمین پارٹی، مہاجر اتحاد تحریک، مہاجر قومی جرگہ، مہاجر نیشنل موومنٹ، مہاجر نام پر ہر طرح کی جماعتیں اور ہر دور میں جنم لیتی آئی ہیں ۔ کچھ زندہ ہیں کچھ ختم ہو چکی ہیں ۔ لیکن ہمیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کیوں بنیں اور انکے نتیجے میں سانحات کا نتیجہ کیا نکلا؟سانحات کا لفظ ہی افسردگی اور تکلیف کے احساس سے پر ہوتا ہے ۔بدقسمتی سے ہمارا ملک سانحات اور دن بدن عجیب و غریب واقعات سے بھر رہا ہے۔ ایک طرف اسے بین الاقوامی سازشوں کا سامنا ہے تو دوسری جانب ملک کے اندر موجود تخریبی قوتیں ہیں جو اسکے استحکام کی راہ میں رکائوٹ بنی رہتی ہیں۔ پاکستان میں سانحات کا ذکر ہو تو ملک کے دو لخت ہونے کا سانحہ بھی ہے اور ملک کے اندر ریاستی دہشت گردی کا بھی ۔فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان میں حکومتیں اور ارباب اختیار کا سانحات کو جانچنے اور اس پر کاروائی کا معیار دہرا کہیں تہرا رہا ہے جس سے انصاف نہ ملنے اور عصبیت کی بو بھی آتی ہے ۔ سانحات پر اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرنے کے نتیجے میں دشمن عناصر فائدہ اٹھاتے رہے ہیں ۔ کراچی میں اورنگی ٹائون اور علیگڑھ و قصبہ کالونی کے واقعات جو 1986میں ہوئے نہ انکا کوئی پرسان حال ہے اور نہ اس پر آج تک اسکے ذمہ دار پکڑے گئے۔ لیکن سانحات کراچی و حیدر آبادکے ہوں یا ملک کے کسی بھی حصے کے انکی اہمیت ارباب اختیار کی نظر میں ایک ہونی چاہئے۔ ماڈل ٹائون لاہور کا سانحہ تو بڑے چرچوں اور عدالت عظمی کی نظر میں آکر کسی ایک انجام کی جانب بڑھا تو یہ امید ہو چلی کہ اسکے بعد دیگر سانحات پر جودیشل انکوائری اور ظالم کو سزا دینے کی باری آئے گی ۔لیکن سانحہ ماڈل ٹائون بھی ایک داستان بن کررہ گیا۔۔ کراچی اور حیدر آباد میں بڑے بڑے سانحات ہو چکے ہیں ۔ہم ہر سال ان واقعات کو یاد کرتے ہیں۔ اس دن قران خوانی اور فاتحہ خوانی کے علاوہ انصاف کے لئے آواز اٹھائی جاتی ہے ۔ لیکن ارباب اختیار کے پاس کوئی جواب نہیں۔ 30ستمبر 1988کو قاتل آزاد تھے ا ور حکومتی سرپرستی میں حیدر آباد کے گلی کوچوں اور مارکیٹوں میں آکر 250افراد کو کھلی دہشت گردی کرکے موت کی نیند سلا کر چلے گئے۔ نہ تحقیقات درست ہوئیں نہ اصل قاتل پکڑے گئے بلکہ آزاد بھی ہوگئے کیونکہ حکومت اور انتظامیہ ان ہی کے لوگوں کی تھی جو اس کھیل کا حصہ تھے۔ جبکہ 26۱ور 27مئی 1990کو پکا قلعہ واقعات بھی اسی کی دوسری قسط سے کم نہ تھے ۔ چہرے کوئی اور تھے۔ کم و بیش 200سے زائد حیدرآباد کے شہری جس میں بزرگ ، نوجوان ، خواتین اور بچے شامل تھے شہید ہوئے ۔اسوقت کی حکومتوں نے ان واقعات کو نہ صرف نوٹس نہیں لیا۔ بلکہ وہ دہشت کی علامت سمجھے جانے والے افراد آج بھی آزاد ہیں ۔سانحات پر ایکشن لینے کی روایت بھی عدالت کے ذریعے ہوئی ہے اور یہی امید نئے پاکستان میں ہزاروں شہدائ کے لواحقین کے لئے ہے جو انصاف کے منتظر ہیں ۔ کسی سانحہ کو 35برس گزر گئے ہیں تو کسی کو33سال لیکن دہشت گرد آزاد ہیں اور لواحقین کسی معجزے کے منتظر۔پاکستان لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیکر بنا ۔خطے پر واحد اسلامی نظریاتی ملک ہے۔ جس کے بننے کے بعد اسکا نظم و نسق چلانے میں بانیان پاکستان کا کلیدی کردار ہے۔ آج جبکہ تحریک انصاف حکومت میں ہے اور ملک کے صدر عارف علوی ، گورنر عمران اسماعیل ، وفاقی وزیر علی زیدی، اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی بھی پاکستان بنانے والے خاندانوں میں سے ہیں ۔ متاثرہ خاندانوں کی امیداور آس بڑھ گئی ہے۔ ملکوں کی تاریخ میں معاشرہ بہت اہمیت رکھتا ہے اور جس معاشرہ میں انصاف کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں پہچان لسانی تقسیم اور شناخت وطن کے بجائے قومیت کی بنیاد پر ہو جاتی ہے تیسری قوت با آسانی اپنا جال بچھا کر اسکی قوت کو منقسم کر نے کی کوشش کرتی ہے۔ نتیجے کے طور پر وہ معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قتل بھی اسی کی ایک کڑی ہے اور اسکے بعد مردم شماری سے لیکر کراچی کو ملک کے دارلخلافے کی منتقلی تک مہاجرین جو سچے پاکستانی ہیں ۔ انہیںمارشل لائ اور جمہوری دونوں ادوار میں کچل کر رکھ دیا گیا ۔ انہیں ہر مردم شماری
میں کم گن کر اور کوٹہ سسٹم و دیگرطریقہ کار سمیت ملازمتوں اور دیگر حقوق سے محروم کردیا گیا۔سانحات کا آغاز مہاجر قومی موومنٹ کے قیام کے بعد سے ہوتا ہے جس نے 1986میں نشتر پارک کی موسلا دھار بارش میں ہونے والے جلسے سے جو 8اگست 1986کو منعقد ہوا پورے پاکستان کو چونکا دیا تھا ۔ 31اکتوبر1986کو حیدر آباد پکا قلعہ کے جلسے کے موقع پر کراچی اور حیدرآباد میں سہراب گوٹھ اور مارکیٹ چوک حیدرآباد پر جرائم پیشہ افراد نے سرکاری سرپرستی میں قافلوں پر اندھا دھند فائرنگ کرکے درجنوں ایم کیو ایم کے ورکرزشہید کر دیئے ۔ منشیات فروشوں اور انڈر ورلڈ نے اورنگی ٹائون اورقصبہ کالونی پر حملے کئے ۔ قتل عام اور خواتین کی عصمت دری کی گئیں۔ اس سانحہ پر آج تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔۔ 1987میں جب مہاجر قومی موومنٹ نے حق پرست گروپ کے نام سے کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ 1988میں قومی اورصوبائی کا الیکشن جیتا۔ لیکن بیوروکریسی اور متعصب سیاست دانوں نے اس تبدیلی اور غریب گھرانوں سے منتخب ہو کر آنے والے محب وطن نمائندوں کو تسلیم کرنے کے بجائے نفرت اور تعصب کی سیاست کو فروغ دیا۔ جسکا ردعمل ان مہاجر دشمن عناصر کی سرپرستی میں 30ستمبر8 198کو ہوا جب حیدرآباد میں جمعہ کی رات سات بج کر 55منٹ پر حیدر آباد اور لطیف آباد میں بیک وقت 100 کے لگ بھگ دہشت گردوں نے جو کئی کاروں میں سوار ہوکر آتشیں اسلحے سے لیس 99فیصد سے زائد گنجان آباد مہاجر آبادی والے علاقوں پرحملہ آور ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کرکے ،ایم کیو ایم کے دفاتر ،حیدر آباد شہر کے دو مرکزی مقامات پر دستی بم پھینکے گئے۔ حیدرآباد کے میئر آفتاب شیخ کے گھر حملہ کیا گیا۔ قتل و غارت گری ایک گھنٹے تک اس طرح کی گئی جیسے ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کردیا ہو۔ دہشت گردوں نے 250افراد کو شہید کردیا۔ جس میں خواتین ، بچے، نوجوان ، بزرگ سب شامل تھے۔ فسطائیت کی آخری حد اس وقعہ میں شامل تھی۔ کم و بیش اتنے ہی افراد ذخمی بھی ہوئے۔ان حملوں کے وقت پیپلز پارٹی برسر اقتدار تھی اور ایم کیو ایم اسکی حلیف جماعت تھی ۔ اسوقت کے اخبارات اور بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق جن افراد نے یہ سب کیا انہیں پی پی پی کی مکمل آشیرباد حاصل تھی۔ اس میں کوئی ابہام اس لئے نہیں رہا کہ ماضی میں پیپلز لوکل گورنمنٹ بلدیاتی بل اور حال ہی میں فروغ نسیم کے بیان کے بعد پی پی پی کی حکومت کے دور میں قوم پرستوں سے جو کچھ کرایا گیا وہ ماضی میں ہونے والے واقعات اور طرز عمل کی واضع نشاندہی کرتا ہے۔ 30ستمبر 1988کے قتل عام میں ہیر آباد میں 8افراد شہید ہوئے ۔ جہاں خوف کا یہ عالم تھا کہ کئی گھنٹوں تک انکی لاشیں اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ قلعہ چوک جہاں کراچی سے خریداری کے لئے افراد جن میں زیادہ ترخواتین اور بچے شامل تھے انکو بھی بے رحمانہ طریقے سے شہید کیا گیا۔ گرونگر چوک پر اندھا دھند فائرنگ میں متعدد شہادتیں ہوئیں ۔ تلسی داس روڈ گاڑی کھاتہ پر موت سے بچنے کے لئے دکانوں کے شٹر گرا کرچھپنے والوں کو شٹر اٹھا کر موت کی نیند سلادیا گیا۔ کالی موری میں ایک مہاجر کو دردناک طریقے سے گولی مار کر شہید کیا گیا۔ یونٹ نمبر 9کی مرکزی سڑک پر لطیف نیازی اسکول کے سامنے کئی افراد کو شہید کیا گیا۔ یونٹ نمبر 11میں مدینہ مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لئے داخل ہونے والے اور سرکل آفس ایم کیو ایم پر متعدد افراد کو شہید کیا گیا۔ لطیف آباد اور حیدر آباد کا کوئی علاقہ ایسا نہیں تھا جہاں قتل و غارت گری نہ ہوئی ہو اور ماتم نہ ہو رہا ہو۔ لوگ مدد کے لئے بھاگتے رہے چینخ و پکار ہوتی رہی لیکن کوئی بھی انکی مدد کرنے والا نہیں تھا۔ رات بھر ایمبولینس آتی رہیں اور لاشیں اٹھاتی رہیں ۔ لیکن حکومت اور انتظامیہ چین کی نیند سوتے رہے ۔ 30 اگر کہیں کوئی آواز اٹھا رہا تھا تو وہ ایم کیو ایم تھی ۔30ستمبر 1988کو جن علاقوں میں سب سے زیادہ قتل و غارت گری ہوئی اس میں ہیر آباد ، کالی موری، مارکیٹ چوک، سول اسپتال ،لبرٹی مارکیٹ، سرفراز کالونی، تلک چاڑی ، چھوٹی گٹی، کوہ نور چوک ، گاڑی کھاتہ، کھوکھر محلہ، فقیر کاپڑ، سرے گھاٹ، سلاوٹ محلہ،مسان روڈ ، اسٹیشن روڈ، قلعہ اور ملحق علاقے، لطیف آباد 2،5، 7،8، 9،10اور11وغیرہ شامل تھے۔حیدر آباد سندھ کا وہ شہر ہے جسکی تاریخی حیثیت ہے ۔ کراچی کے بعد یہی شہر ہے جس کی معاشی ، سیاسی ، تاریخی حیثیت موجود ہے۔ یہ سندھ کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر رہا ہے ۔ یہاں نیرون نامی حکمراں تھا جس نے حیدرآباد کا نام نیرون کوٹ رکھا تھا۔ اس زمانے میں گجو ٹکر نامی âبیریبن ہلá پہاڑ پر پرستش یعنی مزہبی رسومات کا مرکز تھا۔ جو دریائے سندھ کے نزدیک تھی۔ یہ تاریخ قرون وسطی کے اوقات کی ہے۔ سندھ کے تاریخی دارلحکومت حیدرآباد تمام صوبائی مواصلات کا مرکز رہا ہے۔ سڑک ریل واٹر ویز ، اور ہوا۔ اسکی بنیاد 1768کی ہے اور یہاں زیورات، سلک، چاندی اور سونے کا کام مشہور تھے۔پاکستان بننے کے بعد یہ شہر سندھ کا دارلحکومت رہا اور یہاں کی چوڑیاں اور مختلف سوغات مشہور ہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان بننے کے بعد یہ شہر بھی نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ لیکن 1986میں اکتوبر میں اس شہر میں ایم کیو ایم کے جلسے کے موقع پر پکا قلعہ کے مقام پر اور مارکیٹ چوک حیدرآباد میں کئی کارکن شہید کئے گئے جو پکا قلعہ پر مہاجر قومی موومنٹ کے جلسے میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ اسکے بعد 1987میں حیدرآباد کا میئر ایم کیو ایم کا بننے کے بعد سندھ میں تعصب کی حد کردی گئی۔ یہ عمل ہر مرتبہ پی پی پی کی حکومت میں ہوا۔ 30ستمبر 1988دوسرا واقعہ تھا لیکن یہ دلخراش واقعہ 250افراد کی ناگہانی شہادت کا سب بنا جس میں قانون نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ایک سے سوا گھنٹے تک حیدرآباد میں مہاجروں کا کوئی علاقہ محفوظ نہیں تھا جہاں قتل و غارت گری نہ ہو رہی ہو۔ 275سے زائد افراد ذخمی ہوئے متعدد معزور ہوگئے۔ لیکن اسکے قاتل آج بھی آزاد ہیں جو مملکت پاکستان کے لئے ایک چیلنج ہے۔ حیدرآباد کو لسانی بنیادوں پر ایک مرتبہ نہیں کچلا گیا ۔تیسرا بڑا واقعہ دو سال بعد26مئی اور27مئی 1990 میں ہوا۔ اسوقت بھی پی پی پی برسر اقتدار تھی یہ آپریشن فوج نے کرفیو لگا کر شروع کیا تھا۔ لیکن اس آپریشن کو کرنے والے جیلوں سے لائے گئے جرائم پیشہ افراد ، بدنام زمانہ ایگل اسکواڈ نے کیا تھا۔ آپریشن کیوجہ کچھ سیکورٹی فورسز کے مسنگ پرسنز کی تلاش تھی۔ حیدر آباد آپریشن جس میں کرفیو لگار تلاشی لی جا رہی تھی ہرطرح کے مواصلاتی رابطے ختم کردیئے گئے تھے ، گیس ، پانی ، بجلی بند کردی گئی تھی ، مواصلاتی رابطے ختم کردیئےگئے تھے۔ 26مئی 1990کو 11.30منٹ پر ایگل اسکواڈ نے پکا قلعہ پر حملہ کیا ۔ یہ بھی رپورٹ ہے کہ سپلائی کے پانی میں شراب ملادی گئی تھی ۔ ایگل اسکواڈ پولیس اور دیگر قانون نافذرنے والے اداروں نے آپریشن شروع کیا تھا جو د انکے مطابق ہشت گردوں کے خلاف تھا ۔ لیکن تلاشی کے دوران پہلے ہی ماں باپ کے سامنے انکے بچوں کو شہید اور خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ بزرگوں کو تھپڑ رسید کئے گئے اور بچوں تک کو ہراساں کیا گیا۔ 26مئی کی پوری رات اور 27مئی کے پورے دن یہ سفاکی جاری رہی ۔ عصمت دریاں ماں باپ اور بہن بھائیوں کی موجودگی میں کی گئیں ۔ سانحہ تاریخ کا بدترین واقعہ ہے ۔ جسے تحریر کرتے ہوئے اور آپ کو مطالعہ کرتے ہوئے دکھ اور افسوس ہوگا۔ یہ ظلم یہیں ختم نہیں ہوا۔ جب 27مئی کی شام بچوں کے دودھ ، اجناس اور روز مرہ کی اشیائ ختم ہونے پر اور کرفیو میں نرمی نہ کرنے پر مجبور ہو کر حیدر آباد کے عوام پکا قلعہ پرجس میں ہزاروں سے زائد خواتین ، مرد ، بچوں ،نوجوانوں اور بزرگوں نے اپنے سروں پرقران مجید رکھ کر رحم کے لئے احتجاج کرنے پہنچے ۔ لیکن ان پر رحم کے بجائے حملہ کردیا گیا۔
حیدرآباد کی تاریخ کا بدرترین ظلم کیا گیا۔ یہاں بھی شہادتیں ہوئیں اور تاریخ کے بدترین مظالم ہوئے ۔ حیدر آباد کی تاریخ اردو بولنے والوں پر مظالم اور شہادتوں کے سلسلوں سے بھری پڑی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پی پی پی کے ادوار میں ہونے والے یہ بدترین مظالم اور پی پی پی کی مہاجر دشمن اور شہری سندھ کے ساتھ زیادتیاں کب ختم ہونگیں ۔ پی پی پی کی یہ نفرت سندھ کی تقسیم کو یقینی بنانے کے لئے ایک اہم پیش رفت بن رہی ہے مسلسل شہری سندھ کے ساتھ زیادتیوں لاکھوں نوکریوں میں شہری علاقوں کو نظر انداز کرنے کے عمل اور کراچی کو تیسرے درجے کا شہری بنانے جیسے اقدامات نے صورتحال بدل دی ہے عوام ایم کیو ایم پاکستان 27 اپریل 2019کو بڑے جلسہ عام میں صوبہ کی قرارداد منظور کرکے مینڈیٹ دے چکے ہیں۔
پی پی پی کے منفی رویئے اور شہری سندھ بالخصوص کراچی ، حیدر آباد کے ساتھ ناروا سلوک پر عوام میں بے چینی ہے۔ خود تحریک انصاف اور کراچی کی تاجر برادری و صنعت کار کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ آرٹیکل 149(4)پر عمل درآمد کی صدائیں گونج رہی ہیں ۔ جبکہ سنندھ میں آدھا تمہارا اور آدھا ہمارا کی صدائیں اب کھلے عام گونج رہی ہیں ۔اس لئے پی پی پی کی قیادت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ۔ ایم کیو ایم پاکستان کو بھی کمزور تصور کرنے کی غلظی نہ کی جائے سب کو ساتھ لیکر سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ ہونا چاہئے ۔
ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں اور ارباب اختیار کو ماضی کی غلطیوں کا ازلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسوقت عوام وزیر اعظم عمران خان سے ماضی میں ہونے والے سانحات وہ کسی بھی طرح کے ہوں ۔ اس پر ایکشن لینے کی توقعات کرتے ہیں۔ احتساب صرف کرپٹ کا نہیں قاتلوں کا بھی ہو جو ملک کے لئے کلنک کا ٹیکہ ہیں ۔