/

رمضان بازار کس قانون کے تحت بنائے گئے ہیں، لاہور ہائی کورٹ

#LahoreHighCourt #RamadanBazaar #Pakistan

لاہور:جدت ویب ڈیسک: ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد جمیل نے اپنے ریمارکس میں استفسار کیا کہ بتایا جائے رمضان بازار کس قانون کے تحت بنائے گئے ہیں اور ان بازاروں میں سبسڈی کس قانون کے تحت دی جاتی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ صرف اتنا فرق پڑا ہے کہ قطاروں کی جگہ کرسیاں لگا دی گئیں ہیں، مگر جس طرح عوام کو چینی دی جارہی ہے اس پر عدالت کو اعتراض ہے، رمضان بازار کا مطلب یہ ہے کہ عام مارکیٹ میں حکومت ریٹ کنڑول کرنے میں ناکام ہے، ہر اسٹور پر دو طرح کی چینی مل رہی ہے، ایک کی قیمت 85 روپے فی کلو اور دوسری آسانی کے ساتھ 110 روپے میں دستیاب ہے، پندرہ دن گزر چکے ہیں اگلے پندرہ دن ایسے ہی نہیں چلے گا، اور یہ مت سمجھیں کے رمضان ختم ہو جائے تو معاملہ حل ہو جائے گا، جب تک یہ کیس چلے گا یہ تلوار آپ پر لٹکتی رہے گی۔ لاہور ہائی کورٹ میں رمضان بازاروں میں چینی کے حصول کے لئے خریداروں کی لمبی قطاروں اور قیمتوں کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست پر سماعت جسٹس شاہد جمیل نے کی۔ جسٹس شاہد جمیل نے لاافسر سے استفسار کیا کہ بتایا جائے رمضان بازار کس قانون کے تحت بنائے گئے ہیں، اور ان بازاروں میں سبسڈی کس قانون کے تحت دی جاتی ہے۔ لاافیسر نے جواب دیا کہ رمضان بازاروں میں چینی اور آٹے کے علیحدہ بوتھ بنا دئیے گئے ہیں، عدالت کے حکم کے مطابق خریداروں کو عزت کے ساتھ چینی دی جارہی ہے، جب کہ قطاریں بھی ختم کردی گئی ہیں۔عدالت نے کمشنر لاہور کو چینی کی قمیت اور فراہمی کو یقینی بنانے کے حوالے سے گارنٹی کے لئے طلب کرلیا، عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بتایا جائے کہ عدالتی حکم کے مطابق چینی کی عام دستیابی ہورہی ہے یا نہیں۔لا آفیسر کا کہنا تھا کہ گراس روٹ لیول پر چینی کی قمیت کو یقینی بنانے کے 36 اضلاع کے ڈی سی سے تحریری رپورٹ کی گئی ہے، 80 فیصد تک ہم کامیاب ہیں جہاں 85 روپے میں چینی فروحت کی جارہی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 80 فی صد نہیں 20 فیصد شاہد آپ کہہ سکتے ہیں، عام آدمی کو چینی کی فراہمی کے معاملے کی مانیٹرنگ عدالت کرے گی۔جسٹس شاہد جمیل نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کی درخواست پر ضرورت کے مطابق سستی چینی فراہم کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا، لیکن عام آدمی کو چینی کے حصول کے لیے ابھی بھی مشکل سے گزرنا پڑرہا ہے، اس لیے عدالت کی مانیٹرنگ ضروری ہے کیونکہ چینی کی تقسیم پر سوالیہ نشان آرہا ہے، عدالت چاہتی ہے کہ ضروریات زندگی کی اشیا کا ملک بھر میں ایک ہی ریٹ ہو، عدالت اس حوالے سے قوانین کا جائزہ بھی لے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.