سانحہ شہادت نقیب شہید کس بات کی نقیب ہے؟

دنیا میں جن حکمرانوں کے نام آج بھی زندہ و جاوید ہے ا نہوں نے اپنی رعایا کو انصاف دیا ہے ،آدم ؑسے اس دم تک جس نے ظلم کیا ہے دنیا نے اس کو قیامت سے پہلے واصل جہنم کیا،اگر آج جمشید ،فریدون، ذوالقرنین دنیا میں ہے تو عدل کی وجہ سے ہے اگر آج دنیا میں فاروق اعظم ، حضرت علی ،عمر بن عبدالعزیز حیات ہے تو عدل کی وجہ سے ہے لیکن ہمارے حکمران اور انتظامیہ یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ ہم ظلم کرکے عدل اور ابنصاف قائم کرسکتے ہیں،خاندان بنو امیہ کے حکمران اول ولید بن عبدالملک تہجد گزار ،پانچ وقتہ نمازی تھا لیکن رعایا کے ساتھ ظلم کرتے تھے اسی طرح سلمان ان کے دیگر بھائی ،زانی نہیں تھے شرابی نہیں تھے لیکن اپنے عوام کو انصاف نہیں دیا تو آج ان کی ۳۴ سالہ حکمرانی کس کو یاد ہے ؟برصغیر میں محمود غزنوی ،شہاب الدین غوری اور شیرشاہ سوری آج یاد اور زندہ ہے تو عدل کی وجہ سے۔ اس ملک میں تو لوگ تیس تیس سالوں سے حکمرانی کی مزے لوٹ رہے ہیںاو ترقی صرف ان کی خاندان والے کررہے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مشہور قول ہے کہ حکومت کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہے لیکن ظلم کے ساتھ نہیں ۔ اس وقت سندھ پولیس میں کئی پولیس افسران مبینہ جعلی مقابلوں کے ماسٹر مانے جانے ہیں۔یہ نہ کوئی بہادر ہے نہ تھے ۔ماضی میں سب سے بڑا نام چوہدری اسلم اور زندوں میں رائو انور کی ہے ،میں خود ان دونوں سے ملا ہوں اور دیکھا ہے یہ بہادر تھے لیکن ان کی بہادری یہ ہے کہ کسی کو ہاتھ پائوں سے باندھ کر اگر ان کے حوالہ کیا جائیں تو یہ دونوں پولیس افسران ان پہ گولیاں چلا کر اپنی بہادری جتاتے تھے۔ہمارے سندھ پولیس کے ان بہادروں کو دیکھ کر لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ لیاری آپریشن میں جو دلیر افسران تھے ان کو لیاری کے دہشت گردوں نے مار دیا لیکن بہادر افسر آٹھ چوک سے آگے نہیں بڑھ سکے،شہر میں سو سو افراد کے قاتل بھی موجود ہیں۔لیکن یہ بہادر افسران بس جعلوں مقابلوں پر گزارہ کررہے ہیں ۔میں تو اکثر اپنے احباب سے کہتا ہوں کہ یہ لوگ تو ایسے کام کررہے ہیں جیسے انہوں نے مرنا نہیں اور نہ اللہ کے سامنے جواب دینا ہے،ہر انسان کو دل میں یہ خوف رکھنا چاہیئے کہ میں نے ایک دن مرنا ہے اور اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ۔لیکن ہمارا طرز حکمرانی فرنگی سامراج سے ورثہ میں ملی ہے جس کی وجہ سے ہم ظلم میں بھی فرنگی کے وارث ہے ۔ہم نے اگر اپنے آپ کو نبی ﷺکا امتی شمار کیا اور اپنا آئیڈیل فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور شیر شاہ سوری ؒ کو رکھا تو پھر ہم کسی انسان پر کیا کسی جانور بھی ظلم نہیں کرینگے۔اسلام اور پاکستان کا قانون یہ ہے کہ سو ملزم عدم ثبوت کی بنا پر بری ہوجائے مگر کسی بھی حال میں بے گناہ کو سزا نہیں دینی ہے۔جبکہ ہمارے ہاں اب یہ رواج ہے کہ بے گناہ کو بھی لٹکادو تا کہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل جائے ،اس سے نفرت میں اضافہ ہوتا ہے عوام اب سرکاری حکام سے تعاون کے لئے قطعا تیار نہیں اور لوگ ایسے ظالم افسران کی وجہ سے مجرموں سے ہمدردی رکھتے ہیں نہ کہ سرکار سے اگر کچھ عرصے میں ہمارے حکمرانوں نے اس پر غور نہیں کیا تو وہ دن دور نہیں کہ لوگ سرکار کے مقابلہ میں مجرموں کا ساتھ کھلم کھلا دینگے۔ یہ اس پر شکر ہے کہ سرکاری اداروں میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کا نام ایمانداری ،انصاف ،امن اور خدا ترسی میں مشہور ہے۔جیسے آئی جی سندھ نے جو کمیٹی بنائی ہے ان میں جن تین افراد کو شامل کیا ہے اس پر لوگوں کو اعتماد ہے دنیا جہان اس اعتماد پر قائم ہے اب تو سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لے لیا ہے اعلیٰ عدلیہ سے ہمیں اچھی طرح توقع ہے ہمارے ہاں جعلی مقابلے اور کسی کو غائب کرنا کوئی جرم ہی نہیں ہے حلانکہ یہ کسی بھی مہذب معاشرے کا سوچ نہیںہے۔ہمارے اداروں کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے بڑی محنت کی ضرورت ہے۔اگر یہ اعتماد بحال نہ ہوا اور یہ سوچ پروان چڑھا تو یہ ملک اور ریاست کے لئے بڑی ناکامی ہے۔چرچل نے دوسری جنگ عظیم میں وزیراعظم سے پوچھا تھا کہ اگر ہمارا عدلیہ عام آدمی کو انصاف دے رہا ہے تو ہم جنگ جیت سکتے ہیں اور اگر نہیں تو پھر جرمن کا ہٹلر جیت جائیگا۔ہمیں چاہیئے کہ ہم بین الاقوامی دنیا کو دیکھیں کہ کیا وہ اپنے رعایا کو انصاف دے رہے ہیں ۔مونیکا وسکی اور کلنٹن والے کیس میں کلنٹن کے وکیل سے امریکی عدالت نے سوال کیا کہ آپ کیا چاہتے ہو تو انہوں نے ایک تاریخی جملہ کہا کہ ہم انصاف چاہتے ہیں۔قوم کا یہ مطالبہ ہے کہ اب ہر کسی کے ساتھ انصاف ہواور کسی کے ساتھ بھی ناانصافی نہ ہو ۔تب جاکر ایک قوم اور کامیاب ریاست بن سکتی ہے اور ملک چل سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ دنیا جہاں میں جو فساد بھرپا ہے وہ انسانوں کی اجتماعی اور انفرادی اعمال کا نتیجہ ہے ۔ہرفرد کو چاہیئے کہ وہ اپنا عمل درست کرے کیونکہ علامہ اقبال کا قول ہے کہہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ ہر ہر فرد ذمہ دار ہے ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا ۔اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک اچھا مثالی اور تقلیدی معاشرہ بنے گا اور پاکستان دنیا میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بنے گا جس کے لئے ہمارے آبائو اجداد نے قربانیاں دی تھی اور جس کے لئے فرنگی سامراج سے آزادی حاصل کی تھی ۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published.