سندھ ،وفاق کشیدگی،کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی رک گئی

سندھ اور وفاقی حکومت کی باہمی کشیدگی کراچی کے ترقیاتی منصوبوںپر اثر انداز ہونے لگی ،شہر میں سرکلر ریلوے کی بحالی کا کام رک گیا ۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے 8 خطوط لکھے جانے کے باوجود ، 4 ماہ سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی،جس کے بعد کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کھٹائی میں پڑتی دِکھائی دے رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کام کی رفتار سست ہونے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خط پر خط لکھ رہے ہیں لیکن ریلوے حکام کی کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ ٹریک پر قائم تجاوزات ختم کرکے سرکلر ریلوے کی بحالی کا کام شروع ہوجانا چاہئے تھا مگر ریلوے حکام دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہے،43 کلومیٹر طویل ٹریک کے 21 کلومیٹر پر تجاوزات قائم ہیں جنہیں مسمار کرنا ضروری ہے۔بحالی کے پہلے مرحلے میں ضلع وسطی میں 1165، شرقی میں 678، جنوبی میں 95 اور غربی میں 60 گھروں کو مسما ر کرنا تھا، یہ وہ تجاوزات ہیں جو جاپانی کمپنی جائیکا کے 2013ء کے سروے کے مطابق بعد میں قائم ہوئیں ۔1997 میں سرکلر ریلوے منصوبہ بند ہونے کے بعد 4965 مکانات تعمیر ہوئے جنکی قسمت کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے تاہم انہیں دوسرے مرحلے میں مسمار کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے کے تحت ضلع وسطی میں ڈپٹی کمشنر نے 1165 گھر مسمار کرادیئے، جس کے بعد اپریل میں ضلع شرقی میں آپریشن ہونا تھا، لیکن ریلوے حکام کی جانب سے آپریشن روکنے کی ہدایت کے 4 ماہ بعد اب انہوں نے رابطہ کرنا چھوڑدیا ہے ۔ایسے میں ڈپٹی کمشنر شرقی کی جانب سے 8 خطوط ارسال اور متعدد بار رابطہ کی کوشش کی گئی ہے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ایک اور خط میں کہا گیا ہے کہ غریب آباد سے ڈرگ روڈ اور پھر ایف ٹی سی تک تجاوزات ختم کرنا ہیں ،ترجیحی بنیادوں پر تجاوزات کے خاتمے کا پلان بنایا جائےاور اس حوالے سے مزید تاخیر نہ کی جائے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.