/

سندھ کے تعلیم اداروں میں فنڈ کی کمی ، تعلیمی بورڈ دیوالیہ ہونے کا خدشہ

#EducationboardSindh #Karachi

کراچی: جدت ویب ڈیسک:حکومت سندھ نے سوا 3 ارب نہ دیے جب کہ فوری رقم نہ ملنے پر کئی تعلیمی بورڈز دیوالیہ بھی ہوسکتے ہیں۔
حکومت سندھ صوبے کے 6سرکاری تعلیمی بورڈزکی سوا3ارب روپے سے زیادہ کی مقروض نکلی ہے اوربجٹ مختص کرنے کے باوجود حکومت سندھ نے بشمول رواں مالی سال 4برسوں میں امتحانی بورڈزکوزرتلافی کی مد میں 3ارب 36ارب 89لاکھ89ہزار878روپے کی ادائیگیاں نہیں کی ہیں۔ایک اورچیئرمین نے اس سلسلے میں بتایاکہ ان کے بورڈکے پاس میٹرک اورانٹرکی امتحانی کاپیاں چھپوانے کے لیے بھی رقم نہیں ہیں اگرکاپیوں کی چھپائی کاٹینڈرکرتے ہیں توسوچناپڑے گاکہ رقم کہاں سے دی جائے یاپھرہم بھی سندھ کی بعض جامعات کی طرح بینکوں سے قرضے لینا شروع کردیں۔علاوہ ازیں ایکسپریسکواس حوالے سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق صرف رواں سال ملاکر4برسوں میں انٹربورڈکراچی کو97کروڑ74لاکھ 39ہزار458روپے کی ادائیگی نہیں کی گئی، اسی طرح میٹرک بورڈکراچی کو4 برسوں میں 28کروڑ8لاکھ 41ہزار116روپے کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے۔حیدرآبادتعلیمی بورڈ 65کروڑ30لاکھ71ہزار784روپے،سکھرتعلیمی بورڈ کو61 کروڑ24 لاکھ30 ہزار320روپے،لاڑکانہ تعلیمی بورڈکو46کروڑ15لاکھ96ہزار460روپے اورمیرپورخاص تعلیمی بورڈکو38کروڑ36لاکھ10ہزار740روپے کی4سال کی ادائیگیاں نہیں کی گئی ہیں۔یہ زرتلافی حکومت سندھ کی جانب سے تعلیمی بورڈزکومیٹرک اورانٹرکی سطح پر سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ کی انرولمنٹ اورامتحانی فیسوں کے عوض دیا جانا ہے جسے روک رکھاہے اوررقم نہ ملنے پر امتحانی بورڈزبدترین مالی بحران کاشکارہونے کے بعد اب اپنے ریزرو فنڈ سے ملازمین کی تنخواہوں سمیت دیگراخراجات شروع کرچکے ہیں جبکہ بعض تعلیمی بورڈزکے پاس اب ریزرو فنڈبھی ختم ہونے کوہے اورفوری رقم نہ ملنے پربورڈز دیوالیہ بھی ہوسکتے ہیں۔صرف رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی ختم اورچوتھی سہ ماہی شروع ہونے کے باوجود حکومت سندھ نے اب تک تمام تعلیمی بورڈزکو مختص زرتلافی کے عوض اس کا25فیصد حصہ اداکیاہے اوررواں مالی سال میں بھی حکومت سندھ پر تعلیمی بورڈزکے مجموعی طورپرتقریبا1ارب 55کروڑروپے واجب الاداہیں۔یادرہے کہ حکومت سندھ نے مفت اورلازمی تعلیمکے قانون اورآرٹیکل 15A2کے تحت چارسال قبل پورے صوبے میں میٹرک اورانٹرکی سطح پر سرکاری تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم طلبہ کی انرولمنٹ اورامتحانی فیسیں ختم کردی تھی اورایک نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام تعلیمی بورڈزکوطلبہ سے مذکورہ فیسیں یہ کہہ کروصولی سے روک دیاتھا کہ ان فیسوں کی مد میں جورقم بنے گی وہ حکومت سندھ خودتعلیمی بورڈزکوہر سال بجٹ میں فراہم کرے گی.تاہم اس فیصلے پرجزوی طورپرعملدرآمد ہوا، تعلیمی بورڈزنے سرکاری ہدایت نامے پر عمل کرتے ہوئے طلبہ سے دونوں مدوں میں فیسوں کی وصولی توروک دی تاہم حکومت سندھ نے ہرسال مختص بجٹ کاکچھ ہی حصہ تعلیمی بورڈزکوفراہم کیااوررواں مالی سال اس سلسلے میں بدترین صورتحال دیکھنے میں آئی جب تعلیمی بورڈزکوان کی سرکاری تعلیمی اداروں کی انرولمنٹ اورامتحانی فیسوں کے عوض بننے والی رقم کامحض 25فیصد حصہ ہی دیاگیا۔ثانوی واعلی ثانوی تعلیمی بورڈحیدرآبادکے سبکدوش چیئرمین ڈاکٹرمحمد میمن نے اس سلسلے میں کئی بارحکومت سندھ کویادداشتیں دی جاچکی ہیں متعلقہ محکمے یونیورسٹیزاینڈبورڈزسے بھی کہاگیاہے تاہم اب تک صورتحال جوں کی توں ہے اورزرتلافی کی رقم نہ ملنے سے تعلیمی بورڈمیں مالی صورتحال انتہائی ابترہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.