صدر نیشنل بینک سعید احمد کو اپنا مستقبل تاریک نظرآنے لگا

کراچی جدت ویب ڈیسک نیشنل بینک آف پاکستان ملک کا سب سے بڑا قومی مالیاتی ادارہ ہونے باوجود جس اقربا پروری اور لوٹ مار کا شکار ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔بینک کے کئی صدور اور اعلی افسران مختلف نوعیت کے کرپشن کیسزبینکنگ کورٹس اور احتساب عدالتوں میں بھگت رہے ہیں۔صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ نیشنل بینک کے صدر کیلئے اہلیت کے خانہ میں کرپٹ پریکٹسز کو خاصی اہم پوزیشن اصل ہو گئی ہے یہ روایت اسحاق ڈار کے سمدھی سعید احمد کے صدر نیشنل بینک بننے کے بعد مزید مستحکم ہو گئی ہے ۔دوہری شہریت، سعودی عرب میں سزا یافتہ، بینکنگ کا کوئی خاص تجربہ نہیں، نرسنگ ہوم چلانے کے تجربہ کے حامل شخص کو قومی مالیاتی ادارہ کا صدر مقرر کرنا اس ادارے کو تباہی کی طرف دھکیلنے کے سوا کیا نتیجہ دے سکتا ہے ۔نیشنل بینک صرف مالیاتی ادارہ ہونے کے حوالے سے ہی اہم نہیں بلکہ یہاں تمام سرکاری اداروں اور فورسز کے مرکزی اکائونٹس ہوتے ہیں جن کی حساس دستاویزات ملکی مفاد کے خلاف استعمال کرنے کا خطرہ نااہل اور کرپٹ قیادت کی موجودگی میں بہت بڑھ گیا ہے ۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد موجودہ صدر سعید احمد خاصی پریشانیوں کا شکار ہو گئے ہیں ، جے آئی ٹی کی سفارش پر ان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال دیا گیا ہے ۔ 22برس سے دہری شہریت کے حامل سعید احمد جو برطانیہ میں 12برس تک نرسنگ ہوم چلاتے رہے ہیں، بینکنگ کا کوئی خاص تجربہ نہ ہونے کے باوجود پہلے اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر تعینات کیے گئے اورپھر نیشنل بینک کے صدر مقرر کر دیے گئے ۔ ملکی اہم ترین اداروں کے ساتھ یہ کھلواڑ دوستی اور مفادات کے نام پر کیا گیا۔ نوازشریف کے کلاس فیلو اور اسحاق ڈار کا سمدھی ہونے کے ہر ممکن فوائد سمیٹنے کے بعد اب سپریم کورٹ کا پھندا تنگ ہونے پر وہ ان بینک اکائونٹس سے بھی منکر ہو گئے ہیں جن سے لاکھوں ڈالرز بیرون ملک بھیجے گئے ، ان اکائونٹس کے بارے میں سعید احمد کا کہنا ہے کہ وہ اکائونٹ ان کے گمشدہ شناختی کارڈ کے ذریعے کھولے گئے اور ان اکائونٹس سے ان کا کوئی تعلق نہیں، سعید احمد ملک کے سب سے بڑے قومی بینک کے صدر اور ان کے جعلی بینک اکائونٹس ؟ کیا یہ اعتراف ہی ان جیل بھیجنے کیلئے کافی نہیں، ایک بینک اکائونٹ جو انہوں نے تسلیم کیا مگر ساتھ ہی اس کو آپریٹ کرنے کاالزام اپنے محسن اور سمدھی اسحاق ڈار پر لگادیا۔ جے آئی ٹی کے سامنے انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انہیں دھوکہ دہی کے الزام میں سعودی عرب میںجیل بھیج دیا گیا تھا اور چونکہ وہ برطانوی شہری بھی ہیں لہذا برطانوی قونصلیٹ نے ان کی مدد کی اور جس کمپنی نے فراڈ کا الزام لگایا تھا اس سے سیٹلمنٹ کرادی، واضح رہے کہ فراڈ کیس میںسیٹلمنٹ کا مطلب دھوکہ سے لوٹی رقم واپس کرکے جرم تسلیم کرنا ہوتی ہے ۔ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ منی لانڈرنگ کا معاملہ ستمبر 1991 سے شروع ہواجس میں 22 لاکھ 30 ہزار ڈالر کے کچھ مشتبہ فنڈز 2 اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے ، جن کا تعلق سعید احمد اور مختار حسین سے ہے ، تاہم فنڈز کے ذرائع کو چھپانے کے لیے تمام رقم موسیٰ گیلانی اور طلعت قاضی کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کردی گئی۔جے آئی ٹی نے 1999 میں ہجویری مضاربہ اکاؤنٹ سے 102 ملین روپے سعید احمد کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنے اور پھر وہاں سے نکالے جانے کے معاملے پر سوال کیا، جس کے جواب میں اسحٰق ڈار کہا کہ اس بارے میں انہیں کچھ یاد نہیں۔جب جے آئی ٹی نے اسحٰق ڈار سے سعید غنی کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ سعید غنی میرا بھتیجا ہے اور آج کل امریکا میں مقیم ہے جبکہ اس کے پاس برطانیہ کی شہریت بھی ہے ، لیکن میری کافی عرصے سے اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔واضح رہے کہ نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کو حدیبیہ پیپر ملز کیس میں ملوث ہونے کی بناء پر جے آئی ٹی میں طلب کیا گیا تھا۔آزادی کا مہینہ شروع ہو گیا ہے اور یہ 70ویں سالگرہ ملک میں شفاف احتساب کے آغازکی مظبوط بنیاد کے حوالے سے یادگار رہے گا ۔ اب احتساب اس لئے بھی ضروری ہے کہ لٹانے کو بہت کچھ نہیں رہا۔ ہر اہم پوزیشن پر لنگڑے لولے اور کٹھ پتلی اداکار بٹھا کر ملک کے ہر ادارے کا کباڑا کر دیا گیا ہے ۔قومی اداروں کو برباد کر کے کس کی خدمت کی جارہی ہے ؟ کس کا ایجنڈا پورا کیا جا رہا ہے ؟ نااہل لوگوں کو اپنے مقصد کیلئے اعلی عہدوں پر بٹھا کر ذاتی خدمت ہی لی جاسکتی ملک کی نہیں۔ اداروں کے فعال کردار اور عدالتی حکم پر ملک پر قابض ٹولے اور ان کے حواریوں کے خلاف کارروائی کے آغاز نے کروڑوں پاکستانیوں کی رات دن کی جانے والی دعائیں قبول کر لی ہیں ۔مگر یہ سلسلہ رکنا نہیں چاہیے ورنہ تاریخ یہ سنہری موقع ضائع کرنے والوں کو معاف نہیں کرے گی۔ نیشنل بینک کے موجودہ صدر سعید احمد جنہیں وزیر اعظم کے سمدھی وزیر خزانہ اسحق ڈار کا سمدھی ہونے کا شرف حاصل ہے ،ہر انداز میں مالیاتی قوائدو قوانین پامال کر کے ذاتی اکائونٹ بھرنے میں مصروف ہیں او ر من پسند افسران کو بھی لوٹ مار کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔ واضح رہے کہ سعید احمد کو نوازنے کیلئے نیشنل بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ان کی تنخواہ بڑھاتے ہوئے 50 لاکھ روپے ماہانہ سے زائد کر دی ہے کیونکہ سمدھی کا سمدھی دوست ہوتا ہے ۔سعید احمد جو نیشنل بینک کے صدر بننے سے قبل ہی منی لانڈرنگ کے حوالے خاصی شہرت کے مالک تھے جے آئی ٹی کی سفارش پر ان کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا گیا ہے اور عدالت کے حکم پر ان سے مزید تحقیقات کی جائے گی۔ وہ نیشنل بینک انتظامیہ کو ہاتھ میں رکھنے کیلئے بینک کے وسائل دونوں ہاتھوں سے لٹانے میں مصروف ہیں ۔ اچیومنٹ ایوارڈ میں اربوں روپے کی ہیر پھیر کے بعداعلی افسران کو ڈس پلیسمنٹ الائونس کے نام پر کروڑوں روپے کی خردبردکی کھلی چھوٹ دیتے ہوئے اربوں روپے کی بینک پراپرٹیز بلا کرایہ نواز دی۔ یہ کیا کہانی ہے یہ آپ کل کے ” روزنامہ جدت?” میں جان سکیں گے ۔ آزادی کا مہینہ شروع ہو گیا ہے اور یہ 70ویں سالگرہ ملک میں شفاف احتساب کے آغازکی مظبوط بنیاد کے حوالے سے یادگار رہے گا ۔ اب احتساب اس لئے بھی ضروری ہے کہ لٹانے کو بہت کچھ نہیں رہا۔ ہر اہم پوزیشن پر لنگڑے لولے اور کٹھ پتلی اداکار بٹھا کر ملک کے ہر ادارے کا کباڑا کر دیا گیا ہے ۔قومی اداروں کو برباد کر کے کس کی خدمت کی جارہی ہے ؟ کس کا ایجنڈا پورا کیا جا رہا ہے ؟ نااہل لوگوں کو اپنے مقصد کیلئے اعلی عہدوں پر بٹھا کر ذاتی خدمت ہی لی جاسکتی ملک کی نہیں۔ اداروں کے فعال کردار اور عدالتی حکم پر ملک پر قابض ٹولے اور ان کے حواریوں کے خلاف کارروائی کے آغاز نے کروڑوں پاکستانیوں کی رات دن کی جانے والی دعائیں قبول کر لی ہیں ۔مگر یہ سلسلہ رکنا نہیں چاہیے ورنہ تاریخ یہ سنہری موقع ضائع کرنے والوں کو معاف نہیں کرے گی۔
نیشنل بنک آف پاکستان ملک کا سب سے بڑا قومی مالیاتی ادارہ ہونے باوجود جس اقربا پروری اور لوٹ مار کا شکار ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔بنک کے کئی صدور اور اعلی افسران مختلف نوعیت کے کرپشن کیسزبنکنگ کورٹس اور احتساب عدالتوں میں بھگت رہے ہیں۔صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ نیشنل بینک کے صدر کیلئے اہلیت کے خانہ میں کرپٹ پریکٹسز کو خاصی اہم پوزیشن اصل ہو گئی ہے یہ روایت اسحاق ڈار کے سمدھی سعید احمد کے صدر نیشنل بنک بننے کے بعد مزید مستحکم ہو گئی ہے ۔دوہری شہریت، سعودی عرب میں سزا یافتہ، بینکنگ کا کوئی خاص تجربہ نہیں، نرسنگ ہوم چلانے کے تجربہ کے حامل شخص کو قومی مالیاتی ادارہ کا صدر مقرر کرنا اس ادارے کو تباہی کی طرف دھکیلنے کے سوا کیا نتیجہ دے سکتا ہے ۔نیشنل بینک صرف مالیاتی ادارہ ہونے کے حوالے سے ہی اہم نہیں بلکہ یہاں تمام سرکاری اداروں اور فورسز کے مرکزی اکائونٹس ہوتے ہیں جن کی حساس دستاویزات ملکی مفاد کے خلاف استعمال کرنے کا خطرہ نااہل اور کرپٹ قیادت کی موجودگی میں بہت بڑھ گیا ہے ۔
جے آئی ٹی کی رپورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد موجودہ صدر سعید احمد خاصی پریشانیوں کا شکار ہو گئے ہیں ، جے آئی ٹی کی سفارش پر ان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال دیا گیا ہے ۔ 22برس سے دہری شہریت کے حامل سعید احمد جو برطانیہ میں 12برس تک نرسنگ ہوم چلاتے رہے ہیں، بینکنگ کا کوئی خاص تجربہ نہ ہونے کے باوجود پہلے اسٹیٹ بنک کے ڈپٹی گورنر تعینات کیے گئے اورپھر نیشنل بنک کے صدر مقرر کر دیے گئے ۔ ملکی اہم ترین اداروں کے ساتھ یہ کھلواڑ دوستی اور مفادات کے نام پر کیا گیا۔ نوازشریف کے کلاس فیلو اور اسحاق ڈار کا سمدھی ہونے کے ہر ممکن فوائد سمیٹنے کے بعد اب سپریم کورٹ کا پھندا تنگ ہونے پر وہ ان بینک اکائونٹس سے بھی منکر ہو گئے ہیں جن سے لاکھوں ڈالرز بیرون ملک بھیجے گئے ، ان اکائونٹس کے بارے میں سعید احمد کا کہنا ہے کہ وہ اکائونٹ ان کے گمشدہ شناختی کارڈ کے ذریعے کھولے گئے اور ان اکائونٹس سے ان کا کوئی تعلق نہیں، سعید احمد ملک کے سب سے بڑے قومی بنک کے صدر اور ان کے جعلی بینک اکائونٹس ؟ کیا یہ اعتراف ہی ان جیل بھیجنے کیلئے کافی نہیں، ایک بینک اکائونٹ جو انہوں نے تسلیم کیا مگر ساتھ ہی اس کو آپریٹ کرنے کاالزام اپنے محسن اور سمدھی اسحاق ڈار پر لگادیا۔ جے آئی ٹی کے سامنے انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انہیں دھوکہ دہی کے الزام میں سعودی عرب میںجیل بھیج دیا گیا تھا اور چونکہ وہ برطانوی شہری بھی ہیں لہذا برطانوی قونصلیٹ نے ان کی مدد کی اور جس کمپنی نے فراڈ کا الزام لگایا تھا اس سے سیٹلمنٹ کرادی، واضح رہے کہ فراڈ کیس میںسیٹلمنٹ کا مطلب دھوکہ سے لوٹی رقم واپس کرکے جرم تسلیم کرنا ہوتی ہے ۔ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ منی لانڈرنگ کا معاملہ ستمبر 1991 سے شروع ہواجس میں 22 لاکھ 30 ہزار ڈالر کے کچھ مشتبہ فنڈز 2 اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے ، جن کا تعلق سعید احمد اور مختار حسین سے ہے ، تاہم فنڈز کے ذرائع کو چھپانے کے لیے تمام رقم موسیٰ گیلانی اور طلعت قاضی کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کردی گئی۔جے آئی ٹی نے 1999 میں ہجویری مضاربہ اکاؤنٹ سے 102 ملین روپے سعید احمد کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنے اور پھر وہاں سے نکالے جانے کے معاملے پر سوال کیا، جس کے جواب میں اسحٰق ڈار کہا کہ اس بارے میں انہیں کچھ یاد نہیں۔جب جے آئی ٹی نے اسحٰق ڈار سے سعید غنی کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ سعید غنی میرا بھتیجا ہے اور آج کل امریکا میں مقیم ہے جبکہ اس کے پاس برطانیہ کی شہریت بھی ہے ، لیکن میری کافی عرصے سے اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔واضح رہے کہ نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کو حدیبیہ پیپر ملز کیس میں ملوث ہونے کی بناء پر جے آئی ٹی میں طلب کیا گیا تھا۔ نیشنل بنک کے موجودہ صدر سعید احمد جنہیں وزیر اعظم کے سمدھی وزیر خزانہ اسحق ڈار کا سمدھی ہونے کا شرف حاصل ہے ،ہر انداز میں مالیاتی قوائدو قوانین پامال کر کے ذاتی اکائونٹ بھرنے میں مصروف ہیں او ر من پسند افسران کو بھی لوٹ مار کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔ واضح رہے کہ سعید احمد کو نوازنے کیلئے نیشنل بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ان کی تنخواہ بڑھاتے ہوئے 50 لاکھ روپے ماہانہ سے زائد کر دی ہے کیونکہ سمدھی کا سمدھی دوست ہوتا ہے ۔سعید احمد جو نیشنل بنک کے صدر بننے سے قبل ہی منی لانڈرنگ کے حوالے خاصی شہرت کے مالک تھے جے آئی ٹی کی سفارش پر ان کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا گیا ہے اور عدالت کے حکم پر ان سے مزید تحقیقات کی جائے گی۔ وہ نیشنل بنک انتظامیہ کو ہاتھ میں رکھنے کیلئے بنک کے وسائل دونوں ہاتھوں سے لٹانے میں مصروف ہیں ۔ اچیومنٹ ایوارڈ میں اربوں روپے کی ہیر پھیر کے بعداعلی افسران کو ڈس پلیسمنٹ الائونس کے نام پر کروڑوں روپے کی خردبردکی کھلی چھوٹ دیتے ہوئے اربوں روپے کی بنک پراپرٹیز بلا کرایہ نواز دی۔ یہ کیا کہانی ہے یہ آپ کل کے ” روزنامہ جدت ‘‘میں جان سکیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.