عالمی سطح پرتوانائی کے حصول کےمتبادل ذرائع نے کوئلہ کو پیچھےچھوڑ دیا

جدت(ریسرچ ڈیسک)بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق توانائی کے حصول کے متبادل ذرائع میں نصف سے زائد کے حساب سے اضافہ ہوا ۔پانچ لاکھ سولر پینل 2015 میں ہر روز نصب کئے گئےجبکہ صرف چین میں دو ہوائی ٹربائین ہر گھنٹے نصب کئے گئے۔IEA کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر Fatih Birolنے اسے بجلی کی پیداوار میں ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متبادل توانائی کا حصول عالمی سطح پر تیزی سے پھیل رہا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بجلی کے حصول کے متبادل ذرائع سے 153گیگا بائٹ بجلی حاصل کی گئی جو کینیڈا کی بجلی کے تمام مصرف سے زیادہ ہے۔ان ذرائع، جیسا کہ ہوا، شمسی اور پن بجلی کے حوالے سے ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔کوئلے کے مقابلے میں توانائی کے حصول کے متبادل ذرائع پر آنے والی لاگت اب بھی کوئلہ سے کئی گنا کم ہے اور تیزی سے ان ذرائع کی تنصیب سے اس کی کامیابی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔2015ء میںتوانائی کے حصول کے متبادل ذرائع کے ذریعے سےعالمی توانائی کی پیداوار کا 23 فی صد کوئلہکے 40فیصد کے مقابلے میں حاصل کیا گیا۔جس میں بڑا عمل دخل موسم کا رہا کیونکہ مسلسل سورج کی روشنی نہ ہونا اور ہوا کی کمی کے باعث پوری مقدار میں بجلی کا حصول ممکن نہیں رہتاالبتہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے پیش گوئی کی ہے کہ متبادل ذرائع کے نظام میں توسیع لائی جارہی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ 2021ء تک اس نظام کے ذریعے پیدا ہونے والی توانائی 825گیا واٹ تک ہوجائے ۔چین کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی جانب سے ایشیا میں مرکزی حیثیت کے ساتھ معیشت کو ترقی دینے کے حوالے سے عالمی رہنما کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔IEA کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر Fatih Birolکے مطابق اگلے پانچ برسوں میں چائنا اور انڈیا ہی پوری دنیا کی کل توانائی کی نصف کے قریب پیدوار کرپائیں گے۔Mr.Birolنے توقع ظاہر کی کہ اس کی لاگت میں مزید کمی ہوگی اور اس طرح توانائی کے حصول کے متبادل ذرائع کے پھیلائو بڑھ جائے گا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.