علم کی اہمیت

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے علم اُٹھ جائے گا اور اس کی جگہ جہا لت پائے گی لوگ شراب پئیں گے اورزناعام ہو جائے گا۔یہ حدیث بخاری،مسلم ،نسائی ،ابن ماجہ اور ترمذی میں مذکور ہے ،اس میں حضور ﷺ نے قیامت کی نشانیوں میں سے چار کا ذکر کیا ہے ،علم اُٹھ جانا ،جہالت کا عام ہوجانا،شراب نوشی کی کثرت اور زنا کی زیا دتی۔
ان چاروں میں اولیت اور بنیادی حیثیت علم کے اُٹھ جانے کی ہے اور علم سے مرادوہ علم ہے جو عقل کو صیقل کرتا اور قلب کومنور کر تا ہے جس سے انسان اپنے مقام اور ذمہ داریوں کو پہچانتا ہے اور جس سے انسان کو اپنے خالق حقیقی کی معرفت حاصل ہو تی ہے ،یعنی قرآن کا علم ،حدیث کا علم ،شریعت کا علم کہ ہر مسلمان بہتر اور پر سکون زند گی بسر کرنے کیلئے اس کا علم کا محتاج ہے ،اس کی روشنی سے مسلمان کفر وشرک کی تاریکی کو چھا نٹتاہے،فسق وفجو ر کے کا نٹوں سے بچتا ہے،برائیوںکے زہر سے پرہیز کر تا ہے اور جب یہ علم کم ہوتا ہے کہ اہل علم اُٹھ جاتے ہیں اور قوم میں اس علم کو حاصل کرنے کا شوق وجذبہ نہیں رہتا تو پو ری قوم جہالت کی تاریکی میں ڈوب جا تی ہے ،شراب نوشی ،زنا اور تمام برائیاں عام ہو جا تی ہیں ،حتیٰ کے قوم کو نہ مستقبل کا احساس رہتا ہے اور نہ اپنی منزل کا پتہ ہو تا ہے ،یہی وجہ ہے کہ اسلام نے علم حاصل کرنے کی بہت تاکید کی اور قرآن وحدیث نے اس کی اہمیت کو مختلف انداز سے بیان فرمایا ،مثلاً ملائکہ پر آدم علیہ السلام کی وجہ فضیلت اور ان کا مستحق خلا فت ہو نا ان کی صفت علم ہی کو قرار دیا گیا ،انبیاء کرام علیہم السلام کا اپنی امتوں کے ہر فردسے افضل واعلیٰ ہونے اور امتیوںپران کی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہونے کی بنیادی وجہ بھی ان مقدس حضرات کا وہ بے مثال علم ہی قرار پایا جوانہیں کتابوں اور استادوں کے بغیر معجزانہ طورپر بلا واسطہ عالم حقیقی سے حاصل ہوتااور جس کا مقابلہ امت کاکوئی فرد نہیں کرپاتا ۔
قرآن کریم میں ہے ۔اﷲتعالیٰ ان لوگوں کا مرتبہ بلند کرتا ہے جو تم میں سے ایمان لائے ،اور علم والوں کو بہت درجہ عطا فرماتا ہے اور اﷲتمہا رے اعمال سے باخبر ہے ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ بھی قرآن مجید میں مو جو د ہے اور بخاری شریف میں موجو دہے حضور علیہ السلام کے ارشاد سے واضح ہے کہ اﷲتعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو خضر علیہ السلام کو خضرعلیہ السلام کے پاس جانے کا حکم صرف اس لئے دیا تھا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام سے علم میں زیا دہ تھے ،بہر کیف قرآن کریم کی ان چند مثالوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے اﷲتعالیٰ نے مسلمانوں کو علم حاصل کرنے کی کس قدر ترغیب اور تاکید فرمائی ۔اور جب ہم معلم انسانیت ﷺ کے حالات وارشادات پر غور کرتے ہیں تو ان سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حضور ﷺبھی چاہتے ہیں کہ آپ کی امت کمال علم میں دنیا والوں کیلئے ایک نظیر بنے اور امت کا بچہ بچہ پڑھا لکھا ہو ،علم کا نو ر اتنا پھیلے کہ جہا لت کی تاریکی دور دُور تک نظر نہ آئے ،یہی وجہ ہے کہ آپ نے فرمایا،جو طالب علم کی راہ اختیا ر کر تا ہے اﷲتعالیٰ اس کیلئے جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ کھول دیتا ہے اور فرشتے طالب علم کیلئے اپنے بازوبچھادیتے ہیں اور بے شک عالم کی مغفرت کیلئے زمین وآسمان کی مخلو ق حتیٰ کہ پانی کی مچھلیاں بھی دعا کرتی ہیں اور بے شک عالم عابد سے ایسا افضل ہے جیسا چودھویں کاچاند دوسرے تمام تاروں پر اور بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں کہ انبیاء اپنے درہم ودینار کا نہیں بلکہ علم کا ورثہ چھوڑا ہے ،تو جس کسی نے اس کو حاصل کرلیا اُس نے بڑا حصہ پالیا ۔
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ’’علم دولت سے بہتر ہے ،علم حفاظت کرتا ہے اور دولت کی تمہیں حفاظت کرنا پڑتی ہے ،علم حکمران ہو تا ہے اور دولت پر حکمرانی کی جا تی ہے،دولت خر چ کرنے سے کم ہو تی ہے اور علم بڑھتا ہے ‘‘
علم چونکہ ایک عظیم منصب ہے اسکو حاصل کرنا مسلمانو ں کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے لہٰذا اس کی تبلیغ واشاعت اور اس کو پھیلانا بھی مسلمانوں پر فرض کفایہ ہے جس کی ادائیگی کی ذمہ داری سب سے پہلے حکومت پر عائد ہوتی ہے ،اسلامی حکومت کا یہ اولین فریضہ ہے کہ وہ عوام کو علم حاصل کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرے ۔آپ کی تشریف آوری سے پہلے عرب کے لوگ قلم کو ہاتھ تک لگانا عار سمجھتے تھے ،اُس وقت کے مرکزی شہر مکہ پوری آبادی میں کل سترہ آدمی پڑھے لکھے تھے لیکن حضور ﷺ نے لوگوں میں حصول علم کا ایسا جذبہ پید افرمایا کہ عرب کے بادیہ نشین بھی اہل علم کے قافلہ میں نظر آنے لگے ۔آپ ﷺ نے اپنے ارشادات سے بھی امت مسلمہ کو حصول علم کی ترغیب ودعوت دی ،آپ نے فرمایا ۔
٭ کسی کے علم کے حوالے سے کوئی بات پوچھی جائے اور وہ جانتے ہوئے نہ بتائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام لگائی جائے گی ۔
٭ مجھ سے جو سنو اس کی تبلیغ کروچاہے وہ ایک ہی آیت ہو ۔
٭ ضروری علم اور قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھا ؤ۔
٭ اﷲتعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے جس نے میری باتیں سنیں ،انہیں یا د رکھا اور دوسروں تک پہنچادیا ۔
علم کی نشرواشاعت اسلامی حکومت کی اہم ترین ذمہ داری ہے اور اہل علم کا بھی منصبی فریضہ ہے کہ اپنے ملک کے ہر گھر کو شمع علم سے روشن کریں اﷲتعالیٰ ہمیں طلب علم کا جذبہ اور خدمت علم توفیق عطا فرمائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.