عوام کو اپنے گھر کا خواب دکھاکر قبضے نہ دینے والے بلڈرز کیخلاف تحقیقات شروع

Association of Builders And Developers of Pakistan

کراچی جدت ویب ڈیسک کراچی کے عوام کو اپنے گھر کا خواب دکھاکر گزشتہ 30سالوں سے کھربوں روپے لوٹنے والے بلڈرز اور ان کے سرپرست افسران کیخلاف بڑے پیمانے پر جاری تحقیقات کے بعد تعمیراتی صنعت سے وابستہ افراد میں زبردست کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شاہ مرید، دیہہ اللہ پیائی، نادرن بائی پاس، اسکیم 33 سمیت دیگر علاقوں میں گزشتہ 30 سال قبل عوام سے رقوم بٹور کر پلاٹس کی اسکیمیں شروع کی گئی تھیں جن کا نام ونشان تک موجود نہیں، بلڈر مافیا نے عوام سے کھربوں روپے وصول کئے جبکہ نہ ہی قبضہ دیا گیا اور نہ ہی کوئی ڈیولپمنٹ کی گئی جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ 89 ایسی بوگس اسکیموں کے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں جس کی تحقیقاتی اداروں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام سے تفصیلات مانگ لی ہیں۔اس سلسلے میں ایس بی سی اے اور آباد کے ممبران کے مابین چار اہم اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں جس میں بعض بلڈرز نے اسکیمیں مکمل نہ ہونے کی ذمہ داری یوٹیلیٹی اداروں پر عائد کی ہے جبکہ بیشتر بلڈرزکی اسکیمیں ہی بوگس بتائی جاتی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بلڈرز کا ڈیٹا جمع کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے اور 50 فیصد ڈیٹا جمع کر لیا گیا ہے جس میں نامور بلڈرز کے نام بھی شامل ہیں جنھوں نے شہریوں سے رقوم تو پوری وصول کر رکھی ہیں جبکہ زمین پر پروجیکٹ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ایس بی سی اے کی جانب سے اس سلسلے میں بلڈرز کو تین کیٹگری میں تقسیم کیا جارہا ہے، ریڈ کیٹگری میں وہ بلڈرز شامل کیے جا رہے ہیں جنہوں نے عوام کے خون پسینے کی کمائی کو لوٹا ہے ان بلڈرز کو آئندہ کوئی این او سی نہ دینے سمیت ان کیخلاف بھرپور کارروائی اور عوام کا لوٹا گیا پیسہ وصول کیا جائے گا جبکہ گرے کیٹگری میں شامل بلڈرزکو کچھ رعایت دیتے ہوئے ان کے منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور متعلقہ اداروں کو بھی طلب کیا جائے گا جبکہ گرین کیٹگری کے بلڈرز کو شہر میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔علاوہ ازیں بنائی گئی تین کیٹگری میں زیادہ نام ریڈ کیٹگری کے بلڈرز کے بتائے جاتے ہیں جن کیخلاف بڑی کارروائی کا امکان ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل کراچی کے ایک معروف بلڈر کو نیب کی جانب سے گرفتار کیا جا چکا ہے، ذرائع کے مطابق تحقیقاتی اداروں کی جانب سے لیے گئے سخت نوٹس اور کارروائیوں کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بھی متحرک ہو گیا ہے اور اس سلسلے میں ان تمام بلڈرز کا ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے جومقررہ وقت پر عوام کو قبضہ دینے میں ناکام رہے ہیں اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں پلاٹس کی اسکیم کیخلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.