فنڈزجاری کردیئے‘ اب میئر کام کیوں نہیں کررہے‘ جام خان شورو

MQM PPP

کراچی جدت ویب ڈیسک وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو نے کہا ہے کہ ماضی میں جس سیاسی جماعت کو کراچی کی عوام نے مینڈیٹ دیا اس جماعت نے کراچی کے پانی، سیوریج اور گاربیج سمیت کسی بھی مسئلے کو حل نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ سندھ حکومت نے نہ صرف کراچی سے بوری بند سیاست کا خاتمہ کیا ہے بلکہ ہم نے عوام سے صاف ستھرا سندھ کا جو وعدہ کیا ہے اس کو بھی پورا کررہے ہیں۔ مشرف دور میں 300 ارب روپے کے ترقیاتی کام کرنے کے دعویدار شہر کراچی کے ناظم بتائیں کہ انہوں نے واٹر بورڈ کی TP-2 زمین کو فروخت کرنے کے بعد عدالت میں کیوں جھوٹ بولا۔ 2015 کے بعد سے اب تک کراچی میں سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے تحت سائوتھ اور ایسٹ کے اضلاع میں چائنا کی کمپنی کے اشتراک سے صفائی ستھرائی کے کام کے آغاز کے بعد آج ان دونوں اضلاع میں صفائی کی حالت عوام کے سامنے ہے۔ آج ملیر میں اس کام کا آغاز کے بعد جلد ہی ویسٹ اور ڈسٹرکٹ کونسل میں بھی کام کا آغاز کیا جارہا ہے اور ڈسٹرکٹ سینٹرل اور کورنگی کی منتخب قیادتوں سے اس حوالے سے معاملات طے کئے جارہے ہیں۔ مئیر کراچی سے پوچھیں کہ انہوں نے شارع فیصل کے باقی مانندہ کام کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے اس کو کیوں مکمل نہیں کیا جارہا جبکہ اس کے تمام فنڈز بھی مکمل طور پر سندھ حکومت نے جاری کردئیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز ضلع ملیر میں سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور ضلع ملیر کے تحت چائنا کی کمپنی ہینگ جوہو زنگ زی یانگ کے تحت صفائی کے معاہدے کے بعد ملیر ڈسٹرکٹ میں صفائی کے کام کے آغاز کے موقع پر منعقدہ تقریب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ضلع ملیر پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور رکن سندھ اسمبلی ساجد جوکھیو، چئیرمین ضلع ملیر جان محمد بلوچ، سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ایم ڈی اے ڈی سنجارانی، وائس چئیر مین ضلع ملیر عبدالخالق مروت، میونسپل کمشنر عمران اسلم اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا کہ آج کراچی کے ایک اور اضلاع ملیر میں چائنا کی کمپنی کے اشتراک سے صفائی ستھرائی کے کام کا آغاز کیا جارہا ہے اس سے نہ صرف ملیر اور لانڈھی سے روزانہ کی بنیادوں پر 700 میٹرک ٹن کچرہگاربیج سینٹر پر منتقل کیا جائے گا اور اس کے لئے 119 سے زائد نئی گاڑیاں استعمال کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ملیر میں 3300 کے قریب چھوٹے اور بڑے ڈسٹ بین لگائیں جائیں گے جبکہ اس کے لئے ضلع ملیر کے موجودہ سینٹری ورکرز کے ساتھ ساتھ چائنا کی کمپنی کے ملازمین بھی جن کی کل تعداد 400 سے زائد ہوگی دو شفٹوں میں کام کریں گے۔ جام خان شورو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ سندھ حکومت نے عوام سے آج تک جو وعدے کئے ہیں ان کو ان کے منتقی انجام تک پہنچایا جارہا ہے اور اس دو ال کے دوران کراچی میں جو جو ترقیاتی کام ہوئے ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 8 ارب روپے سے کراچی کی اہم شاہراہوں جن میں شارع فیصل، ڈرگ روڈ، یونیورسٹی روڈ، طارق روڈ اور دیگر شامل ہیں ان کے مکمل انفرااسٹریکچر کے ساتھ مکمل کرلیا ہے اور مزید کئی نئے منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔ جام خان شورو نے کہا کہ کراچی کی موجودہ مردم شماری کے بعد آبادی 16 ملین کی ہے اور اس حساب سے کراچی میںپانی کی طلب 1000 ملین گیلن سے زائد ہے جبکہ اس وقت شہر کو حب اور دھابیجی سے 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہی K-4 منصوبے کو شروع کیا اور انشائ اللہ وہ اپنے مقررہ وقت پر ہی مکمل ہوگا جبکہ 100 اور 65 ملین گیلن یومیہ پانی کے دیگر دو منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ جام خان شورو نے کہا کہ S-3 منصوبے پر ماضی کی حکومتوں نے جلد بازی کرکے کوئی کام نہیں کیا اور اس کا تخمینہ بھی غلط لگایا، جس کے باعث وہ منصوبہ تعطل کا شکار رہا اور اس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ اس وقت کے کراچی کے دعویدار ناظم نے اس منصوبے کی TP-2 کی زمین کو بھی فروخت کردیا اور جب حال ہی میں عدالت میں یہ کیس کی شنوائی ہوئی تو انہوں نے عدالت میں بھی جھوٹ بولا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کراچی کے عوام سے صفائی ستھرائی، پینے کے صاف پانی اور سیوریج کے نظام کے جو جو وعدے کئے ہیں اس پر من و من عمل کیا جارہا ہے اور اس کے اثرات بھی اب عوام کے سامنے آرہے ہیں۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ ملیر 15 کے کچھ حصے کا کام باقی ہے وہ مئیر کراچی نے مکمل کرانا ہے کیونکہ جب تک یہ منصوبہ سندھ حکومت کے پاس تھا اس پر تیزی سے کام جاری تھا تاہم بعد ازاں اس کو کے ایم سی نےاپنے ہاتھ میں لیا ہے اور اس کے تمام فنڈز کے ساتھ ساتھ اس کی رئوائس سمری کو نہ صرف منظور کرلیا گیا ہے بلکہ اس کی ادائیگی بھی کردی گئی ہے اور اب یہ سوال مئیر کراچی سے پوچھا جائے۔ ضلع کونسل اور ملیر ضلع کے فنڈز میں اضافے کے سوال پر انہوںنے کہا کہ دونوں اضلاع کو خصوصی گرانٹ دی گئی ہے اور مزید گرانٹ بھی دی جارہی ہے۔ غیر قانونی واٹر ہائیڈرینٹ کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہ موجودہ حکومت سے قبل 200 سے زائد غیر قانونی واٹر ہائیڈرینٹ اس شہر میں تھے ان تمام کو بند کردیا گیا ہے اور اب صرف 6 ہائیڈرنٹ ضلع کے حساب سے کام کررہے ہیں اور اگر کوئی بھی غیر قانونی ہائیڈرینٹ ہے تو میڈیا اس کی نشاندہی کرے ہم اس کو بند کرائیں گے۔ قبل ازیں ایم ڈی سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اے ڈی سنجارانی نے اپنے خطاب میں سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ ضلع ملیر میںصفائی کے کام کے آغاز سے قبل یہاں سائینٹفک بنیادوں پر مکمل سروے کیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے 8 ماہ کی مسلسل جدوجہد کے بعد آج ہم اپنے مکمل فلیڈ کے ساتھ میدان میں آگئے ہیں اور اس کے اثرات اب ملیر کے عوام کو ملنا شروع ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع سائوتھ اور ایسٹ میں عوام کو اثرات ملنا شروع ہوگئے ہیں اور میں میڈیا کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ وہ خود جاکر ان دونوں اضلاع کا معائنہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں خصوصی طور پر وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس سلسلے میں ہم سے مکمل تعاون کیا اور ان کی بھرپور رہنمائی کے باعث ہم سائوتھ اور ایسٹ کے بعد آج ملیر میں صفائی کے کام کا باقاعدہ آغاز کررہے ہیں۔ بعد ازاں صوبائی وزیر نے صفائی ستھرائی کے لئے 119 گاڑیوں کے فیلڈ کا فیتہ کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.