متعصبانہ رویہ

لندن میں ایک بار پھر انتہا پسندوں نے مسلمانوں کو نشانہ بنا یا ،برطانوی شہر مانچسٹرکے علاقے نیوٹن میں میں معروف مسجد نصفات اسلامی سینٹر کو آگ لگا دی گئی ،آتشزدگی سے ہال اور تین کلاس رومز بری طرح متاثر ہو ہوئیں ۔اسلامک سینٹرو مسجد کے ترجمان کے مطابق سینٹر کو تین سال میں تیسری بار شرپسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا،قبل ازیں مسجد میں سوروں کے دو سر پھینکے گئے اوراس کی بیرونی دیوار پر پیشاب کیا گیا۔یہ لندن میں مسلمانوں کے خلاف ہو نے والا سنگین ترین واقعہ ہے، ا س سے قبل بھی واقعات ہوتے رہتے ہیں ،18جولائی کوایک شخص نے لندن کی میٹرو بس میں سفر کرنے والی مسلم خاتون کا حجاب کھینچ اسے اتارنے کی کوشش کی،24 جولائی عید الفطرکی نماز کے اجتماع پر ایک خاتون نے نمازیوں پر گاڑی چڑھا دی جس سے6افراد زخمی ہو گئے۔بر طانیہ میں بڑھتے ہو ئے مسلم دشمنی کے واقعات پر لندن کے میئر صادق خان نے کہ دیا کہ لندن برج حملے کے بعد برطانوی دارالحکومت میں مسلمانوں کے خلاف جرائم میں 5 گنا اضافہ ہوگیا ہے اور ساتھ میں خبردار بھی کیا کہ پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی اختیار کرے گی، 6 جون تک کے جاری عبوری اعداد و شمار کے مطابق نسل پرستی کے واقعات میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔واقعات سے ظاہر ہو تا ہے کہ جہاں دنیا کے دوسرے ملکوں میں مسلمانوںکے ساتھ امتیازی سلوک اور نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے وہا ں بر طانیہ جیسا مہذب ہونے کا دعوے دار ملک بھی اس میں پیچھے نہیں ہے یہ بر طانیہ کے مہذب ہونے پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
2012 میں ایک مسلم لڑکے کی جانب سے بدھسٹ لڑکی سے زیادتی کامن گھڑت الزام لگا کر برما کے روہینگیا مسلمانوں پر بدترین مظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے،بدھسٹو ںنے ہزاروں گھر نذر آتش کر دیئے ،سیکڑوں افراد کو بدترین تشدد کے بعد کاجر مولی کی طرح کاٹ کرقتل کر دیا گیا،بے شمار لوگ بے گھر ہو گئے اور بچے کچھے لو گوں کو وہاں سے سمندری راستے سے ملک بدر ہو نے پر مجبور کر دیا گیا،لٹے پٹے لوگوں نے جب بنگلہ دیش پناہ کیلئے جانے کی کوشش کی تو اس نے انہیں واپس برما کی جانب دھکیل دیا گیا جس سے وہ پھر بدھسٹو کے رحم کرم پر آگئے ،وہاں مسلمانوں کے ساتھ مظالم اور بد سلوکی کا سلسلہ آج بھی جارہی ہے۔
بھارت مقبو ضہ کشمیرپرقیام پاکستان کے بعد ہی سے قابض ہے اور مسلسل وہا ں انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا ہے،حریت رہنما ؤں کو حق کی آواز اٹھانے پرقید کیا جاتا ہے ،خواتین کے ساتھ بد سلو کی کی جاتی ہے ،نوجوانوں کو گھروں میں گھس کر اغواکر کے جیلوں میں ڈال دیا جا تا ہے ، انٹر نیٹ اور موبائل سروس بند کر دی گئی،وہاں 8 لاکھ سے زائد فوجی قابض ہیں لیکن ان کے مظالم کشمیریوں کا جذبہ حریت آج تک نہیں دبا سکے،بلکہ شوق شہادت روز بروز پروان چڑھ رہا ہے،برہان وانی جیسے نوجوان شہادت کی داستانیں رقم کر رہے ہیں ،دنیا دیکھ رہی ہے ، سن رہی ہے لیکن کشمیری مسلمانوںکا ساتھ دینے سے قاصرہے اور گو نگی اور بہری بنی ہو ئی ہے اوربھارتی مظالم کے خلاف بو لنے کیلئے تیار نہیں ۔
بھارت میں ما ضی میں بھی مسلمانوں سے نفرت انگیز سلوک کیا جاتا رہا ،وہ آج بھی جاری ہے ،بھارت مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کی تاریخ رقم کررہا ہے ،فروری 2002 میں بھارتی گجرات میں مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں نے فسادات کی آگ بھڑکائی ،مسلمانوں کے گھروں اور کاروبار کو نذر آتش کیا گیا،69 افراد کو شہید کر دیا گیا، سمجھوتا ایکسپریس میں مسلمانوں کو آگ و خون میں جھونگ کر تعصب اورنفرت کا نشانہ بنایا گیا،آج وہاں گاؤ ماتا کے مقدس ہونے کا پرچار کرکے وہاں کے مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دی جا رہی ہے ۔
فلسطینی طویل عرصے سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن امریکا کی پشت پناہی میں اسرئیل کی حوصلہ افزائی و تعاون کا عمل جاری ہے ،اسرائیل کو فلسطینی علاقوں سے نکلنے اور انہیں آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی جارہی ،جبکہ آزادی کی جدوجہد کرنے والی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہاہے، یہ مسلمانوں کے خلاف دنیاکا اظہارنفرت اور عالمی استعمار کا دہرا معیار ہے۔
آج دنیا بھر میں مسلمانوں سے انتہا پسندانہ کا سلوک کیا جا رہا ہے جس کی کو ئی بات نہیں کی جاتی،شام میں امریکی اور روسی فوج کی اشیر باد سے ایرانی ملیشیا ور بشارالاسد کی فوج نے قتل عام کیا،تاریخی لحاظ سے اہمیت کے حامل شام کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔
مسلمانوں کی مذہبی اقدار سے نفرت کی کہا نی یہیں تمام نہیں ہوتیں،ڈنمارک ،فرانس ،سوئیڈن ،سوئٹزر لینڈ،ناروے میں توہین آمیز خاکے بنا کر مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو چیلنج کرتے رہے ہیں ،کبھی چینی صوبے سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی میں حجاب پر پابندی لگا دی جاتی ہے،کبھی ہالینڈ میں مکمل چہرے کے اسلامی حجاب کو سرکاری عمارتوں، اسکولوں، اسپتالوں اور عوامی حمل و نقل کی جگہوں پر ممنوع قرار دینے کی خبر سننے کو ملتی ہے ،کبھی اسپین کے بارسلونہ شہر کی بلدیہ عمارتوں میں برقعہ اور نقاب پر پابندی عائد ہو نے کی خوشخبری دی جاتی ہے،کبھی فرانس کبھی روس سے اس قسم کی اطلاعات ملتی ہیں جو افسوسناک ہیں ،کبھی امریکی صدر کی جانب سے مسلم ملکوں کے شہریوں پر پابندیوں کا مژدہ سنایا جا تاہے۔
دنیا بھر میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک اب روایت بن گیا ہے ،کہیں حجاب پر پابندی عائد کی جاتی ہے ،کہیں توہین آمیز خاکے بنا کر مسلمانوں کی د ل آزاری کی جاتی رہی ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ کئی دہا ئی سے جاری ہے ،ماضی میں مسلمانوں کو انتہا پسند کہا جاتا رہا ،دہشت گردی میں مسلمانوں کو ملوث قرار دیا جا تا رہا اورانہیں نفرت کی نگا ہ سے دیکھا جاتا رہا ،پاکستا ن میں ہونے والے دہشت گردی کے بد ترین واقعات ہوئے ،حکمران تسلسل سے امریکی دباؤ کا شکار رہے ،اسی لیے انہیں مسلمانوں کے خلاف سخت سے سخت باتیں بھی سننے کو ملیں ۔اس دوران عاقبت نا اندیش حکمرانوں نے ذاتی مفادات کی خاطر ملک کا جو نقشہ دنیا کے سامنے پیش کیا وہ انتہا ئی بھیانک رہا ،ان کی کاسہ لیسی اور جی حضوری نے اس خیال کو یقین میں بدل دیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی جڑیں ہیں اور اس سے دنیا کو خطرات لاحق ہیں ،یہی وجہ ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک شک کی نگاہ سے دیکھتی رہی ،اس پورے عمل کی وجہ ملک کی وہ تصویر کشی تھی جو مغرب کے سامنے کی جا رہی تھی۔ہم نے یہ سمجھ لیا کہ شاید پاکستان ہی اس کا قصور وار ہے،دہشت گردی کا شکار پاکستان دنیا کے سامنے تھا ،اس پرامریکا کی جانب سے ڈرون حملے کیے گئے ،امداد دی جاتی رہی اور ڈو مور کا مطا لبہ بھی کیا جاتا رہا،ملک کے مختلف شہروں میں اسکولز،حساس اداروں کے دفاتراور سول آبادی نشانہ بنتی رہی لیکن کسی نے پاکستان کیلئے ہمدردی کے دو بول نہیں بولے ۔
دنیا میں مفادات کی جنگ جاری ہے اورامریکا خود کواس جنگ کا کپتان سمجھتا ہے ،اسی لیے اب اس نے خلیجی مسلم ممالک کا رخ کیا ہے اور قطر پر دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کا الزام لگا یا ہے جس کے بعد سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے ان سے تعلقات ختم کر لیے ہیں،عالمی طاقت کی کوشش ہے کہ مسلم دنیا کومتاثر کیا جائے،ان تمام واقعات سے پتا چلتا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ ایک منصوبہ بندی کے تحت
متعصبانہ رویہ رو رکھا جاتا ہے ۔انسانی حقوق کے عالمی علمبرداروں کے حقوق پر ضرب لگتی ہے تووہ بلبلا اٹھتے ہیں،ریمنڈ ڈیوس کی مثال سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انہوں نے دو افراد کے قاتل کو چھڑانے کیلئے کیا کیا جتن کیے لیکن جب یہ ضرب مسلمانوں پر لگتی ہے تو انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے ،ماضی میں بھی مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت تھی لیکن آج اس کی زیادہ ضرورت ہے تاکہ عالمی استعماری قوتوں کی سازش کو ناکام بنایا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.