محسن ِ قوم ونقاشِ پاکستان چوہدری رحمت علی

چوہدری رحمت علی تحریک پاکستان کے اولین بانیوں میں سے تھے ۔ تصورپاکستان کے بانی علامہ اقبال ہیں ۔ اسلامی سلطنت کا تصور بھی انہی کا ہے لیکن اس کا نام چوہدری رحمت علی نے تجویز کیا ۔اس لیے انہیں نقاش پاکستان بھی کہا جاتا ہے ۔چوہدری رحمت علی ضلع ہوشیار پور کے ایک گائوں میں ۶۱نومبر۷۹۸۱ئ میں پیدا ہوئے۔ان کے والدکا نام چوہدری شاہ محمد گجر تھا ۔ چوہدری صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی ۔اور میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ جالندھر کے اینگلو سنسکرت ہائی اسکول سے پاس کیا ۔بعد ازیں مزید تعلیم کیلئے اسلامیہ کالج لاہورمیں داخلہ لے لیا ۔یہاں سے انہوں نے انٹر اور بی اے کیا ۔دوران طالب علمی کالج کے رسالہ کے مدیر بھی رہے جبکہ ۵۱۹۱ئ میں کالج میں بزم شبلی کی بنیاد بھی رکھی جس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک مسلم ریاست کے قیام کی وکالت کی ۔چوہدری صاحب نے تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا ۔انہوں نے اپنے مشن کو جاری رکھنے اور کامیاب بنانے کے لئے ’’پاکستان نیشنل موومنٹ‘‘ (Pakistan National Movement) قائم کی جس کا مقصد مسلم قوم کے لئے آزادی حاصل کرنا تھا۔۰۴۹۱ئ سے ۲۳۹۱ئ کے درمیانی عرصہ میںبرطانوی حکومت نے ہندوستان کے سیاسی اور آئینی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے مذکرات کا سلسلہ شروع کیا ۔ان مذاکرات کو گول میز کانفرنس کا نام دیا گیا۔ ۲۳۹۱ئ کو تیسری گول میز کانفرنس ختم ہوئی۔کانفرنس کے بعد ہندوستانی مند وبین ابھی لندن میں ہی موجود تھے کہ چوہدری رحمت علی نے اپنا پمفلٹ “Now or Never”ابھی ورنہ کبھی نہیں ‘‘ مندوبین میں تقسیم کیا ۔جس کی بنا پر چوہدری صاحب کو ہندوستان میں اسلامی سلطنت âپاکستانá کا نام رکھنے کا اولین مجوز قراردیا جاتا ہے۔اس پمفلٹ میں کہا گیا تھا کہ براعظم کے مسلمانوں کی سیاسی جماعتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ ہندوستان کے تمام صوبوں کی ایک وفاقی حکومت قبول نہ کریں کیونکہ اس سے مسلمان مستقل طور پر ایک غیر مسلم اکثریت کے غلام بن جائیں گے۔اس کی جگہ یہ تجویز پیش کی گئی کہ پنجاب ،سرحد ،سندھ،کشمیر اور بلوچستان پر مشتمل ایک الگ اور آزاد ریاست بنائی جائے اور اس کا نام پاکستان رکھا جائے۔پمفلٹ کے ایک گوشے میں ’’پاکستان‘‘ کا نقشہ سبز رنگ میں بنا ہوا تھا ۔اس کی سینکڑوں کاپیاں چوہدری رحمت علی گا ہے بگا ہے ہندوستان کے مسلم نوجوانوں کو بھیجتے رہے۔اس سے ایک تو پنجاب مسلم اسٹوڈینٹس فیڈریشن متاثر ہوئی اور دوسرے چوہدری صاحب کے حامیوں نے لاہور میں ’’مجلس کبیر پاکستان‘‘ قائم کردی اور مختلف شہروں میں اس کی شاخیں کھل گئیں ۔جب ۰۴۹۱ئ میں آل انڈیا مسلم لیگ نے اپنے ۷۲ویں سالانہ اجلاس âلاہورáمیں قرارداد لاہور منظور کی تو چوہدری رحمت علی نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور ایک کتابچہ لکھا۔جس کا نام ’’ملت اسلامیہ اور ہندوستانیت کا خطرہ‘‘ (the millat of islam and the menace of indianism)تھا ۔اس کتابچے میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ برصغیر میں تین اسلامی مملکتیں قائم کی جائیں ۔ ایک ’’پاکستان‘‘ جس میں پنجاب ،سرحد،سندھ کشمیراور بلوچستان ہوں۔دوسرے ’’بنگلستان‘‘ جس میں بنگال اور آسام کے اکثریتی علاقے شامل ہوں۔ تیسرے ’’عثمانستان ‘‘ جس کا مقصد یہ تھا کہ نظام دکن حیدرآباد کو آزاد اور خودمختار ریاست مان لیا جائے اور آبادیوں کا ایسا تبادلہ ہوکہ حیدرآباد دکن کے تمام ہندووہاں سے نکل کر آس پاس کے علاقوں میں آباد ہوجائیں اور ان علاقوں کے مسلمان حیدرآباد دکن میں آباد ہوجائیں ۔اس طرح چوہدری صاحب مسلم بنگال کو پاکستان میں شامل کرنے کے حق میں نہ تھے بلکہ وہ اسے ایک آزاد ریاست دیکھنا چاہتے تھے ان کی یہ رائے ۱۷۹۱ئ میں بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں سامنے آئی۔۶۴۹۱ئ مےں چو ہد ری رحمت علی نے اےک کتا ب ’’ پاکستان‘‘ کے نام سے لکھی۔ اس مےں پاکستان کی وجہ تسمےہ کو قدر ے نےا رنگ دے دےا۔ انہوں نے لکھا’’ پاکستان فا رسی اور اردو دونوں زبا نوں کا لفظ ہے۔ ےہ ہما رے اصلی اےشےا ئی اور ہندو ستا نی اوطان کے اسما کے حرو ف پر مشمتل ہے۔ ےعنی پنجا ب ، سر حد â افغا نےہá ’کشمےر‘ اےران ، سندھ â بشمول کچھ اور کا ٹھےا واڑ áاور بلو چستان ۔ اس کا مطلب ہے پاک لوگوں کی سر زمےن ےعنی جو لو گ روحانی طو ر پاک اور صاف ہوں‘‘۔ چو ہدری رحمت علی کا منصو بہ قابل عمل تھا ےا نہےں ۔ ےہ الگ با ت ہے لےکن ان کے کر دار اور ان کی ذہا نت سے انکار کر نا تا رےخ کو جھٹلا نے کے مترا دف ہے کےو نکہ وہ پہلی ، شخصےت تھے جنہوں نے وطن سے دور ےہ تحرےک با قا عدہ اندا ز مےں چلا ئی۔ پاکستان کو اس کا نام دےا اس خےال کا اظہا ر کےا کہ آ با دےوں کو تبا دلہ کر نا پڑے گا اور ےہ کہ اقلےتں اول تو وفا دا ر ثا بت نہےں ہوں گی اور انہےں رکھا بھی گےا تو ان کا نام مٹ جا ئے گا۔ افسوس جب چو ہدری رحمت علی نے اس وطن عزےز مےں قدم رکھا جس کی تشکےل مےں ان کا بڑا ہا تھ تھا اور جوان کی جو انی کے بہترےن اےام کی آ ر زوئوں کا مر کز تھا تو ان کا شا ےان شان استقبا ل نہ کےا گےا اور انہےں چند ماہ کے اندر اندر وطن عزےز کو خےر با د کہنا پڑا۔ انہوں نے ۳فروری۱۵۹۱ئ مےں دےا ر غےر مےں جا ن دے دی اور اہل وطن سے ےہ بھی ممکن نہ ہوا کہ ان کی نعش کے تا بو ت کو پاکستان لا سکےں۔
بہر حال ےہ حقےقت ہے کہ مو رخےن تا رےخ پاکستان کی تا رےخ مےں ان کا ذکر کر ےں ےا نہ کر ےں۔ آ خر کا ر تا رےخ مےں انہےں اپنا مقام حا صل ہو کر رہے گا۔ہمارا حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ وہ نقاش پاکستان کی نعش کو پاکستان لاکر مینار پاکستان کے سائے میںیا علامہ اقبال کے مزار کے ساتھ دفن کریں۔