مصطفی کمال اور فاروق ستار کا طرز سیاست

کراچی کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والے دو اہم ترین سیاست دان مصطفی کمال اور فاروق ستار جو کبھی ایک ہی کشتی â ایم کیو ایم á کے سوار تھے بدلتے ہوئے وقت اور حالات کی وجہ سے اپنے قائد اور پرانی سیاسی جماعتâایم کیو ایمá سے کنارہ کشی اختیار کرکے نئی پہچان کے ساتھ آج ایک دوسرے کے مدمقابل آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔دونوں کا ہی یہ دعوی ٰ ہے کہ وہ کراچی کی اردو بولنے والی کمیونٹیâ جسے عرف عام میں مہاجر بولا لکھا اورکہا جاتا ہےá کے نمائندہ لیڈرہیں اور 2018 کے الیکشن میں کراچی کے انتخابی دنگل میں وہ کراچی کے حقیقی وارث بن کر سامنے آئیں گے۔
مصطفی کمال اور فاروق ستار کے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم ان دونوں کی شخصیت ،کردار اور خدمات کا بے لاگ تجزیہ کریں تو یہ بات بہت واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ الطاف حسین کی قائم کردہ ایم کیو ایم میں شامل جن سیاست دانوں نے اپنی قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پرسب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی اور جو سیاسی طور پر ہمیشہ متحرک ،فعال اورکامیاب رہے ان میں مصطفی کمال اور فاروق ستار کا نام سرفہرست ہے اور سوئے اتفاق سے یہ دونوں حضرات ہی ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کے مئیر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیںیہ الگ بات ہے کہ کراچی کے سٹی ناظم کی حیثیت سے جو مقبولیت ،عزت اور مقام مصطفی کمال نے حاصل کیا ،فاروق ستار اس کے قریب بھی نہ پہنچ پائے۔
1984 سے لے کر 3 مارچ2016 تک ایم کیوایم اور اس کے قائد الطاف حسین کو کراچی کی سیاست پر بلاشرکت غیرے مکمل کنٹرول حاصل تھا ،سیاسی ،حکومتی اور انتظامی طور پر الطاف حسین کو کراچی کے بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا تھا اور یہ حقیقت بھی تھی کہ الطاف حسین کی ایک کال پر پورا کراچی صرف آدھے گھنٹے کے اندر بند ہوجایا کرتا تھا اب یہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی مقبولیت کا کمال تھا یا ان کی جانب سے پیدا کردہ خوف ودہشت کے ماحول کا شاخسانہ کہ ایم کیو ایم کی جانب سے کی گئی ہرہڑتال کامیاب ہوجایا کرتی تھی اور کراچی کی معیشت کا چلتا ہوا پہیا رک جاتا تھا جس سے کراچی کو یومیہ اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا تھا لیکن پھر وقت اور حالات نے کروٹ لی اور3 مارچ2016 کے تاریخی دن کراچی کی سیاست میں اچانک اتنا زبردست سیاسی طوفان اور بھونچال آیا کہ اس نے بہت برق رفتار ی کے ساتھ الطاف حسین اور ان کی قائم کردہ ایم کیو ایم کی کراچی میں بادشاہت کو غیر متوقع طور پر شدید ترین نقصان سے دوچار کردیا اور ایم کیو ایم کے لیئے بحیثیت ایک سیاسی جماعت اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوگیا۔ ایم کیو ایم اور اس کے بانی وقائد الطاف حسین کے عبرتناک زوال کا سبب بننے والی قابل ، پرکشش ، پراعتماد ،دلیراور ولولہ انگیز شخصیت کو آج پورا ملک مصطفی کمال کے نام سے جانتا اور پہچانتا ہے،گوکہ ایم کیوایم میں رہتے ہوئے بھی مصطفی کمال نے کراچی کے سٹی ناظم کے طور پر جس قابلیت ،اہلیت ،فعالیت ،کراچی کے باشندوں کی بلا امتیاز خدمت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کراچی میں فلائی اوور ز،سڑکوں،سیوریج سسٹم اور پینے کے پانی کی لائنوں کا جال بچھایا تھا اسے لوگ آج بھی نہیں بھولے لیکن 3 مارچ2016 کو مصطفی کمال نے اپنے دیرینہ ساتھی انیس قائم خانی کے ساتھ دبئی سے کراچی واپس آکر جس بے خوفی ،بہادری اور سچائی کے ساتھ ایم کیو ایم کے بانی وقائد الطاف حسین کے خلاف کھلم کھلا علم بغاوت بلند کرتے ہوئے الطاف حسین کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا ایجنٹ قرار دیا اور ان کی ذاتی و سیاسی زندگی کے چندشرمناک گوشوں کو میڈیا کے ذریعے طشت از بام کیا وہ اتنا غیر متوقع اور ناقابل یقین تھا کہ مصطفی کمال کی دھواں دار پریس کانفرنس کو دیکھ اور سن کر لوگ بھونچکا رہ گئے کہ کراچی کے بادشاہ کہلائے جانے والے الطاف حسین اور کراچی کی سیاست پر بلاشرکت غیرے کنٹرول رکھنے والی جماعت ایم کیو ایم کو اس سے قبل اس طرح کی بغاوت اور کھلم کھلا مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھاگو کہ ماضی میں آفاق احمد اور عمران فاروق نے بھی الطاف حسین اور ایم کیو ایم سے بغاوت کرنے کی کوشش کی جن میں سے آفاق احمد نے عامر خان سے مل کر ایم کیو ایم حقیقی کے نام سے ایم کیو ایم کا ایک نیا گروپ بنالیا جبکہ عمران فاروق ابھی نئی جماعت بنانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ انہیں مبینہ طور پر الطاف حسین کی ہدایت پر قتل کردیا گیا اور یوں عمران فاروق کی بغاوت عمل میں آنے سے پہلے ہی ختم کردی گئی۔
کراچی کی ماضی اور حال کی سیاست میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیئے مصطفی کمال اور فاروق ستار کے موجودہ طرز سیاست اور ان دونوں شخصیات کے ماضی کا مختصر مطالعہ اور کراچی کی سیاست میں طویل عرصہ سے سرگرم جماعت ایم کیو ایم اور اس سے علیحدہ ہونے والے بعض رہنماؤں کے مختصر تذکرے کے بغیر اس کالم کا حق ادا نہ ہوپاتا لہذا راقم نے کراچی کی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کی تسلی وتشفی اور معلومات میں اضافے کے پیش نظر چند باتوں کے اجمالی ذکر کو اپنے اس کالم کا حصہ بنایا ہے ۔مصطفی کمال نے 23 مارچ 2016 کے تاریخی دن ایک نئی سیاسی جماعت ’’ پاک سرزمین پارٹی‘‘ قائم کرکے ایک نئی پہچان کے ساتھ اپنا نیا سیاسی سفر شروع کیا جو ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد نہایت برق رفتاری کے ساتھ عمومی طور پر پورے پاکستان اور خصوصی طور پر کراچی کی سیاست میں اپنی مضبوط شناخت قائم کرچکا ہے جبکہ فاروق ستار نے بھی 22 ،اگست2016 کو ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کی جانب سے کراچی پریس کلب پر ٹیلی فون کے ذریعے کی جانے والی تقریریعنی ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور ’’پاکستان مردہ باد ‘‘کے نعرے لگوائے جانے کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامہ آرائی اور طوفان بدتمیزی کے بعد کراچی رینجرز کی جانب سے فاروق ستار اور ایم کیوایم کے دیگر رہنماؤں کوتحویل میں لیئے جانے کے ایک روز بعد ہی 23 ،اگست 2017 کو فاروق ستار نے ایم کیوا یم اور اس کے بانی وقائد اور ان کی جانب سے لگائے گئے پاکستان مردہ باد کے نعرے سے اعلانیہ لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ’’ ایم کیو ایم پاکستان ‘‘ کے نام سے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا جس کے بعد انہیں اہم اداروں کی جانب سے کراچی میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی لیکن اس دوران ایم کیوا یم الطاف کے مرکزی ہیڈآفس المعروف 90 کو سیاسی سرگرمیوں کے لیئے بند کردیا گیا اور فاروق ستار کو ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی ہیڈ آفس کے لیئے پی آئی بی میں اپنا ایک ٹھکانہ بنانا پڑالیکن دلچسپ اور عجیب وغریب صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب فاروق ستار نے الطاف حسین کی بنائی ہوئی ایم کیو ایم سے الطاف حسین کو باہر نکال کر اس کی پارٹی پر قبضہ کرکے اسے ایم کیو ایم پاکستان کا نام دے کر ایک نیا پینڈورا بکس کھول دیاجس کا الطاف حسین اور لندن میں موجود ان کے دیگر ساتھیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیااور ان کی جانب سے فاروق ستار کو غدار کا لقب دیتے ہوئے الطاف حسین کو ہی ایم کیو ایم کا بانی وقائد اور ایم کیو ایم کو ہی اردوبولنے والوں کی اصل ترجمان سیاسی جماعت قرار دیا جانے لگا جو کہ کسی لحاظ سے درست بھی تھا کہ تمام تر مخالفتوں اور تحفظات کے باوجود حقائق کے مطابق ایم کیو ایم الطاف حسین کی ہی تھی ہے اور رہے گی اب اگر کسی کو الطاف حسین یا ایم کیوایم سے کوئی اختلاف ہے تو وہ ان کی جماعت سے استعفی ٰ دے کر کسی اور پارٹی میں شامل ہوجائے یا پھر مصطفی کمال کی طرح اپنی نئی سیاسی جماعت بنا کر سیاست کے میدان میں ایک نئی پہچان ،فلسفے اور نظریہ کے تحت قسمت آزمائی کرے لیکن فاروق ستار نے الگ پارٹی بنانے کی بجائے الطاف حسین کی ہی ایم کیوا یم پر غاصبانہ قبضہ کرکے اس کا قائد بن کر سیاست شروع کردی جوکہ ظاہر کے الطاف حسین اور ان کے حواریوں کے لیئے ناقابل برداشت تھا جس کا ان کی جانب سے بہت کھل کر اظہار بھی کیا گیا۔ادھر کراچی کے باشندوں کے لیئے ایم کیو ایم کے لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والے یہ غیر متوقع اور شدید قسم کے اختلافات ذہنی بے چینی اور پریشانی کا سبب بننے لگے کہ ا ن کو یہ بات ہی سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ آخر کراچی کی سیاست میں اچانک یہ کیسا سیاسی بھونچال پیدا ہوگیا ہے جس نے کراچی کا سیاسی منظر نامہ ہی بدل کر رکھ دیا گیا اور وہ الطاف حسین جو کبھی کراچی کا ہیرو ہوا کرتا تھا اسے زیرو بنا کر فاروق ستار نے ہیرو بننے کا جو چکر چلایا اس کے کراچی کی سیاست پر کیا اچھے یا برے اثرات پڑ سکتے ہیں ۔ رہی بات مصطفی کمال کی تو ان کی ایم کیو ایم اور اس کے بانی و قائد الطاف حسین سے اعلانیہ بغاوت اور پھر نئے سیاسی فلسفے اور طر ز سیاست کے ساتھ ایک نئی سیاسی جماعت’’ پاک سرزمین پارٹی ‘‘ بنا نا کراچی میں رونما ہونے والی ایک بہت بڑی اور چونکا دینے والی سیاسی تبدیلی ضرور قرار پائی لیکن ان کی بغاوت اور پھر الگ سیاسی جماعت قائم کرکے اس کے سربراہ کی حیثیت سے سیاست کرنا سیاست کے میدان میں کوئی انوکھی بات نہیں تھی کہ اس طرح کے واقعات پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک میں ہوتے رہتے ہیں لیکن فاروق ستار نے جس طرح الطاف حسین کی بنائی ہوئی پارٹی پر قبضہ کرکے خود کو اس کا قائد بنا کر الطاف حسین کے نام پر ملنے والے انتخابی مینڈیٹ کو چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے پارٹی اور حکومتی عہدوں کو بچانے کے لیئے مصلحت پسندی اور مفاد پرستی سے بھرپور سیاست کا جو شرمناک مظاہرہ پیش کیا اس سے کم سے کم یہ بات تو ثابت ہوہی گئی کہ فاروق ستار مظلوم اور معصوم آدمی نہیں بلکہ ایک نہایت چالاک سیاست دان ہیں جو بدلتے ہوئے حالات و واقعات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا فن بہت اچھی طرح جانتے ہیں ۔
دوسری طرف مصطفی کمال جو کہ اپنی صاف گوئی ،سچائی ،بے باکی اورفن خطابت میں عبور رکھنے کی وجہ سے پاکستان اور خاص طور پر کراچی کی سیاست میں بہت تیزی کے ساتھ مقبول عوامی رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیںان کا ماضی اور حال ان کی عوامی مقبولیت میں دن بدن اضافہ کررہا ہے جبکہ ماضی کے مقابلے میں اس بار ان کا نظریہ اور فلسفہ پاکستانیت کا فروغ اورملک میں رہائش پذیر تمام قومیتوں سے برابری کی بنیاد پربھارئی چارگی کے فروغ اور پاکستانی پرچم کو سربلندکرتے ہوئے کراچی سمیت پورے پاکستان کی ترقی اور استحکام کی سیاست کرنا ہے، وہ سیاست میں بدمعاشی ،بھتہ خوری ،دہشت گردی اور قتل وغارت گری کے شدید مخالف سیاسی رہنما کے طور پہچانے جانے لگے ہیں جن کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفت کو دشمنی میں بدلنے کی روایت کو بدل کر ہی پاکستان کی سیاست میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ’’ پاک سرزمین پارٹی ‘‘ کے پلیٹ فارم سے وہ گزشتہ ایک سال اور 3 ماہ سے مسلسل پاکستانیت کے پرچار اور سیاست میں شرافت کے فروغ کے لیئے عملی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں جبکہ ان کی اور ان کی پارٹی کے دیگر قائدین کے کریڈٹ پریہ بات بھی ہے کہ انہوں نے اپنے پارٹی اور حکومتی عہدوں اور مراعات کو لات مار تے ہوئے ایم کیو ایم سے الگ ہوکر اپنی ایک علیحدہ سیاسی جماعت بنا کر نئی سیاسی سرگرمیاں شروع کی ہیں جو پاکستان کی سیاست میں ایک بہت بڑی اور انوکھی سیاسی تبدیلی قرار دیا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک میں اپنے عہدوں اور مراعات سے ہر صورت میںآخری وقت تک چمٹے رہنے کی جو روایات قائم ہیں ان کا شرمناک مظاہر ہ آج کل پانامہ لیکس کیس میں ملوث مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف ،ان کی فیملی اور ان کے حواریوں کی جانب سے پیش کیا جارہا ہے جبکہ فاروق ستار گروپ بھی پارٹی اور حکومتی عہدوں اور مراعات سے ہنوز چمٹا ہوا ہے حتیٰ کے فاروق ستار اور ان کے ساتھی الطاف حسین کے نام پر ملنے والے عوامی انتخابی مینڈیٹ سے بھی دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں مصطفی کمال اور ان کے ساتھیوں کا کردار بہت واضح اور قابل فخر ہے کہ انہوں نے الطاف حسین اور ایم کیوا یم سے اختلافات پیدا ہونے کے بعد اپنے پارٹی اورحکومتی عہدوں اور تمام مراعات کو ٹھوکر مارتے ہوئے استعفے دیے اور نئی سیاسی جماعت’’ پاک سرزمین پارٹی ‘‘ قائم کرکے ایک نئے فلسفے اور نظریہ کے مطابق اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کیںجو کہ اس مفاد پرستی اور کرپشن کے دور میں ایک ایسا مثالی اور قابل تقلید رویہ ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں کسی بھی اہم حکومتی عہدے پر فائز شخص آخر وقت تک اپنے سرکاری مقام اور مراعات کو چھوڑنے کے لیئے تیار نہیں ہوتا ،مصطفی کمال اور ان کے ساتھ آنے والے تمام اہم سیاسی رہنماؤں نے اپنے سرکاری عہدوں اور مراعات کو وقت سے بہت پہلے ٹھوکر مارکرعوامی حقوق کی بازیابی کے لیئے مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کے قافلے میںشمولیت اختیار کی جو کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک بہت بڑا قدم ہے جو صرف وہ ہی لوگ اٹھاسکتے ہیں جن کا ضمیر زندہ ہواور یہ حقیقت ہے کہ مصطفی کمال اور ان کے ساتھ موجود تمام مرکزی قائدین کا شمار باضمیر افرادمیں ہوتا ہے اور ایسے ہی افراد کسی معاشرے کی آبرو ہوتے ہیں۔مصطفی کمال نے نئی سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کے قیام کے بعد متعدد بار اپنی تقاریر اور ٹی وی انٹرویوز میں موجودہ ایم کیو ایم کے خود ساختہ سربراہ فاروق ستار کو معصوم اور مظلوم آدمی قرار دے کر طنزیہ انداز میں ان کا تذکرہ کیا جبکہ کچھ عرصہ قبل ایک تقریب میں جب مصطفی کمال اور فاروق ستار اتفاقیہ طور پر اکٹھے دکھائی دیے تو مصطفی کمال نے اخلاقی طور پر ان کے لیے نہ صرف اپنی سیٹ خالی کی بلکہ ہاتھ ملانے میں بھی پہل کرکے سب کو چونکا دیاجس کے بعد ان دونوں کے مصافحے کی تصاویر اورویڈیو کئی روز تک میڈیا پر نظر آتی رہیں لیکن اس ملاقات اور مصافحے کے باوجود مصطفی کمال اور فاروق ستار کے درمیان موجود فاصلے کم نہ ہوسکے جس کی وجہ شاید یہ رہی کہ کراچی کی سیاست میں یہ دونوں ہی الگ الگ پلیٹ فارم سے اپنے اپنے فلسفے اور نظریے کے مطابق اپنی پارٹیوں کے مرکزی قائد کی حیثیت سے مصروف عمل ہیںاور دونوں ہی خود کو کراچی کا وارث قرار دیتے ہیں اس صورتحال میں ان دونوں کا ایک ساتھ مل کر کام کرنا بظاہر تو ناممکن ہی نظر آتا ہے۔
پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین سید مصطفی کمال جو کہ فاروق ستار کے حوالے سے متعدد مرتبہ مثبت طرز عمل کا مظاہرہ کرچکے ہیں لیکن کئی مواقع پر انہوں نے فاروق ستار کے حوالے سے اپنا رویہ بھی تبدیل کیا وہ اپنی تقاریر اور پریس کانفرنسس میں فاروق ستار کو کبھی فاروق بھائی اور کبھی صرف فاروق ستار کہتے ہوئے دکھائی دیے یعنی کراچی کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے مطابق ان کا رویہ بدلتا ہوا نظر آیا ،اگر ہم پاک سرزمین پارٹی کے قیام کے بعد سے مصطفی کمال کی اکثر تقاریر اور پریس کانفرنسوں کو بغور سنیں تو ہمیں فاروق ستار کے حوالے سے ان کی رائے واضح طور پربدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے جسے ہم مصطفی کمال اور ان کے چند ساتھیوں کی ذاتی خواہش یا پھر سیاسی ضرورت بھی قرار دے سکتے ہیں کہ فاروق ستار سے بے شمار اختلافات اور ان کے انتہائی متنازعہ سیاسی کردار کے باوجود کراچی کی سیاست میں ایم کیو ایم پاکستان کے موجودہ سربراہ کی حیثیت سے ان کی اہمیت اور مقام سے انکار نہیں کیا جاسکتا پھر اردوبولنے والی آبادی کا ایک بہت بڑا طبقہ آج بھی فاروق ستار کے ساتھ جڑا ہوا نظر آتا ہے جس کا واضح ثبوت حال ہی میں ہونے والا ایک ضمنی الیکشن کا منظر عام پر آنے والا نتیجہ ہے جس میں الطاف حسین کی جانب سے اس ضمنی الیکشن کے بائیکاٹ کے اعلان کے باجود فاروق ستار کی جانب سے نامزد کیئے گئے امیدوارکو اس انتخابی حلقے میں 16 ہزار لوگوں نے ووٹ دیے جسے کراچی کے سیاسی منظر نامے کے حوالے سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ،گوکہ اس حلقے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی نے ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار کے نامزد کردہ امیدوار کو کئی ہزا رووٹوں کی اکثریت سے ہرا دیا لیکن پھر بھی اس انتخابی رزلٹ سے یہ بات تو واضح ہوہی گئی کہ فاروق ستار کی ایم کیو ایم کو اگر اس ایک حلقے سے 16 ہزار ووٹ مل سکتے ہیں تو پھر 2018 کے الیکشن کے نتائج میں فاروق ستار کے حامیوں کے ووٹوں کی تعداد میں کس قدر اضافہ ہوسکتا ہے ۔
شاید اسی سیاسی حقیقت کے پیش نظر مصطفی کمال نے ایک بار پھر اپنی تقاریر اور ٹی وی ٹاک شوز میں ایک بارپھر فاروق ستار کو فاروق بھائی کہنا شروع کردیا ہے بلکہ متذکرہ ضمنی الیکشن کے انتخابی نتائج کے بعد مصطفی کمال اور پاک سرزمین پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے جو اہم پریس کانفرنس کی گئی اس میں مصطفی کمال نے میڈیا کے سامنے کراچی کے لوگوں کو گواہ بناتے ہوئے فاروق ستار کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے ان کو دعوت دی کہ وہ ان کے سیاسی پلیٹ فارم پر آئیں تاکہ کر مل کر کوئی ایسا راستہ نکالا جائے کہ کراچی کی انتخابی سیاست میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کو روکا جاسکے کہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن کے باوجود ضمنی الیکشن میں اردو بولنے والوں کے قائدین کے اختلافات اور الگ الگ پارٹیوں کی وجہ سے کامیابی حاصل کررہی ہے کیونکہ کراچی کے اردوبولنے والے باشندوں کے ووٹ تقسیم ہورہے ہیں جن کی وجہ سے کراچی میں سیاست کرنے والی دوسری جماعتوں خاص طور پر پیپلز پارٹی کو فائدہ پہنچ رہا ہے گوکہ مصطفی کمال کی جانب سے اردو بولنے والوں کی نمائندگی کرنے والے لیڈر فاروق ستار کو آپس میں مل کر اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیئے دعوت دینا ایک مثبت اور دور رس نتائج کا حامل رویہ ہے لیکن مصطفی کمال کی طرز سیاست پر تنقید کرنے والے بعض تجزیہ نگار ان کے اس بدلتے ہوئے طرز عمل کو ان کے دل میں چھپی ہوئی خواہش کہ â کسی بھی طرح فاروق ستار کو پاک سرزمین پارٹی میں شامل کیا جائےá کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔
کراچی کی سیاست میں مصطفی کمال اور فاروق ستار اپنے علیحدہ فلسفے ،نظریے اور طرز سیاست کے مطابق اپنی علیحدہ سیاسی جماعتوں سے کراچی کے ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں بس دونوں کے انداز سیاست میں بعض بڑی باتیں ایسی ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہیں جیسا کہ مصطفی کمال کا الطاف حسین اور ایم کیو ایم سے بغاوت کرتے ہوئے ایک نئی سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی قائم کرکے لسانی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے پاکستانیت اور وطن پرستی پر مشتمل سیاست کرنا،الطاف حسین کی وجہ سے ملنے والے انتخابی مینڈیٹ ،پارٹی اور حکومتی عہدوں سے استعفیٰ دیتے ہوئے تمام اختیارات اور مراعات کو ٹھوکر مار کر عوا م کے درمیان آنا جبکہ فاروق ستار کا الطا ف حسین کو اسی کی بنائی ہوئی پارٹی سے باہر نکال کر اس پر قبضہ کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا اور الطاف حسین کے نام پر ملنے والے انتخابی مینڈیٹ کی بنیاد پر ملنے والے پارٹی اور حکومتی عہدوں اور مراعات سے مسلسل چمٹے رہنا ۔اگر ہم مصطفی کمال اور فاروق ستار کی ذاتی خوبیوں ، کردار اور سرکاری عہدوں پر رہتے ہوئے ان کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں تو ہمیں مصطفی کمال کا پلڑا ہر لحاظ سے بھاری نظر آتا ہے کہ مصطفی کمال ایک اصول پسند ،سچے ،باضمیر،بہادر اور نہایت فعال سیاسی رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں جبکہ فاروق ستار کے موجودہ طرز سیاست کی وجہ سے اکثر حلقے اور عوام کی اکثریت انہیں ایک مفاد پرست ،موقع پرست ،زیرک اور مصلحت پسند سیاست دان کے طور پرجانتے ہیں۔
مصطفی کمال اور فاروق ستار کی شخصیت ،کردار ،فلسفہ،نظریہ ،طرز سیاست اورانداز گفتگو سب کچھ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے اور کراچی کی سیاست میں یہ دونوں ہی سیاسی رہنما اہم ترین کردار ادا کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ دونوں ہی کا تعلق کراچی سے ہے دونوں کا ہی تعلق ماضی میں ایک ہی سیاسی پارٹی ’’ ایم کیو ایم الطاف گروپ‘‘ سے رہ چکا ہے ،دونوں ہی الطاف حسین سے لاتعلقی اختیار کرچکے ہیں اور دونوں ہی اردو بولنے والوںمیں مقبول ہیں۔ا ن حالات اور زمینی حقائق کے پیش نظر اگر کوئی اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ فاروق ستار 2018 کے الیکشن کے نتائج سے قبل مصطفی کمال یا پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ ملنے پر آمادہ ہوجائیں گے تو اسے ہم سوائے خوش فہمی یا غلط فہمی کے اور کیا قرار دے سکتے ہیںپھر ایک بات بھی اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتی ہے کہ مصطفی کمال نے نہ صرف فاروق ستار بلکہ پوری ایم کیو ایمâفá کو اپنے ساتھ مل جانے کی دعوت دی ہے جو کہ اس لحاظ سے قابل اعتراض ہے کہ فارو ق ستار کی ایم کیو ایم میں وسیم اختر اور خواجہ اظہار الحسن جیسے بدنام زمانہ لوگ بھی موجود ہیں جن میں سے وسیم اختر مبینہ طور پر کراچی میں 12 مئی کو ہونے والے قتل عام اور کھلم کھلا رشوت لینے کے واقعات میں ملوث ہیں اور اظہار الحسن بھی اپنی کرپشن اور شادی ہالوں کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں جبکہ خود مصطفی کمال کئی مواقع پر وسیم اختر اور خواجہ اظہار الحسن کے شخصی کردار کے بارے میں بہت کچھ کھل کر بول چکے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر مصطفی کمال کی دعوت پر فاروق ستار اکیلے یا پھر پوری ایم کیو ایم âفá کے ساتھ پاک سرزمین پارٹی سے آکر مل جاتے ہیں یا ان سے کسی قسم کا کوئی اتحاد کر لیتے ہیں تو اس کے مصطفی کمال، ان کے دیگر ساتھیوں اور پاک سرزمین پارٹی پر کیا اثرات مرتب ہونگے ؟ مصطفی کمال جیسے بااصول ،نڈر،سچے اور باضمیر سیاست دان کے ساتھ فاروق ستار جیسے زیرک ،مفاد پرست،موقع پرست اور مصلحت پسند سیاست دان کس طرح ایڈجسٹ ہونگے ؟ ظاہر کہ یہ دونوں ہی ایک دوسرے کے نیچے کام کرنے پر آمادہ نہیں ہونگے پھر سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ دنوں آپس میں مل جاتے ہیں یا ان دونوں کی سیاسی پارٹیاں آپس میں مل جاتی ہیںتو اس طرح کی سیاست کی وجہ سے ان دونوں لیڈروں اور جماعتوں کو پسند کرنے والے ووٹروں پر کیا اثرا ت مرتب ہونگے ؟ مصطفی کمال جو اب ایک سچے ،بہادر ، محب وطن اور بااصول پاکستانی سیاسی رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور جو واضح طور پر لسانی سیاست کو خیر باد کہہ کر ملکی سطح کی وفاقی سیاست کرنے کے لیئے پاکستانی جھنڈے اور پاکستانیت کی عزت اور حرمت کو اجاگر کرتے ہوئے میدان سیاست میں ایک نئی پہچان کے ساتھ مصروف عمل ہیںوہ کس طرح ایک خالص لسانی سیاسی جماعت ایم کیو ایم âفá کو اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں یا خود ان کے ساتھ مل سکتے ہیں؟ فاروق ستار توچونکہ ایک موقع پرست اور مفاد پرست مصلحت پسند سیاست دان کے طور پر ہی جانے پہچانے جاتے ہیں تو ان کے لیئے مصطفی کمال سے مل جانا کوئی انوکھی بات نہیں سمجھی جائے گی کہ ا ن کا سابقہ ٹریک ریکارڈ بے اصولی اور مفاد پرستی کو واضح طور پر نمایاں کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن مصطفی کمال جیسے بااصول ،باضمیر ،بہادر اور وطن پرست سیاست دان کے لیئے ایم کیوایم فاروق ستار گروپ کو اپنے ساتھ کسی بھی شکل میں ملانے کا نتیجہ ان کے سیاسی مستقبل کے لیئے زہر قاتل ہوگا جوکہ ان کی سیاسی موت کا سبب بن سکتا ہے۔
کوئی ایک غلط سیاسی فیصلہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی سیاسی موت کا سبب بن جایا کرتاہے جس کی تازہ ترین مثال ذوالفقار علی بھٹو جیسے عظیم اورمقبول عوامی رہنما کی سیاسی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کے زوال سے دی جاسکتی ہے کہ جب سے پیپلز پارٹی کی قیادت آصف زرداری کے ہاتھ میں آئی ہے پیپلز پارٹی مسلسل تنزلی کی جانب گامزن ہے اور وہ پیپلز پارٹی جو پورے پاکستان سے ووٹ لے کر کامیاب ہوا کرتی تھی اب عملا صرف صوبہ سندھ تک محدو د ہوکر رہ گئی ہے ۔
مصطفی کمال اس وقت اپنی پرکشش شخصیت،سچائی ،اصول پسندی ،بہادری اور قول وفعل میں یکسانیت کی وجہ سے جس برق رفتاری کے ساتھ کراچی سمیت ملکی سیاست کے آسمان پر پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گرہیں اس کا تقا ضہ تو یہی ہے کہ مصطفی کمال خود کو ،اپنے ساتھیوں کواوراپنی سیاسی پارٹی پاک سرزمین پارٹی کو فاروق ستار اور ان کی سیاسی پارٹی ایم کیو ایم سے دور ہی رکھیں ورنہ خدانخواستہ اگروہ آسمان کی بلندیوں سے زمین کی پستیوں پر آکر گرے تو نہ صرف ان کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ کراچی سمیت پورے ملک کے عوام ایک بہت اچھے انسان اور نہایت بہترین محب وطن سیاسی لیڈر سے محروم ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.