/

 ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی 26-2022 کی منظوری

 وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی 26-2022 کی منظوری دے دی گئی۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں وفاقی وزراء، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، اور سینئر سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ پالیسی کل حتمی منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کسی بھی داخلی اور خارجی خطرات سے نبرد آزما ہونے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی تیاری اور منظوری ایک تاریخی اقدام ہے، ملک کا تحفظ شہریوں کے تحفظ سے منسلک ہے، پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کیلئے تمام ادارے مربوط حکمت عملی اپنائیں۔وزیراعظم نے قومی سلامتی پالیسی کی تیاری میں قومی سلامتی ڈویژن اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے پالیسی پر موثر عملدرآمد کے لیے تمام اداروں کو مربوط حکمت عملی اپنانے  اور پالیسی پرعملدرآمد کیلئے ماہانہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

مشیر قومی سلامتی نے بریفنگ میں بتایا کہ قومی سلامتی پالیسی ایک جامع قومی سیکورٹی فریم ورک کے تحت ملک کے کمزور طبقے کا تحفظ، سکیورٹی اور وقار یقینی بنائے گی،  شہریوں کے تحفظ کی خاطر پالیسی کا محور معاشی سکیورٹی ہوگا، معاشی تحفظ ہی شہریوں کے تحفظ کا ضامن بنے گا۔اُنہوں نے بتایا کہ کہ پالسی سازی کے دوران تمام وفاقی اداروں، صوبائی حکومتوں، ماہرین اور پرائیویٹ سیکٹر سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ پالیسی پر عملدارمد یقینی بنانے کیلئے فریم ورک بھی تیار کر لیا گیا ہے۔کمیٹی نے بریفنگ کے بعد قومی سلامتی پالیسی 26-2022 کی منظوری دے دی