ملیرچائنہ کٹنگ کے نرغے میں

جب سے چائنہ کٹنگ کاسلسلہ شروع ہواہے،کراچی کے شہریوں کاجینااجیرن ہوگیاہے۔کراچی کاکوئی علاقہ ایسانہیں ہے جہاں یہ وباعام نہ ہو۔چائنہ کٹنگ میں ملوث افرادکاتعلق لسانی اور سیاسی تنظیموں سے ہوتاہے۔علاقائی عہدیداران،پولیس اور شہری اداروں کے افسران واہل کاروںکی سرپرستی میں جاری اس مذموم کاروبارنے تارِ عنکبوت کی طرح شہر میں پنجے گاڑلئے ہیں۔جہاں کہیں کوئی سرکاری ونجی زمین خالی نظرآئی،وہیں اس مافیانے اپنا کام شروع کردیا۔
ملیر کالونی میں جوشہر کی قدیم ترین وبستیوں میں شمارکی جاتی ہے۔جس کا تذکرہ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے بھی اپنی شاعری میں کیاہے۔اس کی پرفضا وصحت افزاآب وہوانے بابائے قوم بانی پاکستان محمدعلی جناح کواپناگروید بنارکھاتھااور وہ ملیر میں رہائش کو ترجیح دیتے تھے۔نواب آف بھوپال کا بنگلہ آج بھی اس بات کاثبوت ہے۔ملیر کی سبزیاں اور پھل بالخصوص ہری مرچ اوراَمرودنہایت ہی مقبول ہیں ۔ملیر کی آبادی تقریباًدس لاکھ نفوس پرمشتمل ہے۔کسی وقت یہاں کا علاقہ انتہائی کشادہ اور کھلا ہواکرتاتھالیکن اب بے ہنگم آبادی،کچی آبادیوںکی بھرمار،بلامنصوبہ بندی ،آبادکاری ،قبضہ وچائنہ کٹنگ نے علاقے کا حلیہ بگاڑدیاہے۔جن زمینوں پرپھل اور سبزیاں کاشت کی جاتی تھیں، وہاں جبراًپلاٹوں کی کٹنگ اورتعمیرات کی جارہی ہیں جس سے زرعی رقبہ سکڑتاجارہاہے جوکہ انتہائی تشویش ناک بات ہے۔کیونکہ کراچی کو سبزیاں اور پھل ملیر سے ہی فراہم کئے جاتے تھے۔
کراچی کے شہریوں کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ان پر کئی عشرے سے لسانی جماعتوں مسلط ہیں اور ان کی تشددپسندانہ پالیسیوں نے شہریوں کی نفسیات کو خاصا متاثرکیا ہے۔ملیر کے کئی علاقوں میں پولیس کی سرپرستی میں قبضہ مافیاسرگرم ہے اور شہری اداروں وپولیس کی زیرسرپرستی میں یہ دھنداعروج پرہے۔پولیس دکانداروں ،پتھارے داروں سے ماہانہ بھتہ وصول کرتی ہیں۔کسی وقت میں ملیر کی معروف مرکزی مارکیٹ ’’لیاقت مارکیٹ‘‘کی چورنگی پر کے ڈ ی اے کاایک انتہائی خوبصورت دفتر ہواکرتاتھاجہاں مکانوں کے کاغذات اور لیس کا کام ہوتاتھالیکن ایک لسانی تنظیم نے قبضہ کرکے وہاں کئی سودکانوں پرمشتمل گول مارکیٹ بنادی اور کڑوڑوں روپے سرکاری افسران ولسانی عہدیداران نے کمالئے لیکن آج تک اس حوالے سے کوئی انکوائری نہیں ہوئی۔اس طرح ملیر سعودیہ فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر میں کڑوڑوں روپے بدعنوانی کی نذرہوگئے ۔کمیشن کھاکر سرکاری اہلکارایک طرف ہوگئے۔لاکھوں روپے صرف کرکے فلڈ لائٹس لگائی گئیں ۔فٹبال یونین کے نام پر لاکھوں روپے ادھراُدھرہوگئے ۔مین روڈپرقبضہ کرکے یونین آفس کا دفتر بنالیاگیاجس سے مرکزی سڑک بندہوگئی۔لا کھوں روپے صرف کرکے اسٹیڈیم تعمیر کیاگیا ہے لیکن آج تک یہاں کھیلوں کا انعقادنہیں ہوا۔اصل مقصدجگہ پرقبضہ کرنا تھا جب کہ علاقے کے بچے کھیل کودکی جگہ سے محروم ہوگئے ہیں ۔تریباًبیس سے زائد دوکانیں بھی قائم کی ہیں جوکرائے پر دی گئی ہیںاس کا کرایہ کس کی جیب میں جاتا ہے کوئی پتہ نہیں گویا بدعنوانی عروج پرہے۔
ملیر میں مسافروں کے لئے بنائے گئے بس اسٹاپ پرلسانی تنظیموں نے قبضہ کرکے دکانیں بنالیںاور کرائے پردے دیں۔ اب ان انتظارگاہوں میںکالابورڈبس اسٹاپ میں بریانی اور مرغی والے کی دکان جب کہ ٹوکن اسٹاپ گھانچی ہال کے ساتھ بس اسٹاپ میں جنرل اسٹال کھل گیاہے اور کرایہ لسانی تنظیم کے عہدیداروصول کرتے ہیں جب کہ بجلی کنڈے کی استعمال ہوتی ہے اور مسافر دھوپ اوربارش میں کھڑے انتظارکرتے ہیں۔ملیر میں ٹرانسپورٹ کا نظام بھی انہیں تنظیموں کی مرضی سے مرتب کیاجاتاہے،یہی وجہ ہے ملیر میں ٹرانسپورٹ ناپید ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ نشتراسکوائر بس اسٹاپ ،علاقہ ایچ ایریامیں ،مین روڈپرقناتیں لگاکربچوں کے لئے مختص پارک کی جگہ پرلسانی تنظیم کے عہدیدارقبضہ کرکے چائنہ کٹنگ میں مصروف ہیں ۔شنید ہے کہ یہاں موبائل مارکیٹ بنائی جائے گی، تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہےں، صرف ترنگا لہرانے کی دیر ہے، جیسے ہی فضا میں تنظیم کا ترنگا بلند ہو گا، تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا۔حیرت اس بات پر ہے کہ سیکورٹی نافذکرنے والے ادارے بھی اس سلسلے میں چپ سادھے ہوئے ہیں۔پولیس سے خیر وبھلائی کی توقع رکھنا عبث ہے لیکن رینجرزبھی اس معاملے سے الگ تھلگ نظرآرہی ہے ۔جب کہ کارکنان اپنا کام سرکاری مشینری کے ذریعے جاری رکھے ہوئے ہیں۔اہلیان ملیر کی نظریں رینجرزکی جانب لگی ہوئی ہیں کہ کب ان کی طرف سے سرکاری زمین قبضہ مافیاسے واگزارکرانے کے لئے کارروائی کی جائے گی ابھی تو ابتدائی کاروائی ہے۔اگرتعمیر مکمل ہوگئی تو پھر مشکل ہوگی۔ جس جگہ یہ تعمیر کی جارہی ہے وہاں سے پانی کی مین لائن گزررہی ہے۔جس سے علاقے کے مکینوں کو پانی کا کنکشن مہیاکیاگیاہے اور یہیں سے ٹیلی فون کیبل بھی گزررہاہے۔ جس سے سیکڑوں فون سروس بند ہونے کاخطرہ ہے ۔لہٰذاشہریوں کی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے قبضہ مافیاسے زمین کو آزادکرایاجائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.