میر تقی میر

ریختہ کہ تمہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
میر تقی میر کا اصل نام میر محمد تقی اور والد کا نام محمد علی متقی تھا۔آپ 28مئی 1723 کو #آگرہ میں پیدا ہوئے، میر انکا تخلص تھا اور اردو شاعری میں میر تقی میر کا مقام بہت اونچا ہے انہیں ناقدین شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا ہے۔ اپنے زمانے کے منفرد شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔
میر نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان اللہ سے حاصل کی مگر مزید تعلیم سے قبل جب میر ابھی نو برس کے تھے تو وہ چل بسے اور انکے بعد میر کے والد نے انکی تعلیم و تربیت شروع کی مگر چند ماہ بعد ہی انکا بھی انتقال ہو گیا۔یہاں سے میر کی زندگی میں رنج و الم کے طویل باب کی ابتدا ہوئی۔ انکے سوتیلے بھائی محمد حسن نے اچھا سلوک نہ رکھا اور تلاش معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازمت اختیار کی مگر جب نواب #موصوف ایک جنگ میں مارے گئے تو میر آگرہ لوٹ آئے مگر گزر و بسر کی کوئی صورت نظر نہ آئی۔ چنانچہ دوبارہ دہلی روانہ ہوئے اور اپنے خالو سراج الدین آرزو کے ہاں قیام پذیر ہوئے مگر سوتیلے بھائی کے کہنے پر آرزو نے بھی نہیں پریشان کرنا شروع کر دیا۔
بالآخر ان تمام مشکلات کے بعد گوشہ عافیت کی تلاش میں لکھنؤ کی طرف چل دئیے اور شاعری کا آغاز کیا تو لکھنؤ میں آپکی شاعری کی دھوم مچ گئی، نواب آصف الدولہ نے تین سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا اور میر سکون کی زندگی بسر کرنے لگے مگر تند مزاجی کی وجہ سے کسی بات پر #ناراض ہوکر دربار سے علیحدہ ہو گئے۔
میر صاحب کی وضع قدیمانہ تھی۔ کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، اک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹڑی دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع پاجامہ، جس کے عرض کے پائیجے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب محفل میں داخل ہوئے تو لکھنؤ کے لوگ، نئے انداز، نئی تراشیں، بانکے ٹیڑھے جوان جمع، انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے، میر صاحب بیچارے غریب الوطن، زمانے سے دل شکستہ اور بھی دل تنگ ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے، شمع انکے سامنے آئی تو پھر سب کی نظر پڑی، چند لوگوں نے پوچھا، حضور کا وطن کہاں ہے؟ میر صاحب نے یہ قطعہ کہا:
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
جس کو فلک نے لوٹ کر ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسے اجڑے دیار کے
سب کو حال معلوم ہوا تو بہت معذرت طلب کی۔
ہر شاعر اپنے ماحول کی پیداوار ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں میں خود کو تبدیل کرتا جاتا ہے۔ میر تقی میر ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جو سیاسی،سماجی،ملکی اور معاشی اعتبار سے سخت انتشار افراتفری کا #دور تھا۔ پورا ملک لوٹ مار کا شکار تھا۔ ہر دن کوئی نہ کوئی بیرونی دشمن حملہ کر کے جان اور مال کا نقصان کرتے، لوگ بھوک سے مر رہے تھے ہر طرف اقتصادی بدحالی کا دور تھا اور میر نے یہ سارا خونی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔میر کی شاعری میں ان کی زندگی اور زمانے کا درد نظر آتا ہے۔
ڈاکٹر سید عبداللہ فرماتے ہیں، ”میر کا سب سے بڑا مضمون شاعری انکا غم ہے۔ غم و الم میر کے مضامین شاعری کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔یہ غم میر کا ذاتی غم بھی تھا اور یہی انسان کی ازلی اور ابدی تقدیر کا غم بھی تھا۔یہ سارے غم میر کی شاعری میں جمع ہو گئے”
میر کو تصور یہ نہیں کہ زندگی مایوس کن ہے فقط اس میں غم و الم کا ذکر زیادہ ہے۔ مگر یہ غم و الم ہیمں زندگی سے نفرت نہیں سکھاتا بلکہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں زندگی کے مشکل #لمحوں میں زندگی سے کس طرح نباہ کرنا ہے۔
میر نے فنی خلوص میں بڑی #صداقت سے کام لیا ہے، فنی خلوص سے مراد کہ شاعر زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کو جس طرح دیکھتا ہے اسی طرح بیان کرے۔
میر کے انداز اسلئے بھی مقبول ہے کہ ان کی شاعری میں تمام باتیں صداقت، خلوص اور بےتکلفی سے کی گئی ہیں۔
میر کا خطابیہ انداز بہت منفرد ہے کبھی وہ خود سے مخاطب ہو کر باتیں کرتے اور کبھی دوسرے شخص سے۔ کبھی انکا تخاطب بلبل اور کبھی شمع و پروانہ سے ہوتا۔ میر صاحب کی ایک محبت بھری آواز کانوں سے ٹکراتی تھی جو سامعین کو اپنے حلقہ اثر میں لے لیتی تھی اور سب میر صاحب کی باتوں سے لطف اندوز ہونے لگتے تھے۔
میر صاحب کا عشق کے متعلق تصور ہے کہ عشق آداب سکھاتا ہے۔اگرچہ ہی اسکا انجام ہمیشہ ہی دردناک ہوتا ہے پھر بھی میر عشق سے بڑی محبت رکھتے ہیں۔ عشق ہی انکی زندگی کا اصل حاصل ہے۔اس عشق سے میر نے زندگی کا سلیقہ سیکھا۔ میر کی نظر میں زندگی کی ساری گہما گہمی اسی عشق کی وجہ سے ہے اگر عشق نہ ہوتا تو کار خانہ قدرت بےکار،خاموش اور بےلذت ہوتا۔
میر کی شاعری کا ایک مخصوص رنگ ہے جس نے تمام شعرائ کو بہت متاثر کیا اور بہت سے شعرائ نے اس رنگ میں شعر کہنے کہنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔
مولوی عبد الحق فرماتے ہیں ” میر تقی میر سرتاج شعرائے اردو ہیں۔ انکا کلام اسی ذوق و شوق سے پڑھا جائے گا جیسے سعدی کا کلام فارسی میں۔اگر دنیا کے ایسے شعرائ کی ایک فہرست تیار کی جائے جن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا تو میر کا نام اس فہرست میں ضرور شامل ہوگا”
رشید احمد صدیقی فرماتے ہیں ” غزل شاعری کی آبرو ہے اور میر غزل کے بادشاہ ہیں”
میر کی وفات سے تین سال پہلے جوان بیٹی اور بیوی کے انتقال نے آپکی کی زندگی پر گہرا اثر چھوڑا۔ آخر اقلیم خدائے سخن 87سال کی عمر میں پاکر 1810 میں لکھنؤ میں انتقال کر گئے۔
ابنِ انشائ کہتے ہیں:
اللہ کرے میر کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی
کتاب دوستی کبھی مٹ نہیں سکتی
سارہ عمر ۔الریاض سعودی عرب.
جدید دور کی سب سے حیران کن تخلیق موبائل-فون ہے جس نے ایک چھوٹے سے ڈبے میں ہر طرح کی سہولت انسان کو میسر کر دی ہے-
اب کیمرہ اٹھانا نہیں پڑتا، موبائل سے تصویر کھینچ لی جاتی ہے، گھڑی پہنی نہیں پڑتی وقت بھی موبائل سے دیکھ لیا جاتا اور تو اور اب تو حساب کتاب کے لیے کیلکولیٹر کی ضرورت نہیں-لکھنے لکھانے سے لے کر ایکسل شیٹ تک ہر طرح کا فنکشن تو موبائل کے اندر موجود ہے-
نئے زمانے میں سب کچھ آن لائن ہو چکا ہے-پہلے قطاروں میں لگ کر وقت ضائع کیا جاتا تھا مگر اب تو بل بھی گھر بیٹھے جمع ہو جاتا ہے اور پیسے بھی گھر بیٹھے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہو جاتے ہیں-شاپنگ بھی لوگ اب آن لائن کرتے ہیں-
اس موبائل کے ہزاروں فوائد ہیں مگر اس نے آج کل کے انسان کو کتاب سے دور کر دیا ہے-پہلے زمانے میں جتنا وقت کتاب پڑھنے، اسے لائبریری میں جا کر تلاش کرنے میں دیا جاتا تھا اب وہ فرصت کسی کے پاس موجود نہیں-وقت کی ضرورت کے تحت کتابیں بھی اب ”ای بکس” بن گئی ہیں-کتابوں کی پی ڈی ایف فائل بنا کر اسے موبائل فون میں محفوظ کیا جا سکتا ہے-یہ عمل قاری کی تشنگی مٹانے کے لیے تو بہترین ہے مگر صاحب کتاب کے لیے بلکہ مفید نہیں-
کتاب کو موبائل-فون سے پڑھنے کا ایک نقصان بینائی پہ اثرات بھی ہیں-سو دو سو صفحات کی کتاب کو موبائل کی اسکرین سے پڑھنے کے باعث بینائی متاثر ہوتی ہے اور یہ صحت کے لیے بے حد نقصان دہ ہے-
بے شک پرانے زمانے کے قارئین اس بات پر متفق ہوں گے کہ کتاب پڑھنے کا اصل لطف اسی کتابی صورت میں ہی پڑھنا ہے-کچھ ہی سالوں پرانی بات ہے کہ افراد مطالعے کے لیے مخصوص کمرے کا انتخاب کرتے، جہاں سکون سے کتاب کا مطالعہ کیا جا سکے-
رات سونے سے پہلے لوگوں کی کثیر تعداد مطالعہ کر کے سونے کی عادت رکھتی تھی-یہ مطالعہ نہ صرف علم میں اضافے کا باعث بنتا بلکہ باعمل زندگی گزارنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا-صاحب حیثیت لوگ اپنے گھروں میں ایک ایسا کمرہ ضرور مخصوص کرتے جہاں کتابیں ذخیرہ کی جا سکیں تاکہ گھر آئے مہمان بھی اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے مطالعہ کر کے فیض یاب ہو سکیں-
لیکن وقت کے بدلتے ہی کتاب دوستی بھی بدل چکی ہے-اب کتابوں کا ذخیرہ صرف گھر آئے مہمانوں کو متاثر کرنے کے لیے ہی کیا جاتا ہے-موٹی موٹی کتب سے بھری الماریاں میزبان کے ادبی ذوق رکھنے کی نشاندہی کرتی ہیں-اگر مہمان خود بھی ادبی ذوق کا حامل ہو تو صورتحال خاصی پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ کتاب لے جائے اور مڑ کر کبھی واپس نہ کرے-یہ بھی آج کل کے بے ادب ادبی افراد کا ایک عمومی رویہ ہے-اسی پہ بس نہیں آج کل کے قارئین کو موبائل خریدنے کے لیے تو پیسے خرچ کرنے آتے ہیں مگر کتاب کے لیے نہیں-
کسی بھی صاحب کتاب کو دیکھ کر ان سے کتاب تحفے میں لینے کا مطالبہ بھی کر دیا جاتا ہے-اگر تو صاحب کتاب بامروت ہوں تو بھیجنے میں عار محسوس نہیں کرتے مگر یہاں پہ بھی یہ ادبی افراد بے ادبی سے نہیں چوکتے بلکہ کتاب لے کر صاحب کتاب کے احسان کو بھلا دیتے ہیں-حالانکہ اس کا حق ہے کہ اس کی کتاب پہ سیر حاصل تبصرہ کیا جائے جو اس کا سیروں خون بڑھا دے-یہ تبصرے، تجزیے اور تنقید ہی آگے بہتر لکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے-
نئے دور نے جہاں ہماری دوستی موبائل سے کروا دی وہیں کتاب سے دوری ہمارا مقدر بن گئی-پاکستان سمیت دیگر ممالک میں اب بھی مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے علم میں اضافے اور اپنی ذہنی استعداد میں بڑھوتری کے لیے مستقل مطالعے کی عادت اپنائے ہوئے ہیں-کتاب اور استاد کا چولی دامن کا ساتھ ہے-
کتاب کا علم رکھنے والے اور اس سے سیکھنے والے کبھی موبائل کی فالتو ایپس پہ وقت ضائع کرنے والے کے برابر نہیں ہو سکتے-
ایک کتاب کو لکھنے کے لیے مصنف کئی اساتذہ سے مدد لیتا ہے، کئی ماہ و سال تحقیق کرتا ہے اور بار بار اپنی ہی اغلاط کی درستی کرتا ہے-اس سارے علم کو قاری کچھ ہی گھنٹوں میں اپنے اندر اتار لیتا ہے-اس لیے کتاب کو پڑھنا نہایت مفید اور بامقصد عمل ہے-
اردو زبان کی بات کی جائے تو اب اس کو لکھنے اور پڑھنے والے کافی کم ہو چکے ہیں-انگریزی مصنفین کی کتب شوق سے پڑھی جاتی ہیں مگر اردو ادبا کو زمانہ قدیم کی طرح بھلا دیا گیا ہے-یہی وجہ ہے کہ آج کی نسل میں نئے لکھاری ایسا لکھتے ہیں کہ ایک لفظ کی بھی املا درست نہیں ہوتی-رموز و اوقاف کی اغلاط عام ہیں-محاورات اور بامعنی الفاظ کا استعمال تو فقط تدریسی کتب تک ہی محدود ہے-انگریزی زبان کی بے پناہ ملاوٹ نے اردو زبان کی چاشنی کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
نئے لکھاریوں کا مطالعہ اتنا محدود ہے کہ ذخیرہ الفاظ نہ ہونے کے برابر ہے-انگریزی کے متبادل الفاظ کا استعمال بھی نہیں کیا جاتا جس کے باعث تحاریر اردو انگریزی کا مرکب بن کر رہ گئی ہیں-
اردو ہماری قومی زبان ہے اس کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف کتاب کا مطالعہ کریں، اس سے سیکھیں بلکہ موبائل کی دنیا سے نکل کر کتاب دوستی کو رواج دیں کیونکہ کتاب دوستی کبھی مٹ نہیں سکتی