نیشنل بینک میں کرپشن کا نوٹس ‘ حساس اداروں کی تحقیقات

اچیومنٹ ایوارڈ ، ڈس پلیسمنٹ الائونس ، غیر قانونی قرضوں اور بے ضابطہ بھرتیوں سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا
اقبال اشرف کے بیرون ملک فرار پر ایف آئی اے اور سول ایوی ایشن سے تفصیلات طلب ، تحقیقات کا دائرہ علی رضا کے دور تک پھیلادیا گیا
کراچی_اسٹاف رپورٹر_ نیشنل بینک میں کرپشن کے خوفناک انکشافات کا اعلی سطح پر سخت نوٹس لیتے ہوئے حساس اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ اقبال اشرف کی موجودہ صورتحال میں بیرون ملک فرار پر بھی ایف آئی اے اور سول ایوی ایشن سے تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں ۔ اچیومنٹ ایوارڈ ، ڈس پلیسمنٹ الائونس ، غیر قانونی قرضوں اور بے ضابطہ بھرتیوں کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے حوالے سے روزنامہ جدت کی رپورٹ پر نیشنل بنک کی اعلی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں ، ذرائع کے مطابق تحقیقات کا دائرہ سابق صدور بالخصوص علی رضا کے دور تک پھیلا یا جا رہا ہے جب اچیومنٹ ایوارڈ کے نام پر لیبر ویلفیئر فنڈ میں بھاری خرد برد کرتے ہوئے منظور نظر اعلی افسران میں کروڑوں روپے بانٹے گئے۔ زاہد محمود چوہدری کی تعیناتی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جنہیں خلاف قوائد عہدے بانٹے گئے۔ موجودہ صدر نیشنل بنک سعید احمد اس وقت تحقیقی اداروں کی توجہ کا مرکز ہیں جنہیں بنکنگ کا کوئی تجربہ نہ ہونے، برطانوی شہریت رکھنے اور سعودی عرب میں فراڈ کے جرم میں سزا کاٹنے اور لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے کے بعد رہائی حاصل کرنے کے باوجود محض وزیر خزانہ اسحق ڈار کا سمدھی اور وزیر اعظم کا کلاس فیلو ہونے کے سبب نیشنل بنک کا صدر تعینات کردیا گیا۔ واضح رہے کہ نیشنل بنک میں قومی سلامتی کے اداروں سمیت تمام سرکاری ملازمین کے اکائونٹس اورحساس تفصیلات ہوتی ہیں جو غلط ہاتھوں میں جانے سے قومی سلامتی کا مسئلہ ہو سکتا ہے ۔ حساس اداروں نے سابق صدر اقبال اشرف کے بیرون ملک فرار کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے سول ایوی ایشن اور ایف آئی اے سے تفصیلات طلب کر لی ہیں اور جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ان کی فوری روانگی کا پانامہ کیس سے ممکنہ طور پر کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے جلد اہم انکشافات متوقع ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.