پاکستان اسٹیل ملز ۔کون کھا گیا ؟

پاکستان میں ۔سٹیل۔کے کاروبار کی وجہ سے آج دنیا کے کئی افراد کھرب پتی بن گئے ہیں مگر پاکستان اسٹیل ملز کی مشکلات ہر نئے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی ہیں ،اب اس کے ذمہ مجموعی واجبات ریکارڈ200ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں ،ان میں نیشنل بینک کے50ارب سے زائد،حکومتی قرض40ارب سے تجاوز کر چکے ہیں جبکہ حکومتی قرض 140ارب تک پہنچ چکا ہے سٹیل ملز پر نیشنل بینک،کے الیکٹرک،،گیس،میڈیکل اخراجات،ملازمین کی تنخواہوں ،گریجویٹی اور پراوینڈ فنڈز کی مد میں یہ واجبات ہیں ،پاکستان سٹیل ملز کے نقصانات میں ہر ماہ ایک ارب 40کروڑ روپے کا اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے،رپورٹ کے òòòò مطابق سٹیل ملز کے پاس فنڈز ہیں اور نہ ہی منافع کا کوئی ذریعہ بچا ہے،مالی وسائل کے حل کے لئے سٹیل ملز کی اراضی اور تیار مصنوعات بیچ کر فنڈز حاصل کرنے کے دو ہی ذرایع بچے ہیں،اس وقت سٹیل ملز کا نظام اہڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے ملزکے 8ڈائریکٹوریٹ میں سے ایک بھی موجود نہیں جبکہ ادارے کے25جنرل مینجرزمیں سے صرف تین GMہیں ،پاکستان کا سب بڑا فولاد ساز کارخانہ گذشتہ دوسال سے بلوں کی عدم ادائیگی پر بند پڑا ہے،قیام پاکستان کے فوری بعدملک میں سٹیل سمیت دیگر اہم ضروریات پوری کرنے کے لئے قائد ملت لیاقت علی خان کے حکم پر کام کا آغاز ہوا, پاکستان کونسل آف سائینٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) پنج سالہ منصوبہ1960۔1955تشکیل دیا گیا، اس دوران روس کی کمپنی ۔نیکو لائی کینن ۔نے وزیر اعظم پاکستان کو سٹیل ملز لگا کر دینے کی آفر کی ،وزیر اعظم حسین سہروردی اور صدر ایوب خان نے مشاورت کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کمپنیز ایکٹ1913کے تحت قائم کرنے کا فیصلہ کیاسٹیل ملز کے قیام میں امریکی مداخلت کی وجہ سے تاخیر ہوئی تاہم 1969میں ایگریمنٹ فائنل جبکہ 1971میں پاکستان اور روس نے سٹیل ملز کے منصوبے پر دستخط کر دئیے،30دسمبر1973میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں باقاعدہ کا م کا آغاز ہوا جس میں روسی اور پاکستانی انجینئر شامل تھے اس منصوبے کا خواجہ عنائت اللہ کو ڈائریکٹر آپریشن اور چیف انجینئر مقرر کیا گیا،یہ منصوبہ کراچی شہر سے جنوب مشرق میں 40 کلومیٹر فاصلے پر بن قاسم پورٹ کے نزدیک 18660ایکڑزمین پر قائم کیا گیا جو 75.5مربع کلومیٹر پر محیط تھا،پاکستان سٹیل ملز کے نام سے قائم شدہ ملز نہ صرف بلکہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مل تھی ،مشرق میں یہ ملز سندھ کے ضلع ٹھٹھہ سے منسلک ہے،ملز نے1984میں باقاعدہ اپنی پروڈکشن کا آغاز گیاتب اس کے لازمین کی تعداد15274ملازمین 20صنعتی یونٹس کے ساتھ11لاکھ ٹن سٹیل پیدا کرنے کا ہدف مقرر ہوا،پاکستان سٹیل ملز2008تک منافع میں جا رہی تھی جبکہ اس کا منافع 19ارب40کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر گیا،اس دوران جون2006میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس منافع بخش ملز کو 121ارب60کروڑ روپے میں سعودی کنسوشیم کو فروخت کرنے کی کوشش کی جسے سپریم کورٹ نے روک دیا،2008کے آخر اور2009کے آغاز پر اچانک یہ پاکستان سٹیل ملز اچانک غیر متوقع طور پر خسارے میں جانے لگی ،صرف ایک سال میں ہی اس کا خسارہ اور واجبات26ارب روپے تک جا پہنچے جو اس وقت415تک پہنچ چکے ہیں،2013میں مسلم لیگâنá کے اقتدار میں آنے کے بعد سٹیل ملز کے کل واجبات اور خسارہ دوگنا ہو چکا تھا،جون2105میں سٹیل ملز کو ۔ہاٹ موڈیز زیرو پروڈکشن ۔میں ڈالنے کے بعد اسے متبادل کے طور5ارب روپے اخراجات کے لئے ادا کئے جا چکے ہیں جبکہ ملز کی جانب سے157ایکڑ رقبہ پورٹ قاسم اتھارٹی کو30سالہ لیز پر دیاجا چکا ہے،3اکتوبر کو کینٹ کمیٹی برائے نجکاری نے فیصلہ کیا کہ سٹیل ملز کو تما م اثاثوں اور واجبات سمیت سندھ حکومت کے حوالے کر دیا جائے جس نے اسے خریدنے میں دلچسپی کا اظہا کیا تھا مگر بعد میں عمل درآمد نہ ہوا، 16اکتوبر2016کو وفاقی حکومت نے ۔آئی ایم ایف ۔کے دبائو پرنجکاری کا عمل پھر سے بحال کر دیا،اس دوران چین کے ۔بائواسٹیل گروپ۔جو چین کی سب بڑی سٹیل کمپنی جس کی 19ذیلی کمپنیاں اور اس کی سالانہ پیداوار34ملین ٹن ہے نے پاکستان سٹیل ملز کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی مگر معاہدہ طے نہ پا سکا،13اکتوبر2016کو سٹیل ملز ملازمین نے تنخواہیں نہ ملنے پر نیشنل ہائے وے کو بلاک کر دیاٹریفک جامہونے پر پولیس نے ملازمین پر شدید لاٹھی چاج اور آنسو گیس کا بھی استعمال کیا،تب پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ہدایات جاری کیں کہ ملز انتظامیہ کو تنخواہیں ادا کرنے کا فوری حل نکالا جائے ،اسی سال4جنوری کو بد ترین زبوں حالی کا شکار ملز کو لیز پر دینے کا فیصلہ کیا کیونکہ چیر مین نجکاری کمیشن نے بتایا کہ چینی کمپنیاں سٹیل ملز کی خریداری میں دلچسپی نہیں رکھتیں تاہم ایک ایرانی اور دوسری پاکستانی کمپنی جو چینی کمپنی کے ساتھ مل کر اسے لیز پر لینے کے لئے تیار ہیں،جنوری ہی میں ملک کے سب سے بڑے ْصنعتی ادارے کو 30سالہ لیز پر دینے کی حتمی منظوری دے دی گئی اس فیصلہ کے مطابق سٹیل ملز کے اثاثے نہیں فروخت نہیں کئے جائیں گے تاہم 30سال کے لئے اسے نجی سرمایہ کاروں کے حوالے کر دیا جائے گا ،نجکاری بورڈ کمیشن کے مطابق مالی خسارے کا شکار ملز کے تمام واجبات اور بقایا جات وفاقی حکومت برداشت کرے گی اور نئے سرمایہ کار کو ۔کلین بیلنس شیٹ۔دی جائے گی،نئے سرمایہ کار کو5 سال انکم ٹیکس میں چھوٹ ،مزید پلانٹ اور مشینری کی امپورٹ کے لئے ڈیوٹی بھی معاف ہو گی،یہ کمپنی پہلے سال 25فیصد،دوسرے سال50فیصد اور اس کے بعد پیدا واری استعداد85فیصد تک لے جانے کا پابند ہو گا،اب یہ فیصلہ وفاقی کابینہ سے مشروط ہے نہ جانے یہ منظوری کب ہو؟وزارت سنؑت کے سیکرٹری کی ایک رپورٹ میں سٹیل ملز کی موجودہ صورتحال کی وجہ بدعنوانی ،گنجائش سے زیادہ سیاسی بنیادوں پر ملازمین کی بھرتی ،عدم استعداد اور ادارے کی بحالی میں حکومتی عدم دلچسپی قرار دیا گیا ہے،سٹل ملز کے موجودہ اسٹاف کی تعداد19700کے قریب ہے جن میں سے4835ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی تسلیم کے ذریعے کمپنی سے نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے،چند ہفتے قبل ہی وزارت صنعت نےحکومت کو آگاہ کیا تھا کہ ملازمین کو تنخواہیں نہ دینے کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں ،2سال سے زائد عرصہ سے ان ملازمین کی تنخواہیں وفاقی بجٹ کے ذریعے دی جا رہی ہیں اب بھی اکتوبر سے ان کی تنخواہیں دینا باقی ہیں گذشتہ تین سال سے ملز کا آڈت بھی نہیں ہو سکا،رکن قائمہ کمیٹی قیصر شیخ کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی لیمیٹیڈ کی جانب سے39ارب روپے بل کی عدم ادائیگی کی بنا پر دو سال سے گیس کی سپلائی معطل کئے جانے باعث پیداوار کا عمل مکمل طور پر بند ہے،200ارب روپے کے ریکارڈ خسارے میں50ارب نیشنل بینک،وفاقی حکومت کو ادا کئے جانے والے واجبات39ارب74کروڑ روپے،ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں50ارب ،گیس بلوں کی مد میں 19ارب52کروڑ،واٹر چارجز90کروڑ،کے الیکٹرک کے 42کروڑ،میڈیکل اخراجات کی مد میں 41کروڑ،برآمدگی سامان سے جڑے 5ارب52کروڑ روپے سمیت مزید دیگر اخراجات بھی شامل ہیں۔کیا کسی کے پاس جواب ہے کہ اس بہت بڑے فولادساز کاڑخانے کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا مگر ذار وہی ہیں جو اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ،جن کی وجہ پاک سٹیل ملز سمیت کئی قومی اداروں کی تباہی کی تاریخ رقم ہوئی ،جو اس وطن میں با اختیار رہے ہیں مگر پاکستان کی ترقی کے ضامن اداروں کی تباہی سے مجرمانہ غفلت اور مجرمانہ پلوتہی ہے،کب کبھی ایسے کرداروں کو بے نقاب کیا جائے گا؟نہ صرف انہیں بے نقاب کیا جائے بلکہ انہیں سب کھانے والوں ،ہضم کرنے والوں ،تباہی کے دہانے تک پہنچانے والوں کیفر کردار تک پہنچایا جانا ازحد ضروری ہے،یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی ۔عام ۔آدمی جو ہر لحاظ سے بے اختیار اور بے بس اس تباہی کا ذمہ دار ہو سکتا ہے ؟ کبھی نہیں جو ذمہ دار ہیں وہی پاکستان کی ترقی کے بھی ہمیشہ دعویدار رہے ہی۔ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گذشتہ سالوں میں پاکستان میں 30سے40فیصد ٹیکسٹائل ملز بند ہونے کی وجہ 10لاکھ افراد بے روز گار ہوئے ۔۔یہ کیا ہے اب؟یہاں کس کس قومی ادارے کی تباہی کا ذکر کیا جائے ہر جانب کرپشن کی لہلہاتی فصلوں کی بہار ہے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.