پس پردہ

مطلوبہ صحافت کی قوت ہردور میںمسلم رہی ہے۔خاہ وہ مارشل لائ کا تاریک دور ہو نام نہاد بے لگام جمہوریت کا۔جہاں آزادی انسان کا مقدر ہو وہاں چند ذمہ داریاں بھی اس کے حصے میں آتی ہیں۔ مطلوبہ صحافت چونکہ ایک نہایت موثر اور طاقتو رہتھیار ہے۔لہذا اسے چلانے والوں کے کندھوں پر ملکی اور قومی استحکام وسا لمیت کے نقطہ نظر سے اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔کیوں کہ صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے ۔عدلیہ ،مقننہ اورانتظامیہ ہی طرح صحافت کوبھی موثر قرار دیا جاتا ہے۔اگر یہ اپنے فرائض موثر وحقائق پرمشتمل سرانجام نہ دے توریاست کاوجود خطرے میں پڑھ سکتا ہے ۔اخبار میں لکھا ہوا ایک لفظ ملکی سا لمیت کے لئے بدتر یا پھر بہترین ثابت ہوسکتا ہے ۔ہرانسان فطرتی طورپر آزاد پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح صحافت کی آزادی بھی ایک آئینی حق ہے اورصحافت کے تمام ذرائع کو چاہئے کہ وہ حقائق کی ترسیل میںبغیر کسی خوف وخطر اوردباؤ کے اپنے اس حق اورحقائق کو سامنے لائیں۔کیوں کہ جابر حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا بھی جہاد ہے ،لہذا صحافت کا کام حقائق کو عوام تک پہچانا ناکہ عوام کو گمراہی کی دلدل میں دھکیلنا۔جہاں صحافت کی بات ہوتی وہاں اس کی صفحات کا ذکر لازم ہوتا ہے۔ظلم کے خلاف لٹکتی تلوار،مظلوموں کی آواز ،بے زبانوں کی زباں،پسماندہ علاقوں کی علمداراور مظلوم کی فریا د ناجانے کیا کیا لکھا جاتا ہے ۔اب اس پس ِ پردہ کی بات کرتے ہیں اور کچھ حقائق پرمشتمل باتیں ۔میں جب میڑک کاطالب علم تھا مجھے تین شعبوں سے نہایت عقیدت وبے پناہ محبت تھی اور میں دعائیں کرتا تھا اورخواب تھا میرا کہ مستقبل میں استاد،فوجی یاپھر ایک صحافی بن کر قوم وملک کی خدمت کرکے ملک وقوم کا نام روشن کروںگا۔کیونکہ جہاں صحافت کی بات ہوگی وہاں انصاف کی بات ہوگی ،جہاں صحافت کی بات ہوگی وہاں مظلوموں کے تحفظات کی بات ہوگی۔جہاں صحافت کی بات ہوگی وہاںسچائی وحقائق کی بات ہوگی۔جب میں صحافت میں قدم رکھا میں اس وقت میڑک کا طالب علم تھا ، اس وقت اہلیان علاقہ اپنے کندھوں پرجنازے اٹھا رہا تھا ،منشیات فروشی عروج پرتھی ،موت کے سودا گر موت بانٹنے میں مصروف تھے۔ماؤں سے ان کے لال چھینے جارہے تھے ،بہنوں سے ان کے بھائی ہمیشہ کے لئے جدا کئے جا رہے تھے۔بوڑھے والدین نے ان کا سہارا چھینا جارہاتھا ۔ اوردوسری جانب پرائیویٹ سکول جو شاعر مشرق اور بانی پاکستان کے نام پر بنا نوجوان نسل کا مستقبل تاریک کررہے تھے ۔میڑک فیل لوگوں کو اساتذہ جیسے مقدس پیشہ سے وابسطہ کرکے اس پیشہ کو بدنام کرنے میں ہر ممکن حد پار کرچکے تھے اس وقت اورایک دوسری جانب ٹمبر مافیا جو کہ جنگلات کا صفایا اس طرح سے کررہے تھے کہ جنگلات میدانی شکل اختیارات کرتے جارہے تھے۔چونکہ میری پہلی دفعہ شعبہ صحافت سے وابستگی ہوئی میں ان کے قوائد وضوابط نہیں جانتا تھا ۔لین دین رفع دفع کرنا معاملات دبا دینا مجھ پر جنون سوار تھا ۔آئے روز کبھی ٹمبر مافیا،منشیات فروش ،پویس کے لباس میں چھپے وہ درندے جو منشیات فروشوں ،اورسکولوں کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرکئے ہوئے تھے ۔ ان کے خلاف خطرے کی گھنٹی بجنا شروع ہوگئی تھی ۔اور میری بدقسمتی دیکھئے کہ مجھے ہرچھ ماہ نیوز پیر سے نکال دیا جاتا تھا üüüآخر کیوں پس پردہ کیا حقیقت تھی تو وہ ٹمبر مافیا ،منشیات فروش پولیس سمیت ہر وہ کرپٹ لوگ نیوز پیپر مالکان سے مک مکا کر مجھے نکلوا دیتے تھے ۔یہ سلسلہ تقریبا پانچ سال تک چلا میں کوئی دس سے بارہ نیوز پپپر سے نکالا جا چکا تھاتب مجھے سمجھ آیا کہ شعبہ صحافت بدنام کیوں ہے۔ اس کے بعد ٹمبر مافیا منشیات فرشوں نے ہزاروں روپے دے کراپنے تحفظکے اپنے رشتداروں کو صحافت کے کارڈ بنوا دےئےاور وہ خودمجرم محافظ بن گئے۔ ملکی سا لمیت کو تباہ کرنے والے دشمن ممالک میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ صحافت زیرو کو ہیرو اور ہیرو کو زیرو بنا سکتی ہے۔صحافت قوموں کی سوچ کے سمندروں کا رخ بدل کر رکھ دیتی ہے۔آج کی صحافت نے شرم وحیا ،ادب واحترام جیسے مقدس الفاظ کو کچل کر رکھ دیا ہے۔حالاں کہ صحافت سچائی کا نام ہے ،کل تک صحافت لوگوں کے مسائل حل کرنے میں معاون ومددگار تھی ،کل تک جہاں صحافت سچائی وحقائق کی خاطر اذیتوں کت دریا عبور کرتی تھی ،وہی آج سچائی کو پاؤں تلے روندھ کر گزر جاتی ہے۔کل تک جس صحافت سے کل تک ایمان کی خوشبو آتی تھی ، وہیں آج زمانہ بھر کی بدبو نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔جس صحافت نے فرعونیت کے آگے سینہ تان کر کھڑی رہی اوررتبہ شہادت حاصل کیا، وہی صحافت آج فرعونیت کا دفاع کرتے کرتے ہوئے یذیذت کے گیت گا رہی ہے۔جس صحافت کو پیغمبرانہ پیشہ کہا جاتا تھا،وہی صحافت آج ٹکوں کے بھاؤ میں بازار میں بک رہی رہی ہے۔ جس صحافت کا نام کل تک لوگ ادب واحترام سے لیتے تھے ،آج ہمارے معاشرے میں ایک بدترین گالی بن چکا ہے۔جس صحافت کو مظلوم اپنی آواز ،معاون ومددگار سمجھتا تھا، وہی صحافت آج ظالم جاگیرادر وڈیروں کی محافظ بن چکی ہے ۔کل تک جس صحافت کی روشنی میں معاشرہ سچائی کے مقام تک پہنچتا تھا ،وہی آج گناہوں کی دلدل میں دھنسے جارہے ہیں۔جو صحافت امن کا علم لے کر چلتی تھی وہی آض بے حیائی ،برائی ،بعض ،نفرت ،عداوت جیسے بے حیائی کے پاٹ پڑھا رہی ہے چند دن قبل مجھے صحافت پر کچھ مواد درکار تھا تو مجھے انڈین دو مودیز ملیں،رش عمران ہاشمی کی اوررن امیتابھ بچن ،رتیش دیش مکھ کی جس میں وہ کچھ دیکھایا گیا ،آپ لو گ سوچ بھی نہیں سکتے بدقسمتی سے انڈین مویز کا حوالہ دینا پڑا کیونکہ ہمارے ملک ایسی فلم بنانے کو رواج ہی نہیں ہے۔ان مویز میں آپ سوچ کرحیران رہ جائے گے کہ پس پردہ صحافت کی دراصل حقیقت کیا ہے۔لوگ کو مروانے سے لیکر حادثات تک میڈیا کا کردار نظر آئے گا کیونکہ سب سے پہلے سب سے آگے ہمارا نیوز چینل ،آپ تک پہنچا ئے سب سے پہلے پہلے خبر، سب سے آگے سب سے تیز کی سب حقیقت پوشیدہ ہے ۔پس پردہ ہے ۔ان دو فلموں کے اندر وہ سب کچھ جو کے بارے ہم سوچتے ہیں کہ اتنی جلدی نیوز چینل کہاں سے خبر لارہے ہیں۔ان نیوز چینل کے لوگ موجود ہوتے ہیں حادثات کروائے جاتے حکومتیں گرونے میں انہیں میڈیا وصحافت کا اہم کردار ہے۔ اپنی فوج کے خلاف جیسے آج کل کچھ لوگ میڈیا پر زہر اگل رہے ہیں ۔پس پردہ کی حقیقت یہی ہے۔