پنجاب یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی ،100افراد کیخلاف مقدمات درج

punjab police

لاہور جدت ویب ڈیسک پنجاب یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی اور پر تشدد احتجاج پر طلبہ تنظیموں کے 15 نامزد کارکنان اور 100نامعلوم افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ہنگامہ آرائی میں ملوث 35 طلبہ کو معطل کرتے ہوئے کلاسوں میں بیٹھنے سے روک دیا، طلبہ تنظیموں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کیمپس پل پر دھرنادے کر احتجاج کیا گیا جس سے ٹریفک جام ہونے سے گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگی رہیں،پنجاب یونیورسٹی میں گزشتہ روز بھی خوف و ہراس کی فضا بر قرا رہی اوراحتجاج کی خبریں سامنے آنے کے بعد طلبا و طالبات کے والدین انہیں لینے یونیورسٹی پہنچ گئے ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں پیر کے روز پیش آنے والے نا خوشگوار واقعہ پر 3 مقدمات درج کر لئے گئے ، پہلا مقدمہ چیف سکیورٹی آفیسر کرنل (ر) عبید کی مدعیت میں درج کیا گیا ،دوسرا مقدمہ ایس ایچ او نواکوٹ خواجہ حسن جبکہ تیسرا مقدمہ ایس ایچ او ساندہ ملک تیمور کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ایف آئی آر ز میں طلبہ تنظیموں کے 15نامزد کارکنان اور 100 نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی ہیں جن میںدہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں ۔ جبکہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ذکریا ذاکر نے متعلقہ شعبہ جات کے سربراہوں کے نام مراسلے میں حکم دیا ہے کہ کہ توڑپھوڑ اور ہنگامہ آرائی میں ملوث 35طلبہ کو کلاسوں میں بیٹھنے سے روک دیا جائے جس کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے ۔ترجمان پنجاب یونیورسٹی کے مطابق ان طلبہ کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔گزشتہ روز ہونے والے تصادم کے بعد جامعہ میں صورتحال معمول پر آگئی ہے اور تمام شعبہ جات میں تدریسی عمل جاری رہا ہے تاہم خوف و ہراس کی وجہ سے حاضری معمول سے کم رہی۔کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی کی حدود اور ہاسٹلز میں تعینات رہی جبکہ ہاسٹلز میں واٹر کینن بھی کھڑے رہے ۔حالات کا جائزہ لینے کے لئے سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس اور ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے بھی یونیورسٹی کا دورہ کیا اور انتظامیہ سے ملاقات بھی کی ۔ سی سی پی او امین وینس کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری نے یونیورسٹی میں فلیگ مارچ بھی کیا ۔دوسری جانب اسلامی جمعیت کے طلباء کے کارکنوں نے واقعے کے خلاف ایک مرتبہ پھر کیمپس پل پر دھرنا دیا اور واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی ۔ طلباء کی جانب سے گاڑیاں روکنے پر شہریوں سے تلخ کلامی بھی ہوئی ،طلباء نے انڈر پاس کو بھی ٹریفک کے لئے بند کر دیا ۔اس موقع پر طلبہ نے پولیس کے خلاف بھی نعرے بازی کی ۔اس موقع پر طلبہ کا کہنا تھا کہ پولیس کی موجودگی میںنام نہاد پشتون طلبہ نے جمعیت کے منعقد کردہ فیسٹیول پر حملہ کیا ، پولیس سب کچھ جانتے ہوئے بھی انہیں گرفتار نہیں کر رہی ۔ اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ جبران بٹ نے کہا کہ پو لیس صرف کارروائی کی بجائے عملی اقدام کرے ، صرف کاغذی کارروائی نہیں ہونے دیں گے۔ اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کا کہنا تھا کہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچا یا جائے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو لاہور بھر میں دھرنے دیں گے ۔بعد ازاں پشتون ، بلوچ اور سرائیکی تنظیموں کے کارکنوںنے بھی اسلامی جمعیت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی ۔ ترجمان پختون بلوچ کونسل نے الزام لگایا کہ ان کے دو ساتھی غائب کردیئے گئے ہیں۔پولیس کی طرف مذاکرات کے بعد طلبہ تنظیم نے احتجاج ختم کردیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.