پیٹرول پمپ مالکان نے ماپ تول میں کمی کا ایک انوکھا طریقہ ایجاد کرلیا،جانیے

جدت ویب ڈیسک :پٹرول چوری کرنے کی کہانی پڑھیے ، دوستو آپ لوگوں میں سے جن جن کے پاس اپنی ذاتی گاڑیاں ہیں اُن کو آج ایک انتہائی اہم اور مُفید مشورہ دینا چاہتا ہوں. یہ ایک دلچسپ تحقیق ھے جو مُجھ تک میرے ایک انسپکٹر کے ذریعے پہنچی ھے جسے مفادِ عامہ کےلیے پوسٹ کر رہا ہوں.آپ میں سے اکثر لوگ جب اپنی کار میں پٹرول ڈلوانے کےلیے پیٹرول پمپ پر جاتے ہیں تو زیادہ تر مقدار کی بجائے قیمتاً پیٹرول کا آرڈر دیتے ہیں. مثلاً 500، 1000، 1500، 2000 وغیرہ وغیرہ. آپ کا آرڈر لے کر filler-boy آپ کو اپنی شفّافیت دِکھانے کےلیے گاڑی پر ہلکی سی تھپکی لگا کر یا میٹر کی طرف اشارہ کرکے پیٹرول ڈالنا شروع کرتا ہے اور آپ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ آپ کو پورا پیٹرول ملے گا.جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے…دراصل پیٹرول پمپ مالکان نے ماپ تول میں کمی کا ایک انوکھا طریقہ ایجاد کیا ہوا ہے. چونکہ لوگ اکثر قیمتاً آرڈر دیتے ہیں اور اکثر پیمانہ چیک کرنے والے متعلقہ محکمے کے اہلکاران بھی چیکنگ کے دوران ایک لیٹر کا پیمانہ بھر کے دیکھتے ہیں کہ مقدار پوری ہے یا نہیں لہذا پمپ مالکان نے اپنے میٹر 500، 1000، 1500، 2000 وغیرہ پر سیٹ کیے ہوئے ہیں. مثال کے طور پر اگر 500 روپے میں 7 یا ساڑھے 7 لیٹر پٹرول آتا ہے تو یہ لوگ اُسے 5 یا 6 لیٹر پر set کر کے آپ کو چونا لگا دیں گے. میٹر پر اُتنی ہی قیمت اور مقدار نظر آئے گی لیکن درپردہ ماپ تول میں کمی کی گئی ہوگی. اسی طرح 1000، 1500، 2000 روپے کی الگ الگ setting کی ہوتی ہے.اِس حقیقت کے آشکار ہونے کے بعد ہم نے تجربہ کر کے دیکھا اور یہ بات درست پائی گئی.غیر مُصدّقہ اطلاع کے مطابق لاہور شہر میں ماسوائے ایک یا دو پیٹرول پمپس کے تقریباً تمام اِسی طرح کی ہیرا پھیری کر رہے ہیں.آپ دوستو کو میرا مشورہ ہے کہ جب بھی پیٹرول ڈلوائیں تو بہترین حل یہ ہے کہ قیمت کی بجائے مقدار کے لحاظ سے پیٹرول ڈلوائیں اور وہ بھی commom number میں نہیں. یعنی 5، 10، 15، 20 لیٹر میں نہیں بلکہ 7، 9، 13، 17، 23 وغیرہ وغیرہ جیسے un-common نمبر کا استعمال کریں. اس طرح آپ نقصان سے بچ جائیں گے.اللہ ہمیں اِن ذخیرہ اندوزوں اور ناپ تول میں کمی کرنے والے اِن white-collar criminals کے شر سے محفوظ رکھے. آمین،اس پیغام کو مفادِ عامہ کےلیے صدقہء جاریہ کے طور پر پھیلائیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published.