چھالیہ کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی جائے

پنجاب حکومت نے چھالیہ کے استعمال اور خرید و فروخت پر پابندی عائد کر کے لاکھوں لوگوں کو منہ کے کینسر سے بچالیا ہے چونکہ تمام مضر صحت پان،گٹکا ،مین پوری ،ماوا ، جے ایم اور دیگر ایسی مضر صحت اشیاء میں چھالیہ اہم اور لازمی جزہے اگر چھالیہ پر پابندی عائد کردی جائے تو پھر پان ،گٹکے ،مین پوری اور دیگر مضر صحت اشیاء کی تیاری اور فروخت بند ہوسکتی ہیں چونکہ ان تمام مضر صحت اشیاء میں چھالیہ کا استعمال ہی ہوتا ہے اس کے بغیر یہ اشیاء تیار نہیں کی جا سکتی کراچی کی بندرگاہ پر ہر روز تقریباََ 20 سے زائد مضر صحت پھپوندی لگی چھالیہ کے کنٹینرز اتر تے ہیں جو بعد میں کراچی کے علاوہ اندرون سندھ میں سپلائی کئے جاتے ہیں وزارت صحت اور دیگر محکموں کی جانب سے چھالیہ کی درآمد پر محکمہ صحت کا سر ٹیفکیٹ لازمی قرار دینے سے ملک میں پھپوندی لگی چھالیہ کی امپورٹ روک دی گئی ہے تاکہ ملک میں مضر صحت چھالیہ درآمد نہ ہو سکے پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن بر سوں سے گٹکے ، چھالیہ اور دیگر زہریلے کیمیکل سے تیار شدہ اشیاء پر پابندی کا مطالبہ کرتی آرہی ہے جس پر ابھی تک صرف پنجاب میں چھالیہ کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے جو انتہائی احسن اقدام ہے مضر صحت چھالیہ امپورٹ کرنے والے اور چھالیہ کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور جو عناصر مضر صحت چھالیہ پر پابندی سے ہزاروں لوگوں کے بے روز گار ہونے کا رونا رورہے ہیں اور احتجاج کی دھمکیاں دے رہے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ اب تک سینکڑوں افراد جو مضر صحت اشیاء چھالیہ،پان ،گٹکے اور جے ایم کے استعمال سے کینسر جیسے موزی مرض میں مبتلا ہوکر ہلاک ہو چکے ہیں یا انہیں منہ کا کینسر ہوچکا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے اگر آج یہ مضر صحت اشیاء فروخت اور تیار کرنے والے احتجاج کر یں گے تو کل منشیات کے اسمگلر اور فروخت کرنے والوں کے خلاف اگر پولیس کا روائی کرے گی تو کیا وہ بھی احتجاج کریں گے کہ منشیات کے اڈے بند ہونے سے منشیات فرو ش اور تیار کرنے والے لاکھوں افراد بے روز گار ہو گئے ہیں !یعنی شراب، چرس اورہیروئن کے اڈے بند ہو ں گے تو اس سے بے روز گاری پھیلے گی؟ کراچی میں جگہ جگہ گٹکے کھانے والے تھوک رہے ہیں گندگی اور غلا ضت میںشدید اضافہ ہو رہا ہے کسی بھی عمارت کی سیڑیاں ،سڑک یا زمین ان زہریلی اشیاء کے تھوک سے نہیں بچی ہے اور اس گندگی کی وجہ سے شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں خاص کر نو عمر بچے ،بچیاں اور خواتین میں گٹکے ، جے ایم اور زہریلے کیمیکل شدہ چھالیہ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ چیزیںبھی منشیات کے استعمال کے ز مرہ میں آتی ہیں چونکہ اس نشہ آور چھالیہ اور گٹکے کے استعمال سے اب تک سینکڑوں افراد منہ کے کینسر میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں مگر چھالیہ اور گٹکا مافیا انتہائی طاقتور ہے کہ اس پر پابندی عائد کئے جانے اورآئی جی سندھ کے احکامات کے باوجود اس کی خرید و فروخت نہیں روکی جاسکی بلکہ اس کی قیمت میں اضافہ ہو گیا اور آج بھی یہ چھپ کر گلی محلوں میںفروخت کی جارہی ہیںاور ا ن اشیاء کی خریدو فروخت اور تیاری پر پابندی کے باوجود پوری طرح عملدرآمد نہیں ہو سکا چونکہ اس گھنائونے کاروبار میں پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں اور کراچی سمیت پورے سندھ میں گٹکے ،پان اور دیگر غیر ملکی مضر صحت اشیاء کو سپلائی کرنے میں معاون بھی ہوتے ہیں صرف انڈیا سے 60 سے 65 اقسام کی جے ایم اور ایسی دیگر مضر صحت اشیاء ایران سے کوئٹہ کے راستے اسمگلر ہوکر نیو کراچی کے بڑے بڑے گوداموں میںرکھی جاتی ہیں جبکہ بولٹن مارکیٹ ،کھوڑی گارڈن ،چھاڈی لین اور اطراف کی ہول سیل مارکیٹوں سے یہ مضر صحت اشیاء پوری کراچی اور سندھ بھر میں سپلائی کی جاتی ہیں جبکہ پولیس اور کسٹم حکام کی سرپرستی کے بغیر یہ ممکن نہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پرملکی اور غیر ملکی مضر صحت اشیاء کی ترسیل ہو اور وہ ملک میں کھلے عام جگہ جگہ کیبنوں پر فروخت ہو رہی ہوں اس لئے جب تک ان اشیاء کی فروخت اور تیاری کو روکنے کے لئے سخت ترین اقدامات نہ کئے جائیں اور اس گھنائونے کاروبار میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے سخت ترین سزا ئیں نہ دی جائیں اور بیماریاں پھیلانے اور شہریوں کو منہ کے کینسر میں مبتلا کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات نہ کئے جائیں تب تک مضر صحت چھالیہ ، گٹکا اور دیگر اشیاء فروخت ہوتی رہیں گی

Leave a Reply

Your email address will not be published.