//

کابل ایئر پورٹ پر تین دھماکوں نے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا، 10 امریکی فوجیوں سمیت ساٹھ افراد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ائیرپورٹ کے قریب یکے بعد دیگرے تین زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

 کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے تین دھماکوں میں 10 امریکی فوجیوں سمیت ساٹھ افراد ہلاک جبکہ ایک سو چالیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، روسی میڈیا کے مطابق داعش نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

پینٹاگون نے کابل دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے اس واقعے میں عام افغان شہریوں سمیت امریکی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ادھر طالبان کا کہنا ہے کہ ہمارے جنگجوؤں کو داعش سے خطرہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے کابل دھماکے بارے امریکی صدر جو بائیڈن کو بریفنگ دی ہے

برطانوی میڈیا نے طالبان ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، مرنے والو ں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جب کہ دھماکے میں طالبان محافظ بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں جان کربی کا کہنا تھا کہ کابل  ائیرپورٹ کے باہر ’ایبےگیٹ‘ پر دھماکاہوا ہے، دھماکے سے متاثر ہونے والوں میں امریکی اور افغان شہری شامل ہیں۔ جان کربی نے  بیرن ہوٹل کے قریب ایک اور دھماکے کی بھی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب برطانوی خبر ایجنسی نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا ہےکہ  یہ دھماکا خودکش ہوسکتا ہے،جس میں 3 امریکی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیںافغان میڈیا کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے قریب 2 دھماکوں میں 52 افراد زخمی ہوئے ہیں اور جانی نقصان بھی ہوا ہے تاہم  فوری طور پر درست اعداد و شمار دستیاب نہیں۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے بھی دھماکے کی تصدیق کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.