کراچی کیلئے کچھ کرنے کا عزم ……خوش آئند عمل

کراچی کے لئے دعووں اور وعدوں کی سیاست کوئی نئی بات نہیں وفاق ہو یا صوبہ کراچی کے لئے بڑے بڑے دعوی کرتے ہیں لیکن کراچی بننے کے بجائے اور اجڑتا چلا جا رہا ہے۔ اسکی وجہ یہاں کی طرز سیاست اور نفرت انگیز سوچ بھی رہی ہے۔ لیکن کراچی جو وفاق کو 70فیصد اور صوبہ کو 90فیصد ریونیو جمع کرکے ملک کا پہیہ چلانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اسے جواب میں اگر 30سے40فیصدر قم ترقی کی مد میں دے دی جائے تو کراچی کی قسمت بدل سکتی ہے۔ سابق سٹی ناظم کا دعوی ہے کہ انہوں نے صرف 300ارب میں کراچی کا نقشہ پلٹ کر رکھ دیا تھا۔ لیکن اسوقت کراچی کا انفرا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہے۔کراچی پکار رہا ہے کہ مجھے توجہ دو۔ وزیر اعظم عمران خان کے گیارہ سو ارب کے پیکیج کے اعلان کے باوجود شہر کی قسمت نہیں بدلی۔ کراچی کی بدحالی کے اثرات اسکے اداروں اور افسران پر بھی آئے ہیں۔ دنیا بھر میں سب سے اہم شہر کی میٹروپولٹین کارپوریشن ہوتی ہے لیکن کراچی میں یہ ادارہ بھی مالی بحران اور کسمپرسی کی حالت کا شکار ہے۔ اس برٰ صورتحال میں بلدیہ عظمی کراچی کے افسران نے کراچی کے لئے کچھ کرنے کے عزم کے ساتھ ایک تنظیم کے ایم سی امہیج ریسٹوریشن کمیٹی کے نام سے قائم کردی ہے۔ اسکی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ کے ایم سی کے لئے گزشتہ چار سالہ بلدیاتی قیادت کے دور میں بالعموم اور عام تاثر میں بالخصوص ان اداروں کو سیاسی بنیادوں پر گھوسٹ ایمپلائز ، مختلف القابات اور الزامات کا سامنا رہا۔ کراچی کے لئے ڈیلیور نہ کرنے چیف جسٹس سپریم کورٹ بھی ریمارکس دیتے رہے۔ جو ادارے کے لئے نیک شگون نہیں تھا۔ ان افسران نے کراچی اور کے ایم سی کے وقار میں اضافے کے لئے قدم اٹھایا جو خوش آئند ہے۔ یہ قدم ان افسران کی جانب سے اٹھایا گیا جو کراچی اور ملک کا درد رکھتے ہیں ۔ سیاست سے بالاتر ہوکر کراچی کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔ اس میں ایسے افسران بھی ہیں جو ملک سے باہر سفارت کار بھی رہ چکے ہیں ، اکنامسٹ، ہیں ، ایسے تجربہ کار افسران بھی ہیں جو مختلف فیلڈز پر عبور رکھتے ہیں ۔ ایسے بھی ہیں جو ڈپٹی کمشنر اور ہلال احمر کے ضلع کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں ۔ ایسے بھی ہیں جو ٹریننگز ماسٹرز ہیں ۔ ان میں اکنامسٹ افسر کے پاس کے ایم سی کو پائوں پر کھڑا کرنے کے متعدد منصوبے ہیں جنکی قراردادٰیں تیار ہیں ۔ جو نافذ العمل ہوجائیں تو کے ایم سی کو مالی بحران سے نکالنا کوئی مشکل نہیں۔ شہر کے لئے درد رکھنے والے ان افسران سے استفادہ کرنے کے لئے گورنر سندھ، وزیر اعلی سندھ، چیف سیکریٹری اور دیگر محکموں کو انکی سرپرستی کرنی چاہئے۔ یہ ایڈمنسٹریٹر کراچی کی گاڑی کے وہ پہیئے ہیں جو کے ایم سی کو دوڑا سکتے ہیں ۔ کے ایم سی کی امیج میکنگ کے لئے ان افسران نے ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کی ٹھانی ہے۔ کے آر سی سے وابستہ تمام افسران میں کوئی بھی نیب زدہ یا اینٹی کرپشن زدہ نہیں ہے جو خوژ آئند ہے اور اس سے کے ایم سی کا سافٹ امیج بنے گا۔ کراچی کی ترقی کے لئے کے ایم سی انتظامیہ کو انکے تجربے کا صحیح استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے۔ انکی نیت کیا ہے ۔ اسکی منظر کشی انکے پہلے اجلاس سے کی جا سکتی ہے۔کے ایم سی امیج ریسٹوریشن کمیٹی کا پہلا اجلاس کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس کشمیروڈ پر9نومبر کو منعقد ہوا ۔ جس میں محمد شاہد اور سینئر افسر جاوید رحیم نے اس کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ کے ایم سی امیج ریسٹوریشن کمیٹی âKIRCá کے قیام کا مقصد بلدیہ عظمی کراچی اور کراچی کے بہتر امیج اور اسکی تاریخی عمارات اور تاریخی روایات کو برقرار رکھنا اور اسے بلند مقام پر پہنچانا ، ادارے کو کرپشن فری کرنا، ریکوریز بڑھا کر ادارے کو اسکے پائوں پر کھڑے کرنے کے علاوہ انتظامیہ کے ساتھ ملکر کراچی کی ترقی میں اپنی بہترین صلاحیتوں سے حصہ ڈالنا مقصود ہے۔اس مقصد کے لئے باہمی اتفاق سے کمیٹی قائم کی گئی جسکے لئے سینئر ایگزیکٹو کمیٹی میں جاوید رحیم ، احسن مرزا، ڈاکٹر محمد فاروق، روشن الطاف، واثق فریدی اور محمد شاہد کو چنا گیا۔جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی کے لئے سلمی جبین، ڈاکٹر سعید اختر، فخر شبیر، محمد رضوان خان کو چنا گیا ۔ کراچی کے با صلاحیت اور تجربہ کار افسران اور ماہرین عارف رضا۔ غلام عارف،اور محمد ذاکرپر مشتمل ایڈوائزی کونسل بنائی گئی۔ کراچی کی خدمت کے لئے ہر فرد نے اپنی بھرپور صلاحیت کے استعمال کے علاوہ ایک اچھی روایت قائم کرتے ہوئے رحلت فرماجانے والے افسران و ملازمین کے لئے دعائے مغفرت اور بیمار افسران و ملازمین کے لئے دعائے صحت کی گئی۔ بڑی تعداد میں افسران نے شرکت کی جس میں سینئر افسران جاوید رحیم ، ڈاکٹر محمد فاروق،احسن مرزا، واثق فریدی ، محمد مختار، محمد رضوان خان ، روشن الطاف، محمد شاہد ، سلمی جبین، عادل، راشد بیگ، نعیم جمال، ارشاد، اطہر اقبال، ڈاکٹر سعید اختر ویگر شامل تھے۔ اس موقع پر تعارفی خطاب میں سینئر ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن جاوید رحیم نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کی ٹیم کاحصہ ہیں ۔ بلدیہ عظمی کراچی کو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا کر مثالی ادارہ بنانا چاہتے ہیں ۔ جاوید رحیم نے مذید کہا کہ کچھ افراد ہمارے معزز اعلی افسران کو گمراہ کرکے ادارے کا امیج خراب کرتے ہیں ۔ ہم واضع کردینا چاہتے ہیں کہ ہم فرض شناس افسر ہیں ۔ ہمیں جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں ۔ اس لئے ہمیں پرکھا جائے کسی کی بات کو سن کر رائے قائم نہ کی جائے۔ ادارے کے لئے دن رات کام کیا ہے اور کراچی پر ہمارا قرض ہے کہ ہم اسے ڈیلیور کریں۔ محمد شاہد نے کہا کہ کے ایم سی کا امیج بہتر کرنے کے لئے خداد صلاحیتوں کے مظاہرے کا وقت ہے۔ بلدیہ کراچی کو منفعت بخش ادارہ بنانا چاہتے ہیں ۔ محمد شاہدنے مذید کہا کہ ہم ادارے کی ٰفلاح و بہبود اور اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ کے ایم سی کو باوقار ادارہ اور اسکی انتظامیہ کو خصوصی محنت و صلاحیت سے ایک ٹیم بن کر کردار ادا کریں گے۔ یہ شہر ہم سب کا ہے سرکار کے خادم ہیں ۔ تکلیف ہوتی ہے جب گھوسٹ ورکر کسی کو کہا جائے۔ اس لئے ہم سب محنتی افسران کے ساتھ بہترین ورکنگ سے ادارے کو قائد اعظم محمد علی جناح کے ویژن کے مطابق چلائیں گے۔ احسن مرزا نے کہا کہ کے ایم سی کے افسران کام کرنا چاہتے ہیں۔انکے استحقاق کو ختم نہ کیا جائے ۔ باصلاحیت افسران کے ایم سی کو پائوں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ احسن مرزا نے مزید کہا کہ ہم سن تین سوال ذہن میں رکھیں کہ جب ادارے میں آئے تو کیا تھے؟ادارے کے لئے کیا خدمات ہیں ؟ جب ریٹائر ہوکر جائیں گے تو شہر اور ادارے کے لئے کیا کرکے جا رہے ہیں ۔ اس موقع پرافسران نے کہا کہبلدیہ کراچی کے شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ سینئر ڈائریکٹر کی آسامی کے ایم سی کی پروموشن پوسٹ ہے جسے absorbنہیں کیا جاسکتا۔ سینئر افسر ڈاکٹر محمد فاروق نے کہا کہ کے ایم سی کو کرپشن فری کرنے کا عہد کیا جائے ۔کے ایم سی افسران کی تعیناتی کی جائے۔ وسائل کے ایم سی افسران پیدا کرکے ریونیو کی صورتحال بہتر کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد فاروق نے مذید کہا کہ کے ایم سی کو منافع بخش ادارہ بنانا ہے ۔ سیاست اور سازش کو ختم کرکے شہر کے لئے سوچیں ۔ شہر کی قسمت بدل جائیگی۔واثق فریدی نے کہا کہ اکنامسٹ ہوں بلدیہ کراچی کے لئے ریونیو جنریشن کے متعدد منصوبے ہیں ۔ جن کو عمل کی ضرورت ہے ۔ ہم خود ریونیو میں خود کفیل ہوجائیں گے۔ واثق فریدی نے مذید کہا کہ ای اینڈ آئی پی کو بہترین محکمہ بنایا اسکی قراردایں منظور نہیں کی گئیں ریونیو بہت بڑھ جاتا۔ ہماری صلاحیتوں کو ضائع کیا جا رہا ہے۔افسران نے مذید کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی باصلاحیت افسران کی کارکردگی سے استفادہ کریں ۔ انکی سربراہی میں کراچی کے لئے اچھا ڈیلیور کرنا چاہتے ہیں ۔ کے ایم سی افسران ایک دوسرے کا احترام کریں پوسٹنگ سے زیادہ ایک دوسرے کے لئے ادارے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے شہر ہماری خدمات کا متقاضی ہے۔افسران نے مشترکہ رائے دیتے ہوئے کہا کہ SCUGافسران کی بہت سی تقرریاں غیر قانونی ہیں اپنے تحفظات سے ایڈمنسٹریٹر اور میونسپل کمشنر اور وزیر بلدیات کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں ۔ روشن الطاف نے کہا کہ ہم سب کے ایم سی کے ستارے ہیں اور ہمیں صلاحیتوں سے منفی پروپیگنڈے کو غلط ثابت کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کے ایم سی کے ہر افسر پر فرض ہے کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے ادارہ کو ڈیلیور کرکے جائے۔ ۔ سلمی جبیں نے کہا کہ ادارہ کے لئے سچائی اور لگن سے کام کرنا ہوگا۔ نعیم جمال نے کہا کہ کے ایم سی ہمارا دوسرا گھر ہے کے ایم سی کا امیج بہتر بنانے کے لئے دن رات کام کریں گے ۔ لیکن کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔ محمد رضوان خان نے کہا کہ ایک دوسرے کے خلاف مہم بازی اور غلط خبروں کا سلسلہ ادارہ اور شخصیتوں کو مجروح کرتا ہے ۔ حقائق لکھے جائیں ۔ کے ایم سی سے غلاف کعبہ جاتا تھا ۔ اسکا پرانا امیج بہتر کریں گے۔ ارشاد احمد نے کہا کہفائر بریگیڈ کو مثالی ادارہ بنانے کے لئے کے ایم سی افسران بھی مثالی ذمہ داری ادا کریں گے۔ اطہر اقبال نے کہا کہ اچھائی و بہتری کے لئے کے ایم سی امیج ریسٹوریشن کی کائوش خوش آئند عمل ہے۔محمدعادل نے کہا کہ کھلے ذہن کے ساتھ چلنے اور اصولوں کے ساتھ بلدیہ کراچی کا نام روشن کرنے کے لئے ہر اول دستہ بننا ہوگا۔ جمال ناصر نے کہا کہ اگر کوشش کی جائے تو کے ایم سی خود اپنے پائوں پر کھڑے ہوکر اپنی منفرد حیثیت بحال کرسکتی ہے۔ تجاویز موجود ہیں ۔فخر شبیر نے کہا کہ آفیسرز ایسوسی ایشن بھی کلیدی کردار ادا کرے۔ کے ایم سی کا بیڈ امیج گڈ امیج میں بدلنے کے لئے افسران کا جمع ہونا خوش آئند ہے۔ سینئر ریٹائرڈ افسر ڈاکٹر سعید اختر نے کہا کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے SIUtکی طرز پر ادارہ کے ایم سی کو دیا۔ ہر افسر خدمت کا ایک ریکارڈ قائم کرکے جائے۔ ڈاکٹر سعید اختر نے کہا کہ کے ایم سی کو کے ایم سی ہی کے افسر نکھار سکتے ہیں ۔ ایڈمنسٹریٹر انکی حوصلہ افزائی کریں ۔ وہ جن سروسز سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کے ایم سی افسران کو بھی آزمائیں۔محمد مختار نے کہا کہ کراچی کو ڈیلیور کرنے کا وقت ہے بہت ضرورت ہے کہ اس ادارے کے لئے جو ہماری پہچان ہے صلاحیتوں کا صحیح استعمال کیا جائے۔ یہاں سفارت کار اور دیگر بڑے عہدوں ، بہترین ٹرینرز ، ڈیزاسسٹر مینیجمنٹ اور دیگر صلاحیتوں کے افراد موجود ہیں جو کے ایم سی کو چار چاند لگا سکتے ہیں ۔ کراچی کے لئے اتنی مثبت سوچ پر پزیرائی افسران کا حق ہے۔ اور اس میں سیاست دانوں ، حکومت سندھ، وفاقی حکومت اور کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو نیک نیتی کے جزبے کے ساتھ ان افسران کا ساتھ دیتے ہوئے شہر کی ترقی کا سفر شروع کرنا چاہئے۔ کے آئی آر سی نے ایک اور اچھی روایت ڈالی ہے کہ بیمار افسران کی عیادت اور انتقال کرجانے والے افسران کی فیملیز کی دلجوئی بھی کی ہے جبکہ میڈیکل کیمپس، میڈیکل سہولتوں ، افسران کے مسائل کے حل اور ملازمین کو دیگر اداروں کی طرح حقوق اور آسائش کے منصوبے بھی رکھتے ہیں جو اچھی سوچ ہے۔ کراچی کی ترقی کے لئے اسی سوچ و فکر کی ضرورت ہے جو قومی سوچ ہو اور سیاست اور دیگر لوازمات سے مکمل بالاتر ہو۔