کراچی کی ڈائری

آجکل نوجوان کمپیوٹر، نیٹ اور مو بائل کی طرف دوڑ رہا ہے۔ اور س کے فوائد حاصل کر نے کی بجائے موبائل۔نیٹ اور کمپویٹر پر منفی کاموں کی وجہ سے ہم دوسری قوموں سے آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔ پہلے مضا فا تی علا قوں اور شہری علا قوں میں قائم لائبریوں میں تمام اخبارات اور کتابیں موجو د ہو تی تھی۔ جس کی وجہ سے طلباء مطالعہ کی طرف راغب تھے۔ مگر مو بائل ۔ نیٹ نے طلباء کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اب کتب بینی کو فروغ دینا کا وقت ہے ۔ تاکہ طلباء اس کی طرف راغب ہو سکیں۔ہم تحقیق اور مطالعے میں دیگر اقوام سے پیچھے کھڑ ے ہیں۔ طلباء مطالعہ نہ ہو نے کی وجہ سے صرف امتحانوں کی تیاریوں کے لیے چند سوالا ت کے جواب اور مضمون کی گائیڈ رٹ لیتے ہیں۔ لیکن تحقیق اور مطالعہ نہ ہو نے کے برابر ہے۔ علا قوں میں کتب بینی کے فروغ کے لیے مزید لا ئبریریاں قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معیاری لائبریوں کی وجہ سے طلباء ان کی طرف راغب ہو سکیں۔ مطالعے اور تحقیق کی وجہ سے نوجوان نسل بھی آگے بڑھ سکے گی اور حکومت کو بھی چاہیے کہ کی وہ B.E کر نے والے نوجوان انجینئر وں کی تربیت اور روز گار کا انتظا م کرے۔ تاکہ زیا دہ سے زیادہ با صلاحیت افراد آگے آسکیں۔ملک کے بہت سے شہروں میں کوئی یوٹیلیٹی اسٹو ر نہیں ہے۔ اور جہاں پر ہیں تو وہاں ان کی تعداد کم ہے۔ اسلام آبا د۔ لا ہور۔ کراچی ۔ پشاور اور کوئٹہ ایسے پانچ بڑے شہر ہیں جہاں یہ یوٹیلیٹی اسٹور قائم ہیں۔ دیہاتوں اور شہر کے مضا فا تی علا قوں میں مزید اسٹو ر کی ضرور ت ہے۔ اور جہاں یہ اسٹور ہیں ۔چینی اور دیگر روز مرہ کی استعمال ہو نے والی اشیا ء کی کمی ہو تی ہے صا رفین کی طر ف سے یہ شکایت عام ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹور وں کی کا رکردگی اطمینا ن بخش نہیں ہے۔ اس لیے ضرورت اس با ت کی ہے کہ دیہا توں اور شہر کے مضافاتی علاقوں میں مزید اسٹو ر قائم کئے جائیں۔ اور روز مرہ استعمال ہو نے والی تمام اشیاء ان اسٹوروں میں وافر مقدار میں ہوں۔
کے ایم سی سے ڈی ایم سی میں جا نے والا محکمہ تعلیم بھی کام کر رہا ہے۔ اور کراچی میں ہر ضلع کا علیحدہ چیئر مین ہے جس کے تحت ہر ضلع میں کافی پرائمری و سیکنڈری اسکول ہیں۔ اور ایلیمنٹری کالج بھی ہیں۔ کافی پہلے پرائمری کو چھوڑ کر سیکنڈ ری اسکول بلدیہ سے گورنمنٹ آف سندھ کے تحت چلے گئے تھے۔ مگر پھر دوبارہ سیکنڈ ری اسکول قائم ہو گئے۔ مگر یہاں سینئر ٹیچر ز کو نظرانداز کر کے جونیئر ٹیچر ز کو ترقیا ں دی گئی۔ سروس، عمر اور تعلیم میںکم ٹیچرز کو خلا ف ضا بطہ ترقیا ں دی گئی۔ اس سلسلے میں جب ضلع وسطی کے سابق میو نسپل کمشنر و سیم سو مرو سے اپنی اہلیہ کے پرموشن کے سلسلے میں بات کی تو انہوں نے فوری ڈپٹی ایجو کیشن آفیسر گلبرک ٹائون سید ابرا ر احمد کو درخواست کاروائی مکمل کر نے کے لیے روانہ کی میری اہلیہ گلبرک ٹائون میں JST گریڈ 14 میں کام کر رہی ہیں۔ 37 سال سے زائد سروس ہو گئی ہے اور ایم ۔ اے اور ایم ایڈ ہیں ان سے کئی زیادہ جونیئر ٹیچر ز زیا دہ گریڈ میں کام کر رہی ہیں راقم نے سید ابرا ر احمد کے بھائی کے انتقال پر تعزیت کی اور مرحوم کے درجا ت کی بلند ی اور لواحقین سے افسو س کا اظہار کی ابرار احمد اچھے اور باصلاحیت افسر تعلیم ہیں ۔ جلد ہی کسی کا لم میں ان کا انٹرویو لینے کی کوشش کریں گے انہوں نے توجہ سے پر مو شن کی بات سنی اور فوری نوٹس شیٹ پر کیس فا ر ور ڈ کیا۔ میں نے یہ کہا کہ یہ ریٹا ئر ہو نے والی ہیں۔ ان کی درخواست پر توجہ دی جائے ۔کیونکہ سید ابرار احمد اپنے ٹائون کےDDO (ڈی ڈی او) بھی ہیں۔اور انہی کے دستخط سے پر مو شن اور اپائمنٹ ملازم کی تنخواہ لگتی ہے۔ جس کی وجہ سے متعلقہ افسران کو پتہ ہو تا ہے کہ پر موشن کے لگنے والی تنخواہ جونیئر ملا زم کی ہے اور وہ اسکا حق دار نہیں ہے۔ ایسے خلا ف ضا بطہ ترقی کر نے والے ملا زم کی لسٹ بنا کر نئے افسران کو دینا ضروری ہے ۔ اور یہ بتایا جا ئے کہ فلاح ٹیچر ز سینئر ہے اور وہ ترقی کا حق دار ہے۔ سینٹر ل آفس جانے کے بعد پتہ چلا کہ چیئر مین وسطی ریحان ہا شمی کے پاس بھی درخواست جمع ہو رہی ہے۔ کافی دفعہ جانے کے بعدا یک دفعہ ملا قا ت ہوئی تو انہوں نے ایاز صاحب سے کہا کہ ان کا مسئلہ معلوم کریں۔ اس پر ایا ز صاحب نے کہا کہ آپکی اہلیہ سینئر ٹیچر ہیں۔ اور یہ ریٹا ئر ہو نے والی ہیں۔100 فیصد ان کی ترقی ہو گی اور پھر میرے بار بار جانے پر چیئر مین کے پی اے نعز یر صاحب نے اپنی ڈائری میں نام نوٹ کیا اور کہا کہ انشاء اللہ یہ پرموشن سو فیصد ہو جائے گا۔ خود چیئر مین صاحب بھی دلچسپی لے رہے ہیں ۔ ریحان ہا شمی نوجوان باصلاحیت سینٹرل کے چیئر مین ہیں اور عوامی مسائل بڑی توجہ سے سنتے ہیں اور حل کر تے ہیں جلد ہی کسی قریبی کالم میں بلدیا تی تعلیمی مسائل سینئر ملا زمین کی ترقیوں کے مسئلہ میں بات کر کے کسی قریبی اشا عت میں شائع کر یں گے میں اپنے کالم میں یہ بتا نا ضروری سمجھتا ہوں کہ چیئر مین زید ایم سی وسطی کے پی اے نعزیر صاحب سے ان کے آفس میں ملا قا ت رہی۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ سینئر ٹیچر ہیں۔ ابھی جلد ہی یہ مسئلہ حل ہو گا۔ میں یہ کہنا چاہتا ہو ں کہ جب سید احمد جیسے گلبر ک ٹائون میںا فسر ہیں تو انشاء اللہ سینئر کی حق تلفی نہ ہو گی۔ کیونکہ اس کے چیئر مین ریحان ہاشمی جیسے باصلاحیت عوامی نمائند ے ہیں۔
حبیب پبلک اسکول کے انٹر پری انجینئر نگ کے طالب علم عبداللہ بن معید آج کل پڑھائی کے سا تھ ساتھ باڈی بلڈنگ بھی کر رہے ہیں اور خو ب محنت سے مسٹر بفر زون کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔بفر زون 15-B میں سماجی و مذہبی شخصیت محمد افتخار احمد ہر مہینہ کے دوسرے بدھ کو درود ﷺ کی محفل کراتے ہیں اور اُس کے بعد لنگر ہو تا ہے۔ محمدا فتخا ر بفر زون کی ایسی شخصیت ہیں جن کے لیے کسی تعارف کی ضرورت نہیں ۔ انہوں نے درویشی اختیار کر تے ہوئے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے اور اپنی رہائش گاہ پر درود اور درس کا سلسلہ شروع کر کے ایک پلیٹ فارم فراہم کر دیا ہے کہ ہر دن و ہفتہ وار نہیں کم از کم مہینہ ایک بارا س نیک کام کا ارادہ کیا اور اُس کو عملی جامعہ پہنا یا ہے ایک ایسے وقت میں جب ملک کے اندرونی و بیرونی حالات بھی خراب ہوں۔ شہروں میں اُس کے علا قوں میں ایک دوسرے سے ملنے کے لیے لو گ تیار نہیں ہیں۔ اگر اسی طرح لو گ ایک پلیٹ فارم پر درس و درود ﷺ کا سلسلہ شروع کر دیں تو ایک دوسرے سے ملنے اور جاننے کا مو قعہ ملے گا۔ اس طرح محبت بھی بڑھے گی اور خیر و برکت بھی ہو گی۔ کوئی کچھ بھی کہے لیکن اس طرح کے کام قابل تعریف ہیں جس میں اپنے طور پر محمد افتخا ر احمد نے ایک قدم اٹھا یا ہے۔ جو کہ قابل تعریف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.