کراچی کے سرکاری اسپتال مذبحہ خانوں میں تبدیل

کراچی کے بیشترسرکاری اسپتالوں میں مریض بنیادی سہولیات دینے سے قاصر ہیں کراچی کے بڑے سرکاری اسپتال جناح اسپتال سول اسپتال عباسی شہد اسپتال سول ٹراما سینٹر ابتک کراچی کی عوام کو صحت کی مکمل سہولیات دینے سے قاصر ہیں جسکی وجہ سے عوام کو پرائیوٹ اسپتالوں رخ کرنا پڑرہاہیں تفصیلات کے مطابق کراچی کے سرکاری اسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر یوں محسوس ہوتاہے کہ قائد کے شہر کے اسپتال نہیں بلکہ کسی جنگ سے تباہ شدہ شہر کے اسپتال ہیں جہاں ہر شے جنگ کی وجہ سے ہوئی ہو،مگر پھر خیال آتاہے جنگ تو ۷۱۹۱میں لڑی تھی جس کے نتائج ایک اور پاکستان کی شکل میں واضع ہوگئے تھے جس کو آج مشرقی پاکستان کے نام سے یاد کیاجاتاہے تقریبا چھیالیس برسوں میں یہاں کی قیادت نے پاکستان کے معاشی حب کراچی کے اسپتالوں کو جوں کے توں رکھاہواہیں سول اسپتال کے مین گیٹ کی حالت زار دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی پسماندہ کا کوئی علاقہ ہے جہاں مسافروں کے لیے قیام گاہ بنارکھی ہوں اسپتال کی انتظامیہ کا دماغ ساتواں آسمان پر ہے مریضوں کے ساتھ کو رویہ کھاجاتاہیں وہ ایسا ہے جیسا حکومت ہند برطانیہ برصغیرکے لوگوں رکھتی تھی ڈاکٹر مریض کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے قصائی گائے یابھینس کو زبح کرتے ہیں گویا مریض کے لیے ڈاکٹر قصائی ہے اور مریض بے بس ہوکر ہر قسم کے ظلم سہنے کے لیے خود کو تیار کر لیتے ہیں یہی حال جناح اسپتال کا ہے کہنے کو تو مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے مگر اس کے اند ر بھی بہت سے ایسے معاملات ہے جن کے بغیر اس میں بہتری نہیں لائی جاسکتی ہیں جبکہ سول کے ٹراما سینٹر کا ہے جو ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود مکمل فعال نہ ہوسکاہے جسکی وجہ سے مریضوں پرائیوٹ اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتاہیں اور عباسی اسپتال کے اطراف میں گند گی کے ڈھیر لگے ہو ئے ہیں ،نرسنگ اسٹاف کا رویہ اچھا ہے، سول اسپتال کے گا ئنا کا لوجی کا شعبہ کا کافی گنداہے یہ وارڈ کافی بد بودار ہے مگر اس سے حکمران طبقے کی صحت پر کیا اثر پڑتاہے،ان کا اور انکے خاندان کا علاج تو باہر ملکوں میں ہوتا ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.