//

کورونا وائرس کے متعدد مریضوں میں صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ وائرس کی تصدیق سے ڈاکٹر پریشان

ویب ڈیسک ::اپریل کے پہلے عشرے میں جنوبی کوریا میں حکام نے انکشاف کیا تھا کہ کورونا وائرس کے متعدد مریضوں میں صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ کوریا میں ان میں سے بیشتر کیسز معتدل شدت والے تھے مگر حکام اب تک وضاحت نہیں کرسکے کہ درحقیقت ایسا کیوں ہورہا ہے۔
اور اب انکشاف ہوا ہے کہ یہ صرف جنوبی کوریا میں نہیں بلکہ چین میں ایسا ہورہا ہے اور صحتیاب مریضوں کو دوبارہ وائرس کی تصدیق پر آئسولیشن میں رکھا جارہا ہے۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ووہان کے نواحی علاقے کے 50 سال سے زائد عمر کے رہائشی کے پاس حفاظتی لباس پہنے ڈیو منگ جون پہنچیں اور خود کو نفسیاتی ماہر کے طور پر متعارف کرایا تو وہ شخص پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
اس شخص نے کہا ‘میں اب اس کو مزید برداشت نہیں کرسکتا’۔
اس شخص میں فروری کے شروع میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور صحتیاب بھی ہوگیا تھا۔
مگر اب لگ بھگ 2 ماہ بعد اسے 2 ہسپتالوں میں علاج کے بعد اسے ایک قرنطینہ مرکز میں منتقل کیا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وائرس کی دوبارہ تصدیق ہوگئی ہے۔
ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال نے ڈاکٹروں نے ڈاکٹروں کو الجھا کر رکھ دیا ہے جو اس سے پہلے چین بھر میں کورونا وائرس کی وبا کی رفتار کو سست کرنے میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔
یہ نیا وائرس دسمبر میں چین کے شہر ووہان میں سب سے پہلے پھیلنا شروع ہوا تھا اور وہاں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اب ایسے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، جن میں لوگ پہلے اس وائرس سے ریکور ہوچکے تھے مگر بغیر علامات ظاہر کیے ٹیسٹوں میں دوبارہ وائرس کی تصدیق ہوگئی۔
حیران کن بات یہ ہے کہ ان مریضوں میں صحتیابی کے بعد تمام ٹیسٹوں کے نتائج سے معلوم ہوا تھا کہ وائرس اب جسم میں موجود نہیں مگر اب کئی ہفتے یا مہینوں بعد دوبارہ ٹیسٹوں میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہورہی ہے، کچھ کیسز میں تو 70 دن بعد ایسا ہورہا ہے، ان میں سے بیشتر کی عمریں 50 سے 60 سال سے زائد ہیں۔
عالمی سطح پر ایک بار وائرس سے متاثر افراد میں صحتیابی کے بعد اس کی دوبارہ تشخیص اور آگے پھیلانے کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ بیشتر ممالک وائرس پھیلنے کی رفتار میں کمی کے بعد لاک ڈائون کو ختم اور معاشی سرگرمیاں بحال کرنا چاہتےہ یں۔
ابھی دنیا بھر میں وائرس سے متاثر ہونے پر لوگوں کو 14 دن تک الگ تھلگ رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
چینی طبی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ جن افراد میں وائرس کی دوبارہ تشخیص ہوئی ہے وہ دیگر افراد کو بھی بیمار کررہے ہیں۔
چین کی جانب سے ابھی ایسے اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے جن سے معلوم ہوسکے کہ کتنے افراد میں دوبارہ وائرس کی تصدیق ہوئی ہے مگر دیگر میڈیا رپورٹس اور رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ہسپتالوں کے انکشافات سے معلوم ہووتا ہے کہ یہ تعداد درجنوں میں ہے۔
جنوبی کوریا میں 4 ہفتوں کے دوران ایک ہزار افراد میں اس وائرس کی دوبارہ تصدیق ہوئی ہے اور اٹلی میں بھی طبی حکام نے بتایا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں میں ایک ماہ بعد دوبارہ اس کی موجودگی کی تصدیق ہوسکتی ہے۔
چونکہ ابھی ان مریضوں کے متعدی ہونے کے حوالے سے زیادہ معلوم نہیں تو ووہان میں طبی ماہرین ان افراد کو زیادہ طویل عرصے کے لیے آئسولیشن میں رکھ رہے ہیں۔
ووہان کے Jinyintan ہسپتال کے صدر زینگ ڈینگو کا کہنا تھا کہ طبی حکام کو احساس ہے کہ آئسولیشن بہت زیادہ ہے خصوصاً جب یہ ثابت ہورہا ہے کہ مریض دوسروں کو متاثر نہیں کررہے، مگر اس وقت عوام کے تحفظ کے لیے یہی بہتر ہے۔
انہوں نے وضاحت کی یہ اس وقت ہسپتال کو درپیش اہم ترین مسئلہ ہے اور نفسیاتی ماہرین جیسے ڈیو منگ جون سے مریضوں کے جذباتی دبائو میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
چینی ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس نئی دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ کووڈ 19 کے بارے میں ابھی بہت کچھ معلوم نہیں ہوسکا اور یہ مختلف لوگوں کو متعدد طریقوں سے متاثر کرسکتا ہے۔
ووہان کے زونگ نان ہسپتال کے نائب صدر یوآن یوفینگ نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ ایک ایسے کیس سے واقف ہیں جس میں وائرس کی دوبارہ تصدیق 70 دن بعد ہوئی۔
انہوں نے بتایا ‘ہم نے ایسا سارس کی وبا کے دوران کبھی نہیں دیکھا تھا’۔
چین میں مریضوں کو ہسپتال سے اس وقت ڈسچارج کیا جاتا ہے جب ان کے 2 ٹیسٹ نیگیٹو آجاتے ہیں اور اب کچھ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس معیار کو بڑھا کر 3 یا اس سے زائد ٹیسٹ کیے جانے چاہیے۔
چائنا نیشنل ہیلتھ کمیشن میں شامل پیکنگ یونیورسٹی فرسٹ ہاسپٹل کے ڈائریکٹر وانگ جیوچیانگ نے بتایا کہ ایسے مریضوں کی اکثریت میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور بہت کم کی حالت خراب ہوئی۔
نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ایک اور عہدیدار گیو یون ہونگ نے بتایا ‘نیا کورونا وائرس ایک نئی قسم کا وائرس ہے، اس سے ہونے والی بیماری کے بارے میں ابھی بہت کم معلوم نہیں’۔
ماہرین اور ڈاکٹر یہ وضاحت کرنے میں مشکل محسوس کررہے ہیں کہ آخر ان افراد میں وائرس کا رویہ مختلف کیوں ہے۔
کچھ کے خیال میں ان مریضوں میں دوبارہ وائرس کی تصدیق اس لیے ہوئی کیونکہ وہ اس سے دوبارہ متاثر ہوگئے، جس سے ممالک کی ان توقعات پر پانی پھر سکتا ہے کہ ایک بار کووڈ 19 سے متاثر ہونے کے بعد صحتیابی پر اس کے خلاف مزاحمت کرنے والی اینٹی باڈیز جسم میں بن جاتی ہیں جو دوبارہ بیمار ہونے سے بچاتی ہیں۔
ووہان کے زونگ نان ہسپتالل کے شعبہ ایمرجنسی میڈیسین کے ڈائریکٹر زائو یان نے دوبارہ وائرس سے متاثر ہونے کے خیال پر شبہ ظاہر کیا مگر ان کے پاس اسے غلط ثابت کرنے کے شواہد فی الحال نہیں۔
کوریا سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے ڈائریکٹر جی اونگ اون کی اونگ نے کچھ ہفتے قبل ایک بریفنگ میں بتایا تھا کہ مریض دوبارہ وائرس سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ شاید وائرس دوبارہ متحرک ہوگیا ہے۔
دیگر جنوبی کورین اور چینی ماہرین کے مطابق وائرس کا کچھ حصۃ مریضوں کے جسمانی نظام میں موجود ہوسکتا ہے جو مریض یا دیگر کے لیے متعدی یا خطرناک نہیں ہوتا۔
تاہم ابھی اس خیال کو ثابت کرنے کے لیے بھی شواہد موجود نہیں۔
زونگ نان ہسپتال کے نائب صدر یوآن یوفینگ نے اس بارے میں کہا کہ اگر مریض کے اندر اینٹی باڈیز بن بھی جاتی ہیں تو یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ وائرس فری ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ مریضوں میں بہت زیادہ تعداد میں اینٹی باڈیز موجود تھیں مگر پھر بھی دوبارہ ٹیسٹ پازیٹو آگیا ‘اس کا مطلب ہے کہ وائرس اور جسم دونوں تاحال جنگ لڑرہے ہیں’۔
بار بار ٹیسٹ مثبت آنے سے مریضوں کی ذہنی صحت متاثر ہورہی ہے اور ڈیو منگ جون نے تھراپی ہاٹ لائن بنائی ہے اور خبررساں ادارے کو دوبارہ متاثر ہونے والے افراد سے ملنے کا موقع بھی فراہم کیا۔
ایک شخص نے بتایا کہ فروری کے تیسرے ہفتے سے اب تک اس کے 10 ٹیسٹ ہووچکے ہیں، کچھ بار ٹیسٹ نیگیٹو رہا مگر بیشتر اوقات وائرس کی تصدیق ہوئی۔
اس کا کہنا تھا ‘میں خود کو ٹھیک محسوس کررہا ہوں اور کوئی علامات بھی نہیں، مگر چیک کرنے پر وائرس کی تصدہق ہوئی، دوبارہ ایسا کرنے پر بھی ٹیسٹ پازیٹو رہا، آخر اس وائرس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے’/
ایسے مریضوں کو قرنطینہ مراکز میں کم از کم 28 دن رکھا جارہا ہے اور 2 ٹیسٹ منفی آنے پر جانے کی اجازت دی جاتی ہے، آئسولیشن میں موجود ان مریضوں کو حکومت کی جانب سے ادائیگی بھی کی جارہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.