کھانے کے دوران کی جانے والی عام غلطی جو موٹاپے کا باعث بن جائے

کھانا کھانے کے دوران ایک ایسی غلطی جو ہر کوئی کرتا ہے جو موٹاپے کا سبب بنتی ہے ۔مگر ایک عادت ایسی ہے جو بیشتر افراد میں پائی جاتی ہے اور وہ ہے اپنا کھانا بہت تیزی سے ختم کرنا یا اچھی طرح چبائے بغیر نگل لینا جو موٹاپے اور توند نکلنے کا بہت بڑا سبب ہے۔

دنیا کا کونسا شخص ہے جو کھانے پینے کے بغیر رہ سکتا ہو؟ کچھ دن بھی ان سے دوری موت کو گلے لگانے کے مترادف ہوسکتی ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ جو کچھ آپ کھاتے ہیں وہ جسم پر کیسے اثرانداز ہوتا ہے؟
یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ویسیڈا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کو اچھی طرح چبانا موٹاپے اور جسمانی وزن میں اضافے کی روک تھام کرتا ہے اور نوالے چبانے کے دوران خرچ ہونے والی توانائی جسمانی درجہ حرارت بڑھاتی ہے۔
مگر یہ عمل کتنا طویل ہوتا ہے یہ واضح نہیں اور اسی کو جاننے کے لیے اس تحقیق پر کام کیا گیا۔تحقیق کے دوران رضاکاروں کو سیال غذا کے استعمال کے 3 مختلف ٹرائلز کا حصہ بنایا گیا جو سب الگ الگ دنوں میں ہوئے۔
پہلے ٹرائل میں رضاکاروں کو ہر 30 سیکنڈ میں 20 ملی لیٹر سیال غذا نگلنے کی ہدایت کی جبکہ دوسرے ٹرائل میں انہیں کہا گیا کہ وہ غذا کو منہ میں چبائے بغیر رکھیں اور پھر نگل لیں۔
آخری ٹرائل میں رضاکاروں کو 30 ملی لیٹر غذا 30 سیکنڈ تک چبانے اور پھر نگلنے کا کہا گیا۔ان ٹرائلز میں بھوک، پیٹ بھرنے اور دیگر تمام عوامل کو مدنظر رکھ کر نتائج مرتب کیے گئے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ غذا کو چبانے سے توانائی بننے کا عمل عمل تیز ہوا اور خون کی روانی بھی تیز ہوئی، اسی طرح غذائی نالی کے اوپری حصے میں چبانے سے ردعمل بڑھ گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کو اچھی طرح چبانے سے جسمانی توانائی زیادہ خرچ ہوتی ہے جس سے موٹاپے اور میٹابولک سینڈروم (توند، خون میں ایک قسم کی چربی ٹرائی گلیسڈرز، صحت کے لیے اچھے سمجھے جانے والے ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں کمی، ہائی بلڈ پریشر اور ہائی بلڈ شوگر) سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ اگرچہ ہر ٹرائل میں توانائی کے اخراج کی شرح میں فرق معمولی تھا مگر سال کے 365 دن کو مدنظر رکھا جائے تو مجموعی اثرات بہت زیادہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آہستگی سے کھانا اور اچھی طرح چبا کر کھانا جسمانی وزن کو معمول پر رکھنے مین مددگار ثابت ہوسکتے ہیں جس کے لیے کوئی خرچہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔