ہولی وڈ فلم میں ’بولڈ‘ کردار کی پیش کش ہوئی تھی، سجل علی

 برطانوی پروڈیوسر جمائما گولڈ اسمتھ کی فلم ’واٹس لو گاٹ ٹو ڈو وِد اٹ’ سے ہولی وڈ ڈیبیو کرنے والی سجل علی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک اور ہولی وڈ فلم میں مرکزی کردار کی پیش کش ہوئی تھی۔

حال ہی میںدیے گئے انٹرویو میں سجل علی نے جہاں شوہر احد رضا میر سے اختلافات کی خبروں پر وضاحت کی تھی، وہیں انہوں نے اپنے کیریئر اور شوبز انڈسٹری میں ’فیورٹ ازم‘ پر بھی کھل کر باتیں کی تھیں۔

دوران انٹرویو سجل علی نے شکوہ کیا کہ انہیں پاکستان میں اس وقت ہی ’سپر اسٹار‘ تسلیم کیا گیا جب انہوں نے بولی وڈ فلم ’موم‘ میں سری دیوی کے ہمراہ کام کیا۔اداکارہ نے اس بات پر بھی دکھ کا اظہار کیا کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ’فیورٹ ازم‘ زیادہ ہے، ہدایت کار اور پروڈیوسر اپنے قریبی نئے لوگوں کو آتے ہی بہت بڑا رول دے کر انہیں ’صف اول‘ میں کھڑا کر دیتے ہیں۔

سجل علی نے بتایا کہ وہ اپنی محنت اور چھوٹے چھوٹے کردار کرنے کے بعد اسٹار بنیں اور پھر انہوں نےمشکل اور منجھے ہوئے کردار کیے، تب جاکے وہ انڈسٹری میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئیں۔ان کا کہنا تھا کہ بولی وڈ فلم میں انہیں ان کے کام کی وجہ سے کاسٹ کیا گیا، سری دیوی سمیت ’موم‘ فلم کی دیگر ٹیم نے ان کے ڈرامے دیکھ رکھے تھے مگر بھارت میں کام ملنے کی پیش کش پر پاکستان میں ان سے متعلق بہت باتیں کی گئیں۔

سجل علی نے اس بات کا بھی شکوہ کیا کہ جب ’موم‘ میں انہیں کاسٹ کیا گیا تو پاکستان میں ان سے متعلق چہ مگوئیاں کی گئیں اور کہا گیا کہ انہیں کیسے بھارت میں کام ملا؟اداکارہ کے مطابق سری دیوی کے ساتھ کام کرنے سے قبل وہ ثانیہ سعید اور نادیہ جمیل جیسی سپر اسٹارز کے ساتھ کام کرچکی تھیں مگر انہیں اس وقت ہی پذیرائی دی گئی جب انہوں نے بھارتی فلم میں کام کیا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ ’موم‘ میں کام کرنے کے بعد ہی مجھے پاکستان میں ’صف اول‘ کی اداکارہ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔