ہیلتھ کلیئرنس کے بغیر جانوروں کی آمد‘موذی امراض پھیلنے کا خدشہ

کراچی سے رحیم شاہ کی رپورٹ/عیدالاضحی کی وجہ سے اندرون ملک سے کراچی میں لائے جانے والے جانوروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ،ٹھیکیدار کی جانب سے بغیر ہیلتھ کلیرنس سرٹیفکیٹ کے ٹیکس وصولی کا انکشاف ،بیمار جانوروں سے شہر میں موذی امراض پھیلنے کا خدشہ ،2016میں کانگو وائرس سے ہلاکت ہو چکی ہے،شکایات پر محتسب اعلیٰ نے نوٹس لے لیا، کے ایم سی اور ڈی ایم سی انتظامیہ سے وضاحت طلب کرلی،تفصیلات کے مطابق: ملک کے مختلف شہروں سے کراچی میں دودھ دینے والے اور عیدالاضحی کی عید میں قربانی کے لئے لائے جانے والے مویشیوں سے ہیلتھ کلیئرنس سرٹیفکیٹ اور کیپنگ ٹیکس کی مد میں ٹھیکیدار 200روپے وصول کر رہاہے اور بغیر ویکسین و اسپرے سرٹیفکیٹ دیکر شہر میں داخل ہونے کی اجازت دی جارہی ہے،خدشہ ہے کہ بغیر ہیلتھ کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے مویشیوں کو شہر میں داخل کرنے کی اجازت دینا خطرناک عمل ہے،کیونکہ 2016میں بھینس کالونی میں صابر نامی شخص کی کانگو وائرس سے ہلاکت ہو چکی ہے،بیمار جانوروں کے شہر میں داخل ہونے سے موذی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے،کیونکہ ڈیری فارمز اور مویشی تاجران کو جانوروں کی چیچڑیوں سے پھیلنے والی بیماریوں سے آگاہی نہیں رکھتے اس لئے سندھ حکومت کا محکمہ ویٹرنری اور لائیو اسٹاک ذمیدار ہے کہ جانوروں پر سائپر میتھرین اسپرے یا اعلیٰ کوالٹی کا آئیور میکٹین لگایا جائے تاکہ جانور اور انسان موذی بیماریوں سے محفوظ رہہ سکے ، مگر ٹھیکیدار اور انتظامیہ کی ملی بگھت نے اس عمل کو یکسر نظرانداز کر رکھا ہے،اس حوالے سے ڈیری اینڈ کیٹل فارمز ایسوسی ایشن نے معتدد احتجاج کئے ، کے ایم سی اور ڈی ایم سی انتظامیہ کو آگا ہ بھی کیا مگر سنوائی نہ ہوئی جس پر فارمز میں محتسب اعلیٰ سندھ کو درخواستوں اور خطو ط کے ذریعے آگا ہ کیا تو محتسب اعلیٰ نے کراچی میونسپل کارپوریشن اور ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.