صحرائے تھر میں بہار کی آمد آمد ہے

صوبہ سندھ کا علاقہ  تھرپارکر معدنی وسائل ،قدرتی جنگل ۔ طویل ریگستان کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہے وہی انسانیت کی اعلی اقداروں کیلے بھی اپنی مثال آپ ہے ۔۔ تھر میں جہاں نمک ۔گیس ۔کول کے زاخائر ہیں تاریخی اعتبارسے بھی یہاں سیکڑوں سال پرانے مساجد ۔مندر ۔درخت ۔آج بھی اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ موجود ہے عمرماروی کی عشقیہ داستان بھی تھر کی تاریخ کا حصہ ہے صحرائے تھر انسانیت کی اعلی اقدروں کا نمونہ ہے جہاں ہندو ۔مسلیم اپس مین شیروشکر ہوکے رہتے ہیں ۔۔ بنیادی سہولتوں سے محروم تھرپارکر ماہ اگست سےشروع ہونے والی بارشوں کے بعد کسی نوبہتا دلہن کی ماند کھل اٹھتاہے  ہرطرف ہریالی کا سبزہ لہے لہا کر پاکستان بالخصوص سندھ کے باسیوں کو اپنی جانب کھنچتا ہے ۔شائقین سیروتفریحی اس وقت خوش گوار حیرت زدہ رہ جاتے ہین جب اچانک کہیں سے مور ناچتا ہوا نمودار ہوجائے۔ یاکوئی ہرن ان کو چھو کر گزر جائےتاحدنظرریتیلے ٹیلے جو بارش کے بعد سبزہ میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور ایسے میں چہرا ڈھانپے سر پر مٹکی رکھے، بازوں تک روایتی سفید کڑے پہنے تھر کی خواتین میلوں دور سے پانی لاتی نظر آئیں تو ایک لمحہ بھر کوگمان ہوتا ہے کہ شاید ہم کوئی انڈین فلم دیکھ رہے ہیں  یہ حسین نظارے دیکھ کر اچھا خاصہ بندہ بھی شاعربن جائے۔۔قدرتی حسن اور معدنیات سے بھرپور صحرائے جو کہ دنیا کا ساتواں کوئلہ زخیرہ رکھنے والا صحرائے ہےاس کو بدقسمتی سے ستر سالوں سے نظر اندازکیا گیا آئے روزقحط سالی کی خبروں سے قارئین  بخوبی واقف ہیں ۔ دینا کے جتنے ممالک نے ترقی کی سب سے پہلے اپنے ملکی وسائل کو استعمال کیا مگر ہمارے ملک میں پالیسی اور منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے گیس کے ایک برے زخیرے کو تو ہم نے گاڑیوں اور گھروں کے چولہا میں جلاکر ختم کردیا جبکہ ہونایہ چاہیے تھا کہ کہ اس گیس کو پاور میں تبدیل کرتے جس سے صنعتی ترقی ہوتی جس سے وطن عزیزکا عام فرد مستفید ہوتا ۔ کچھ سالوں سے لوڈشیڈنگ کے عزاب سے عوام کوبچانے کیلے تھر کول سے بجلی بنانے کی بات کیجانے لگی تو بین اقوامی سطح پر پاکستان کیلے پروپیکنڈوں  کا آغاز کردیا گیا کہ اگر تھر کول سے بجلی بنائی گئی تو خطے میں تباکاری سے بھرپور باریشیں ہونگی،ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوگا مگر گزشتہ سال  صدرآصف علی زرداری ،سابق وزیراعظم نوازشریف نے عالمی دباوکو خاطر مین نہ لاتے ہوئے دلیرانہ فیصلہ کیا ۔ اورتھرکے علاقے اسلام کوٹ میں 300ارب روپے مالیت کا تھرکول سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبے   کا معاہدہ سندھ اینگرومائینگ کمپنی کے ساتھ کرلیا ۔تھرکول سے حاصل کی جانے والی بجلی پاکستان کی خوشحالی کی ضمن قرار دی جاری ہے  اس پروجیکٹ کو تین فیز میں تقسم کیا گیا ہے  ایک اندازے کے مطابق  پہلے فیز میں تیارکی جانے والی بجلی آئندہ پچاس سالوں میں پورے ملک کیلے کافی ہوگی اور دوسرے مراحل میں تیارکی جانے والی بجلی نہصرف 100 سال تک ملک کی ضروریات ک پورا کرگی بلکہ تجارتی بنیادوں پر فروخت بھی کی جاسکے گی ۔گزشتہ دنوں سندھ اینگرومائینگ کمپنی نےسندھ بھر سے پرینٹ والیکٹرونک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو تھرکول مائینگ کا دورکریا۔۔اس دوران تھرکول پروجیکٹ ڈائیریکٹر سید مرتضی رضوی اور میڈیا کورڈینٹر محسن بابر صحافیوں کو بتایا کہ تھرکول سے بجلی کی  660 میگا واٹ پاور پلانٹ کیلے کوئلے حصول کیلے کھدائی کا 50  فیصد کام مکمل کیاجاچکاہے ۔۔جبکہ مائینگ اور پاور جنریشن کا عمل دی گئی تاریخ سےچارماہ قبل مکمل کرلیاجائے گا ۔۔ایک موقع پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے میڈیا کورڈینٹر محسن بابر کا کہناتھا کہ کوئلے کہ حصول کیلے کھدائی کاکام تیزی سے جاری ہے اور اب تک 88 میٹر تک کھدائی کی جاچکی ہے جبکہ مجموعی طور پر 160 مٹر تک کھدائی کی جانی ہے منصوبہ کے تحت تھرپاور پروجیکٹ کے پہلے فیز کے مطابق 660 میگا واٹ بجلی گھرکیلے سالانہ 3۔8 ملین ٹن کوئلہ حاصل کیاجائےگا جبکہ نئے بجلی گھروں کی تعمیر کے ساتھ مائینگ کے عمل کوبھی توسع دی  جاتی رہے گی۔۔اس منصوبے کے نتجے میں ماحولیاتی تحفظ کیلے غیر معمولی اقدامات کئے گئے ہیں پاور پلانٹ سے دھویں  اخراج کیلے 180 میٹر بلند چمنی تعمیر کی گئی ہے جبکہ عام طور پر ایسی چمنیوں کی محض 120 میٹر تک اونچائی ہوتی ہے ۔تاہم ماحولیاتی تحفظ کےپیش نظر چمنی کی تعمیر میں اضافی اخراجات  برداشت کیے جارہے ہیں تاکہ مقامی افراد اور علاقے کو کسی ممکنا مضر اثراتسے بچایا جاسکے۔تھرمنصوبے میں مائینگ کے عمل سے 900 تھری باشندوں کو ملازمتیں بھی فراہم کی گئی ہیں جس میں 30 تھرسے تعلق رکھنے والے انجینرزبھی شامل ہیں جبکہ  تھر پاور پلانٹ  منصوبے میں875 چینی باشندے کام کررہے ہیں  ۔۔ سندھ اینگرومائینگ کمپنی  تھرکے عوام  کیلے اپنے طور پر یہاں کہ باشندوں کو صحت اور تعلیم فراہم کرنے فوری طور پر ماروی چائلڈاینڈ مدر ہیلتھ سیٹراور ایک اسکول چلارہے ہیں ۔۔جبکہ مستقبل میں 200 بستر پرمحیط ہسپتال اور2 ہزار طالب علموں کیلے اسکول بھی تعمیر کیے جارہے ہیں۔۔جس جگہ سے کوئلہ نکالا جارہے اس زمین پر آباد خاندان کے ہرشادی شدہ جوڑے کو200 1گزکے جدید تقاضوں کے مطابق بنائے ہوےگھربھی دیے جائیں گے آبادی  کوماڈرن  ٹاون میں منتقل کرتے ہوے ٹاون میں ہندو۔۔مسلم عقائد کا خیال رکھتے ہوے مسجد اور مندر بھی تعمیر کیے جارہے ہیں ۔۔۔مستقبل میں مائینگ پر کام کرنے کیلے تھر سے میٹرک پاس طالب علموں کو انجینرینگ کے ڈپلومہ کورس کرائے جارہے ہیں ۔۔تھر کی خواتین کو بہتر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلے ڈمپر ڈرائیورز کی اسامیاں بنائی گئی جس میں فوری طور پندرہ ڈرائیور درکار تھیں لیکن حیرت انگیز طور پر 80 خواتین نے درخواستیں دی جن میں سے 15 کو سلیکٹ کرکے اسلام آباد سے ڈرائیونگ کی ٹرینگ  کرئی گئی جو کہ مائینگ پراپنے فرائض بخوبی انجام دے رہی ہیں  مائینگ پرتھر سے تعلق رکھنے والی خاتون  جوبحثیت انجینر کام کررہی ہیں نے صحافیوں کو بتایا کہ مرد حضرات کے ساتھ انتہائی تحفظ کے احساس کے ساتھ کام کررہی ہیں جو قابل فخر بات ہے۔تھرمیں پانی کی قلت کے سبب قحط سالی کو مدنظررکھتے ہوئے سندھ اینگرومائینگ کمپنی بورینگ کیے ہوئے نمکن پانی سے کاشت کاری کا تجربہ بھی کررہی ہے جس سے امید کی جاری ہے کہ مستقبل میں تھر مین غزائی قلت پر قابو بھی پایا جاسکے گا۔۔سندھ اینگروپاور کی جانب سے دیے گئی بریفنگ کے بعد تو کہا جاسکتاہے کہ صحرائے تھر میں بہار آنے کو ہے۔۔لیکن تھر کے باشندے اپنی زمینوں کے عوزملنے والی  رقم کی ادائیگیوں کیلے تحفظ رکھتے ہیں ۔۔بحیث صحافی ہم بھی وزیراعلی سندھ کی توجہ اس طرف مرکوز کراناچاہیں گے کہ  تھرکول پاور پلانٹ  پروجیکٹ  اورشاہراہوں کی تعمیرکی قابل تحسین عمل ہے اگر وہاں کے باشندوں کو بروقت انکی رقم کی ادائیگی کیجائے اور پبلک ٹرانسپورٹ چلادیا جائے تو سترسالوں بنیادی سہولیات سے محروم تھرکے عوام کے آنسو پونچھے جاسکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.