امریکی ریاست ٹیکساس کے بعد فلوریڈا بھنور میں

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک چوتھے درجے کا سمندری طوفان ارما امریکی ریاست فلوریڈا کے جنوبی جزائر سے ٹکرا گیا جہاں طوفانی لہریں 15 فٹ تک اونچی جبکہ ہوا کی رفتار 130میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ریاست کے جنوب میں بتیس لاکھ سے زائد مکانات میں بجلی سمیت بنیادی انسانی ضروریات کے تمام نظام درہم برہم ہوکر رہ گئے، بڑے پیمانے پر ساحلی علاقوں میں تباہی پھیل گئی ہے کئی افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں گھر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں ،لاکھوں افراد بے گھر، غذائی قلت کا شکار اور دواوں کے محتاج ہیں  اور محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے میامی کے کچھ حصے بھی زیر آب آچکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فلوریڈا کے گورنر رک سکاٹ نے کہا کہ انھیں ریاست کی مغربی خلیجی ساحل جو اس طوفان کا اگلہ نشانہ ہو گی کے حوالے سے شدید تشویش لاحق تھی ۔ماہرین کے مطابق طوفان شمال مشرق میں فلوریڈا کی خلیج کے ساحل کی جانب بڑھ جائے گا۔ریاست کے سرکاری حکام میں سے ایک کا کہنا تھاکہ اس وقت فلوریڈا کے ارد گرد کسی جزیرے پر موجود رہنا ’ تقریباً خود کشی‘ کرنے کے مترادف ہے۔ریاست سے پہلے ہی 63 لاکھ لوگوں کو ساحلی علاقے کو چھوڑ دینے کے لیے کہا جا چکا تھا لیکن فلوریڈا کے گورنر رک سکاٹ کا کہنا تھا کہ اب اتنی تاخیر ہو چکی ہے کہ کسی کے لیے وہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں۔طوفان ارما کے فلوریڈا پہنچنے کے ساتھ ہی اطلاعات کے مطابق ریاست کے مرکزی علاقوں میں چار لاکھ 30 ہزار گھروں کو بجلی کی فراہمی بند ہو چکی ہے ۔جب ارما کیریبئن کے جزائر پر پہنچا تھا تو اس کی شدت چار بتائی جارہی ہے لیکن کیوبا سے ٹکرانے کے بعد اس کی شدت میں کمی آئی اور اسے تیسری کیٹیگری میں رکھا گیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.