برکس کانفرنس ، مودی کے پاکستان پر الزامات ، دفترخارجہ کی تردید

Chinese President

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے برکس کے سربراہان مملکت کا منہ پاکستان کی طرف موڑ دیا،پاکستان پر ایک بار پھر الزامات کی بوچھاڑ ، برکس کے جاری کردہ اعلامیہ میں پاکستان میں موجود لشکرطیبہ، جیش محمداور حقانی نیٹ ورک کو خطے کے امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔ دفتر خارجہ نے الزامات کو مسترد کردیا۔چین میں ہونے والی نویں برکس کانفرنس جس میں برازیل ، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ برکس کے سربراہان مملکت نے شرکت کی ۔ ’’بہتر مستقبل کیلئے باہمی شراکت‘‘ کے موضوع پر ہونے والی تین روزہ کانفر نس میں برازیل کے صدر مائیکل تمیر،روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، بھارت کے وزیر اعظم نریندرمودی، چین کے صدر شی جن پنگ اور جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زما نے شرکت کی۔ کانفرنس کے شرکا ئ نے جہاں باہمی تجارت کوفروغ دینے کیلئے تجاویز پر بات چیت کی وہیں دہشت گردی کو ترقی کیلئے بد ترین دشمن قرار دے دیا۔ برکس کانفرنس کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان میں موجود لشکر طیبہ ، جیش محمداور حقانی نیٹ ورک جیسی دہشت گرد تنظیموں کو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ کانفرنس میں موجود بھارتی وزیراعظم نریندرامودی نے چینی صدر سمیت دیگر سربراہان مملکت کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا اورمشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی تنظیموں کی موجودگی کا تذکرہ کیا۔ پاکستان نے برکس کے اعلامیہ کو مسترد کردیا ، ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے برکس کانفرنس کے اعلامیہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو خطے میں بڑھتے ہوئے انتہا پسند انہ نظریات اور عدم برداشت کے رویے پر تشویش ہے ، انہوںنے کہا کہ افغانستان میں جماعت الاحرار، ٹی ٹی پیاور دیگر دہشت گردی تنظیمیں موجود ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوںمیں ملوث ہیں۔داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں خطے میں امن کیلئے خطرہ ہیں۔نفیس ذکریا نے برکس اعلامیہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو خطے میں بڑھتے ہوئے انتہاپسندانہ نظریات، عدم برداشت اور خطے میں اقلیتوں کو درپیش مسائل پر بھی تشویش ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.