//

تجاوزات خاتمے کا کیس، مراد علی شاہ کراچی رجسٹری میں پیش

کراچی: ویب ڈیسک :: تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو طلب کر لیا جس پر وزیراعلیٰ سندھ فوری سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہو گئے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کراچی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہوئی۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کراچی میں تجاوزات ہٹانے کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر ایڈووکیٹ جنرل، سیکرٹری بلدیات اور کمشنر کراچی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کو فوری طلب کرلیا۔
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہمارے حکم پر کتنا عمل درآمد ہوا ؟ ہم نے وزیراعلی کو ہدایت کی تھی عمل درآمد اور نگرانی کریں، وزیر اعلی کو بلائیں اور کہیں رپورٹ لے کر آئیں،ایڈوکیٹ جنرل کہاں ہیں، ان کو نہیں معلوم کہ یہ کیس کتنا اہم تھا ؟ ڈیڑھ سال پہلے حکم جاری کیا تھا اب تک عمل نہیں ہوا، کیا توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دیں ؟
جس پر کمشنر کراچی نےمؤقف اپنایا کہ میری ابھی تعیناتی ہوئی ہے، چیف جسٹس نے کمشنر کراچی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ آپ کو تیاری کرکے آنا چاہیے تھا، ان لوگوں کو پتا نہیں کیوں ہمارے سامنے پیش ہونے کے لیے بھیج دیتے ہیں، ان کو کیا معلوم شہر والوں کی کیا ضروریات ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موہٹہ پیلس کے سامنے زمینوں پر کسی نے جعلی کاغذ بنا کر قبضہ کرلیا ہے ، کمشنر کراچی صاحب کسی دور میں وہاں بچے کھیلتے تھے جائے وہ زمین وا گزار کرائیں، شہر کی بلڈنگز ابھی تک اپنی جگہوں پر ہے، آپ نے کونسی عمارت گرائی بتائیں، کھوڑی باغیچہ کا کیا حال ہے، لیاری کا حال آپ نے دیکھا ہے، لیاری اور گارڈن سے پلے گراونڈ پارک ختم ہوچکے ہے، باغ ابن قاسم کی کیا پوزیشن ہے؟ زمین خالی کراکر کل رپورٹ دیں، جائیں جاکر قبضہ ختم کرائیں ، آپ کو ان ہی سے لڑنا ہے۔چیف جسٹس نے کڈنی ہل کی زمین واگزار کرانے کے معاملے پر کمشنر کراچی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کل تک کڈنی ہل زمین کلیئر نہ ہوئی تو جیل بھیج دیں گے ، تجاوزات کا مکمل خاتمہ کرکے رپورٹ دیں، اگر کل تک عمل درآمد نہ ہوا تو جیل بھیجنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا۔