انٹرنیٹ کیفے کی آڑ میں فحش مواد دکھانے کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا

CyberCrime

کراچی جدت ویب ڈیسک شہر بھر میں انٹرنیٹ کیفے کی آڑ میں فحش مواد دکھانے کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا۔ فی گھنٹہ 80 روپے وصول کرکے نوجوان نسل کو بے راہ روی کی طرف دھکیلا جانے لگا۔ انٹرنیٹ کیفے جرائم پیشہ افراد کے لیے پناہ کے ٹھکانے بھی بنے ہوئے ہیں۔ پولیس کارروائی میں ناکام ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کیفے کی بھرمار ہے جہاں کے مالکان چند روپوں کے عوض نوجوان نسل کو فحش تصاویر اور فلمیں دکھا کر ان کا مستقبل ضائع کرنے میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق کیفے کے مین سرور میں موجود فحش تصاویر اور فلموں کا ذخیرہ وہاں موجود تمام کمپیوٹرز میں شیئر کردیا جاتا ہے جو کیفے میں آنے والے استعمال کرتے ہیں۔ نیٹ کیفے استعمال کرنے والوں میں نوجوان خصوصا اسکول و کالج کے طلبہ شامل ہوتے ہیں، بہت سے طلبہ اسکول، کالجوں اور ٹیوشن سینٹرز میں جاکر پڑھنے کے بجائے نیٹ کیفے میں مقررہ وقت گزار کر گھروں کو چلے جاتے ہیں اور ان کے اہل خانہ بے خبر رہتے ہیں۔ یہ تمام نیٹ کیفے رات دیر تک کھلے رہتے ہیں اور یہاں آنے والے اکثر نوجوان بھی جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ کراسنگ، قیوم آباد، گلستان جوہر، گلشن اقبال، ناظم آباد، اختر کالونی، محمود آباد، صدر، ڈیفنس کے علاقوں میں انٹرنیٹ کیفے قائم ہیں جبکہ پولیس ان کے خلاف کارروائی اور پورن گرافی ایکٹ پر عمل میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.