/

جرائم کی وارداتیں روکنے کے لیے کلفٹن ڈیفنس میں گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کا فیصلہ

کراچی ، ویب ڈیسک :: کراچی کے شہریوں کے لئے اچھا فیصلہ ،کلفٹن اور ڈیفنس میںجرائم کی وارداتیں روکنے کے لیے گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تصدیق اور رجسٹریشن کے لیے ہوم سروس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ساؤتھ پولیس کا شہرکے پوش علاقے کلفٹن اور ڈیفنس میں جرائم کی وارداتیں روکنے کے لیے گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کی آن لائن اورروایتی طریقے سے گھروں کام کرنے والے ملازمین کی تصدیق اور اندراج کرنے کے بعد اب ہوم سروس فراہم کرنے فیصلہ کیا ہے اورآزمائشی طور پر پولیس نے گھر گھر سہولت فراہم کرنی شروع کردی ہے ساؤتھ پولیس گھروں پرجا کرگھریلو ملازمین کی تصاویر اورفنگر پرنٹس حاصل کرے گی۔
گھریلو ملازمین کے فنگر پرنٹس لیپ ٹاپ میں موجود پولیس کرائم ریکارڈ سی پی ایل سی اور نادرا کے ریکارڈ سے میچ کیا جا ئے گااگر کوئی گھریلو ملازم کرمنل ریکارڈ رکھتا ہو گا تو سب سے پہلے مکان مالک کوآگاہ کیا جائے گا اور اس کے بعد مالک مکان کی مرضی ہوگی کہ وہ گھریلو ملازم کو ملازمت پر رکھنا چاہے تو اسے فارغ کردیا جاتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس کرمنل ریکارڈ کے حامل گھریلو ملزم پر نظر بھی رکھے گی اور وقتاً فوقتاً ان سے پوچھ گچھ کی جا ئے گی ساؤتھ پولیس اس منصوبے کو کامیاب بنانے کیلیے ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشیوں کوبھی شریک کرے گی اس منصوبے کے تحت گھروں میں کام کرنے والے سیکیورٹی گارڈز ، مالی ، باورچی ، صفائی اور تعمیرات کے شعبہ سے وابستہ افراد کی تصدیق اور اندراج کیا جائے گا جو لوگ تھانوں میں آکر اپنے ملازموں کی اندراج اور تصدیق کرانے سے ڈرتے ہیں اب وہ اپنے گھروں پر ہی اپنے ملازموں کی تصدیق کراسکتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے آن لائن اورروایتی طریقے سے تھانے جا کر گھریلو ملازمین کی تصدیق اور اندراج کیا جاتا تھا جس سے کلفٹن اور ڈیفنس کے مکین کتراتے اور ڈرتے تھے اس سروس کے شروع ہونے کے بعد کلفٹن اور ڈیفنس کے مکین فون کال کرکے بھی پولیس کو اپنے گھر بلوا کر اپنے گھریلو ملازمین کی تصدیق اور اندراج کرا سکتے ہیں۔اس حوالے سے ایس ایس پی جنوبی زبیرنذیر شیخ نےبتایا ہے کہ ملازمین کی تصدیق اور اندراج کے لیے ہوم سروس فراہم کرنے کا مقصد کلفٹن اور ڈیفنس کوجرائم سے پاک کرنا ہے انھوں نے بتایا کہ ماضی میں یہ دیکھنے میں آیا کہ اکثر بنگلوں اور گھروں میں چوری، ڈکیتی ، اغوا اور قتل میں گھریلو ملازمین ہی ملوث پائے گئے ہیں۔