پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا وزیر اعظم بھی تھا جو کرائے کے گھر میں رہتا تھا،نہ پروٹوکول نہ گاڑیاں بنگلے، جانیے

جدت ویب ڈیسک :کرائے کے مکان میں رہنے والا پاکستانی وزیراعظم،آپ کو شائد یقین نہ آئے پاکستان کا ایک وزیراعظم ایسا بھی گزرا ہے جو ساری عمر لاہور میں لکشمی مینشن میں کرائے کے مکان میں رہا‘ جس کے دروازے پر کوئی گارڈ نہ تھا‘ جس کا جنازہ اسی کرائے کے گھر سے اٹھا‘ جو لوٹ کھسوٹ سے کوسوں دور تھا‘ جس کی بیوی اس کے وزارت عظمیٰ کے دوران بھی رکشوں اور ویگنوں میں دھکے کھاتی پھرتی۔ جس کے پاس اپنی ذاتی گاڑی تک نہ تھی۔ جس کی زندگی لوگوں کی فلاح و بہبود میں گزری۔ جس نے اپنی ترقی کا سفر دودھ بیچنے سے شروع کیا۔ اور کالج کے زمانے تک دودھ بیچ کر اپنی پڑھائی پوری کرتا رہا۔ جی دوستوں میں لیاقت علی خاں کی بات نہیں بلکہ ملک معراج خالد کی بات کررہا ہوں۔ملک معراج خالد تاریخ کی ایک عہد ساز شخصیت تھے‘ آپ 23 جون 2003ء کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے‘ ان کے ہم سے رخصت ہوئے 14 سال ہو گئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ ایسے افراد کو صدیوں تک یاد رکھتی ہے‘ یہ کسی کے ساتھ بے ایمانی نہیں کرتے‘ جس نے اپنا مقصد حیات انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کیا‘ جنہوں نے اپنے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی‘ آج تاریخ پھر اس موڑ پہ ہے جہاں اسے ایسے باہمت و محب وطن رہنما کی ضرورت ہے۔ملک معراج خالد پاکستان کے لاء منسٹر بھی رہے پنجاب کے چیف منسٹر بھی رہے نیشنل اسمبلی کے سپیکر بھی رہے اور چار ماہ کے لئے پاکستان کے وزیراعظم بھی رہے۔تو چلئے آج اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو اس باہمت شخص کی کہانی سناتے ہیں۔تقریباً ایک صدی قبل یعنی20ستمبر1916ء کو لاہور کے ایک نواحی گاؤں میں ایک بچہ پیدا ہوا‘چار بہن بھائیوں میں یہ سب سے چھوٹا تھا‘ پورا گاؤں ان پڑھ مگر اسے پڑھنے کا بے حد شوق تھا‘اس کے گاؤں میں کوئی سکول نہ تھا لہٰذا یہ ڈیڑھ میل دور دوسرے گاؤں پڑھنے جاتا‘ راستے میں ایک برساتی نالے سے اسے گزرنا پڑتا‘چھٹی جماعت پاس کرنے کے بعد وہ 8میل دور دوسرے گاؤں میں تعلیم حاصل کرنے جاتا‘ اس نے مڈل کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا‘مزید تعلیم حاصل کرنے لاہور آیا‘یہاں اس نے سنٹرل ماڈل سکول میں(جوکہ اس وقت کا نمبر 1سکول تھا) داخلہ لے لیا‘اس کا گاؤں شہر سے13کلومیٹر دور تھا‘ غریب ہونے کی وجہ اسے اپنی تعلیم جاری رکھنا مشکل تھی مگر اس نے مشکل حالات کے سامنے ہتھیار نہ پھینکے بلکہ ان حالات کے مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اس نے تہیہ کیا کہ وہ گاؤں سے دودھ لے کرشہر میں بیچے گا اور اپنی تعلیم جاری رکھے گا چنانچہ وہ صبح منہ اندھیرے اذان سے پہلے اٹھتا‘ مختلف گھروں سے دودھ اکٹھا کرتا‘ ڈرم کو ریڑھے پر لاد کر شہر پہنچتا‘ شہر میں وہ نواب مظفر قزلباش کی حویلی اور کچھ دکانداروں کو دودھ فروخت کرتا اور مسجد میں جا کر کپڑے بدلتا اور سکول چلا جاتا‘ کالج کے زمانہ تک وہ اسی طرح دودھ بیچتا اور اپنی تعلیم حاصل کرتا رہا‘ اس نے غربت کے باوجود کبھی دودھ میں پانی نہیں ملایا۔بچپن میں اس کے پاس سکول کے جوتے نہ تھے‘ سکول کے لئے بوٹ بہت ضروری تھے‘ جیسے تیسے کر کے اس نے کچھ پیسے جمع کر کے اپنے لیے جوتے خریدے‘ اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ گاؤں میں بھی جوتے پہنتا تو وہ جلدی گھِس جاتے چنانچہ وہ گاؤں سے والد کی دیسی جوتی پہن کر آتا اور شہر میں جہاں دودھ کا برتن رکھتا وہاں اپنے بوٹ کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دیتا اور اپنے سکول کے جوتے پہن کے سکول چلا جاتا۔ والد سارا دن اور بیٹا ساری رات ننگے پاؤں پھرتا‘ 1935ء میں اس نے میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور پھر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں داخلہ لیا‘ اب وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے گاؤں سے ریڑھی میں دودھ لاتا اور شہر میں فروخت کر دیتا ‘اس کام میں کبھی اس نے عار محسوس نہ کیا‘ فرسٹ ائیر میں اس کے پاس کوٹ نہ تھا اور کلاس میں کوٹ پہننا لازمی تھا چنانچہ اسے کلاس سے نکال کر غیر حاضری لگا دی جاتی‘ اس معاملے کا علم اساتذہ کو ہوا تو انہوں نے اس ذہین طالبعلم کی مدد کی‘ نوجوان کو پڑھنے کا بہت شوق تھا‘ 1939ء میں اس نے بی اے آنر کیا‘ یہ اپنے علاقہ میں واحد گریجویٹ تھا‘یہ نوجوان اس دوران جان چکا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی کام آسانی سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا‘ کامیابیوں اور بہتریں کامیابیوں کے لیے ان تھک محنت اور تگ و دو لازمی عنصر ہے۔ایک مفلس وقلاش ان پڑھ کسان کا بیٹا جس نے کامیابی کا ایک لمبا اور کٹھن سفر اپنے دودھ بیچنے سے شروع کیا اورآخر کارپاکستان کا وزیراعظم بنا‘یہ پاکستان کا منفرد وزیراعظم تھا جو ساری عمر لاہور میں لکشمی مینشن میں کرائے کے مکان میں رہا‘جس کے دروازے پر کوئی دربان نہ تھا‘جس کا جنازہ اسی کرائے کے گھر سے اٹھا‘جو لوٹ کھسوٹ سے دور رہا‘جس کی بیوی اس کے وزارت عظمیٰ کے دوران رکشوں اور ویگنوں میں دھکے کھاتی پھرتی۔ ملک معراج خالد تاریخ کی ایک عہد ساز شخصیت تھے‘ میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ ایسے افراد کو صدیوں تک یاد رکھتی ہے‘ یہ کسی کے ساتھ بے ایمانی نہیں کرتے‘ جس نے اپنا مقصد حیات انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کیا‘ جنہوں نے اپنے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی‘ آج تاریخ پھر اس موڑ پہ ہے جہاں اسے ایسے باہمت و محب وطن رہنما کی ضرورت ہے۔معاشی دباؤ کے تحت بی اے کے بعد اس نے باٹا پور کمپنی میں کلرک کی نوکری کر لی چونکہ اس کا مقصد لاء یعنی قانون پڑھنا تھا لہٰذا کچھ عرصہ بعد کلرک کی نوکری چھوڑ کر قانون کی تعلیم حاصل کرنے لگا اور 1946ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کر لیا۔ 1950ء سے باقاعدہ پریکٹس شروع کر دی‘ اس پر خدمت خلق اور آگے بڑھنے کا بھوت سوار تھا‘ اس نے لوگوں کی مدد سے اپنے علاقے میں کئی تعلیمی ادارے قائم کیے‘ اس جذبہ کے تحت 1965ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوا‘ پیپلزپارٹی کے روٹی‘ کپڑا اور مکان کے نعرے سے متاثر ہو کر اس میں شامل ہو گیا۔ 1970ء میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوا اور نواب مظفر قزلباش کے بھائی کو جن کے گھر یہ دودھ بیچتا کرتا تھا‘ شکست دی۔ 1971ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی کابینہ میں وزیر خوراک و پسماندہ علاقہ جات بنا‘ 1972ء کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا‘ وزارت اعلیٰ کے دوران اکثر رکشے میں سفر کرتا‘ اپنے گورنر مصطفیٰ کھر کے ساتھ نبھا نہ ہونے کی وجہ سے استعفیٰ دے کر ایک مثال قائم کی‘ 1973ء میں اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کی قیادت کی‘ 1973ء میں وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور کا قلمدان سونپا گیا۔ 1976ء میں وفاقی وزیر بلدیات و دیہی مقرر گیا‘ دو دفعہ سپیکر قومی اسمبلی بنا اور 4 سال تک انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کا ڈائیریکٹر رہا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.