/

’منفی کردار بہت اچھا نبھایا‘جو میری پہچان بن گیا ،جویریہ سعود

کراچی ویب ڈیسک  ::چھوٹی سکرین کی چلبلی اداکارہ جویریا سعود نے کہا ہے کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں کہ عورت کی منفی ذہنیت نہیں ہوتی، بلکہ مرد ہو یا عورت کوئی بھی منفی یا مثبت ذہنیت کا حامل ہو سکتا ہے۔
جویریا نے اس بار عید امریکہ میں منائی ہے۔ کورونا کی وجہ سے انہوں نے مسلسل تین عیدیں پاکستان میں کیں۔
قربانی کے بعد گوشت کی تقسیم کا مرحلہ ہو یا پکوان اور کہیں آنے جانے کا سلسلہ، جویریا نے کورونا کے دنوں میں خاص کر بہت احتیاط کی۔ انہوں نے گھر کے کسی ملازم کو بھی اگر گھر سے باہر بھیجا تو واپسی پر سب سے پہلے ہاتھوں کو سینٹائز کروایا۔
 خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جویریہ نے کہا کہ کورونا میں انہوں نے بہت احتیاط کی اور اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ گھر کے باقی سب افراد بھی احتیاط کریں۔ عید کا موقع ہو یا خوشی کا کوئی تہوار اکٹھ کرنے سے پرہیز کیا
جویریا سعود نے ڈرامہ سیریل نند میں منفی کردار ادا کیا جس میں انہیں خاصا پسند کیا گیا۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے منفی کردار اس لیے کیا کیونکہ وہ گزشتہ 20 برس سے اپنے علاوہ کسی دوسرے پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ کام نہیں کررہی تھیں۔
ان کے مطابق شادی سے پہلے اور بعد میں کافی کام کیا، لہذا جب فہد مصطفی کے پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے اس کردار کو کرنے کی پیشکش ہوئی تو کردار بہت جاندار تھا اورمنفی کردار پہلے نہیں کیا تھا اسلیے بہت پرجوش تھی لہذا ہاں کردی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’مجھے بالکل بھی نہیں لگا کہ یہ کردار میرے کیرئیر پر برا اثر ڈالے گا اور نہ ہی مجھے اس چیز سے غرض تھی کہ مجھ سے پہلے یہ کردار کون کر رہی تھی۔ مجھے دلچپسی اس چیز میں ہوئی کہ پہلی بار منفی کردار کرنے کا موقع مل رہا ہے تو کیا جانا چاہیے اور یہ بات تو چھوڑ دیں کہ یہ کردار کسی نے چھوڑا یا کسی کو نکالا گیا۔‘
’میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ عورت نیگیٹو نہیں ہوتی۔ دنیا میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں بہت اچھے مرد بھی ہیں بہت اچھی عورتیں بھی۔ بہت بری عورتیں بھی ہیں بہت برے مرد بھی۔ اچھائی برائی ہر جگہ ہوتی ہے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اچھائی ختم ہوگئی ہے یا برائی ختم ہوگئی ہے۔‘
جویریہ نے کہا کہ ’ سٹار پلس کے ڈراموں کو طعنہ بنانا سمجھ سے باہر ہے۔ بھئی ان ڈراموں کو بھی تو پسند کیا جاتا ہے اور ہمارے ڈراموں کو بھی پسند کیا جاتا ہے۔ ہمارے ڈرامے کچھ فاسٹ ہیں، لیکن ہمارے ڈراموں کا اپنا ایک انداز ہے جس کو سٹار پلس کے ڈراموں سے نہیں ملایا جانا چاہیے۔‘
جویریا کا ماننا ہے کہ چینل یا پرڈیوسر وہی دکھاتے ہیں جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں۔ ’میرے ڈرامہ “یہ زندگی” کے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا۔ ساڑھے چھ سال مسلسل چلا تو اعتراضات اٙٹھنے لگے۔ بھئی اعتراض اٹھانے والوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ چینلز اور پرڈیوسرز پاگل تو نہیں کہ ریٹنگ نہ آئے اور ڈرامے کو چلاتے جائیں۔ لہذا کسی ڈرامے کی ریٹنگ آرہی ہے تو ہی اسے مسلسل دکھایا جاتا ہے۔
ان کہنا ہے کہ منفی کردار کرنے کے بعد لوگ اگر انہیں برا بھلا کہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کردار بہت اچھا نبھایا ہے اور وہ کامیاب ہوگئی ہیں۔
جوہریا کو یہ سوال عجیب لگتا ہے کہ کسی فنکار سے پوچھا جائے کہ یہ کردار کیوں کیا وہ کردار کیوں کیا؟ ان کا ماننا ہے کہ ہر کردار جو لکھا جاتا ہے وہ کسی نہ کسی نے کرنا تو ہوتا ہے چاہے وہ جوہریا ہو یا کوئی اوراور ہر آرٹسٹ اپنے کیرئیر میں ہر طرح کے کردار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
 کچھ لوگوں کے نزدیک آپ نے جو منفی کردار کیا ہے وہ اس چیز کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے پاس کام اور آفرز کی کمی ہے۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے پاس بہت کام ہے۔
 وہ اپنے کردار خود لکھتی بھی ہیں، پروڈیوس بھی کرتی ہیں اور ڈائریکٹ بھی کرسکتی ہیں۔
’کورونا کی وجہ سے پچاس فیصد کام کم ہوگیا تھا، لیکن رکا نہیں چلتا رہا۔ اس دوران انہیں بھی آفرز آتی رہیں مگر جب جو بہتر لگا اس کو کرنے کے لیے ہاں کردی اب اس کو جو مرضی سمجھا جائے۔‘
’ میں نے اپنی مرضی سے کام چھوڑا تھا یا کم کردیا تھا، کیونکہ میرے بچے چھوٹے تھے انہیں میرے وقت اور توجہ کی ضرورت تھی۔ اب جب وہ سمجھدار ہوگئے ہیں اور وہ اپنے سکول وغیرہ میں مصروف ہوگئے ہیں تو مجھے لگا کہ اب میں کام کر سکتی ہوں تو میں نے کام شروع کردیا۔ نند ڈرامہ کرنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ کورونا کی وجہ سے مسلسل گھر رہ رہ کر سست ہوگئی تھی اس لیے خود کو ایکٹیو کرنے کے لیے آفر قبول کرلی۔‘
جویریہ کا کہنا تھا کہ ’دوسروں کے خلاف بے پر کی باتیں پھیلانے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے خود کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا۔
جویریا کو اقراء عزیز کی اداکاری بہت اچھی لگتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ  ’ہر ڈائریکٹر کا اپنا انداز ہے ہر کوئی اپنے انداز میں کام کررہا ہے۔ لہذا کسی ایک کا نام نہیں لے سکتی کہ کون ان کا فیورٹ ہے کیونکہ کبھی مجھے کسی ایک ڈائریکٹر کا ڈرامہ اچھا لگتا ہے تو کبھی کسی دوسرے ڈائریکٹر کا کام اچھا لگتا ہے۔‘
ساس بہو کے لڑائی جھگڑے سے ڈرامے کو باہر نکالا جائے اس سوال کے جواب میں جویریا نے کہا کہ ’یہ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن میں محبتیں بھی ہوتی ہیں اور لڑائیاں بھی۔ جہاں دو برتن ہوتے ہیں وہاں آواز بھی ہوتی ہے اور ہر گھر میں ایسا ہوتا ہے کہ کہیں ایسے رشتوں میں محبت ہے تو کہیں کڑواہٹ۔ تو جو ہے ہم وہی دکھا رہے ہیں اور یہ بہت ہی نارمل بات ہے میرے نزدیک۔‘
آپ فلم بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں اس سوال کے جواب میں جویریا نے کہا کہ ’بالکل فلم بنانے کا ارادہ ہے، لیکن سینما گھر تو کھل جائیں حالات نارمل ہوجائیں پھر دیکھتے ہیں۔ ویسے بھی اب ویب سیریز کا دور ہے لیکن کورونا کے سائے چھٹ جائیں تو پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔‘
 جوہریا کا ماننا ہے کہ ’ہیرو، ہیروئین فلم کے ہوتے ہیں ڈرامے کے نہیں۔ ڈرامے میں تو کریکٹر رولز ہوتے ہیں مجھے تو ڈرامے کے ہیرو ہیروئین کے کانسیپٹ کی سمجھ نہیں آتی، بس کردار اچھا ہونا چاہیے اور یہ کسی بھی آرٹسٹ کا حق ہے کہ کردار اچھا لگے تو کر لیں برا لگے تو منع کردے۔‘
 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہماری عوام بہت سمجھدار ہوگئے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر کوئی منفی کردار کررہا ہے تو جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ صرف ڈرامہ ہے۔ لہذا وہ منفی کردار کرنے کی وجہ سے کسی سے نفرت نہیں کرتیں۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.