ڈائریکٹرجنرل کے ڈی اے ناصر عباس کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے دوڑیں

کراچی جدت ویب ڈیسک (اسٹاف رپورٹر)کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ناجائز الاٹمنٹس ، غیرقانونی بھرتیوں اور کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے ، جبکہ دہری شہریت کے حامل ڈی جی کے ڈی اے سید ناصر عباس پر زمینوں کے غلط الاٹمنٹس کے حوالے سے سخت تنقید کی زد میں ہیں ، روڈ کٹنگ،چارج پارکنگ اور بچت بازار کی مد میں سالانہ تقریباً50 کروڑ روپے وصول کئے جاتے ہیں جس کا کوئی حساب کتاب نہیں اور کے ڈی اے کو اس مد میں برائے نام آمدنی ظاہر کی جاتی ہے ۔ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آتے ہی ڈی جی کے ڈی اے نے عہدے پر برقرار رہنے کیلئے کوششیں شروع کردیںدہری شہریت کے حامل ناصر عباس پر زمینوںکی غلط الاٹمنٹ وکرپشن کے سنگین الزامات ہیں‘ جرمانہ بھی ہوچکاہے ادارے میں من پسند بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ڈی جی ناصر عباس جن کی ریٹائرمنٹ میں چند ہفتے ہی باقی ہیں اپنی ملازمت کی توسیع کیلئے ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ واضح رہے کہ دہری شہریت رکھنے والوں کو سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت دیگر اداروں میں اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا گیا اس کے باوجود ناصر عباس کے ڈی اے کے ڈائر یکٹر کے عہدے پر فائز ہیںجوسپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے ۔ متعدد مرتبہ ڈائریکٹر جنرل کی کینڈین شہریت ڈبل پاسپورٹ پر بیرون ملک دورے اور اُن پا سپورٹس پر بزنس مین کی حیثیت سے سفر کی خبریں نشر اور شائع ہوئیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونا حیران کن ہے ۔ کراچی کی زمینوں کی لوٹ مار میں ملوث مافیا کی پشت پناہی کے باعث ڈی جی ناصر عباس کی من مانی کارروائیاں جاری ہیں۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ریٹائر افسران کو کنٹریکٹ پر ملازمتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے ، چیف سیکوریٹی آفیسر کیپٹن (ر)الطاف حسین راجپوت ، سیکوریٹی افسر طارق رائو، انجنئیراسد اللہ شاہ اور ایڈوائزر مکرم سلطان بخاری سمیت متعدد افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا گیا ہے ۔ ڈی جی ناصر عباس عدالتی احکامات کے باوجود 55 فلاحی پلاٹس پر سے قبضہ ختم کرانے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے سندھ ہائی کورٹ نے انہیں 5ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا ہے ۔ کے ڈی اے مزدوریونین ،سی بی اے اور دیگر ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل سید ناصر عباس کو فوری برطرف کرکے انہیں گرفتاراور اینٹی کرپشن ،نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے اُن کے خلاف مکمل انکوائری کروائی جائے ،کے ڈی اے ملازمین نے الزام عائدکیا کہ ان کی ریکارڈکرپشن اور غبن نے ادارے کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے انکی وجہ سے ادارہ اور ملازمین بدنام ہورہے ہیں۔عوام کیلئے نئی رہائشی اسکیم لانے کے زبانی اعلانات کو بھی ایک سال ہوچکا کوئی عملی اقدام سامنے نہیں آیا کم لاگت رہائشی منصوبوں کیلئے کے ڈی اے کا اپنا ادارہ پبلک ہاؤسنگ اسکیم گذشتہ 20سال سے غیر فعال ہے ، کے ڈی اے میں جب بھی کوئی نیا پراجیکٹ شروع ہوتا ہے اس پر کچھ لوگ ورک چارج کے طور پر کام کرتے ہیں اور جب پراجیکٹ ختم ہوجاتا ہے تو ورک چارج ملازمین کو بھی فارغ کردیاجاتاہے لیکن تقریباً580افراد ورک چارج کی مد میں تقریباًتین کروڑ روپیہ لوٹا جاتا ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.