ہم گالم گلوچ نہیں کر سکتے ہماری لیڈر شپ حالات کو سمجھتی ہے, اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ

جدت ویب ڈیسک ::لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں خورشید شاہ نے کہا کہ آج ہمارے اوپر لون 21 ہزار بلین ہے ۔ یہ کون ادا کریگا ۔ ہم نے کونسی ترقی کی ہے ۔ پیسے کہاں پر لگے ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور سمیت ہر جگہ پر پانی کا مسئلہ ہے ۔ ہر جگہ پر غریب آدمی مارا جا رہا ہے ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ملک اکنامک طور پر بہت تباہ ہوتا جا رہا ہے ۔ جو بھی حکومت ہو اسے کشمیر کیلئے کوشش کرنا پڑتی ہے ۔ آج جو سیاست میں گالم گلوچ کرے اس کو اتنی زیادہ ترقی ملتی ہے ۔ دعا کریں ہم حکومت بنائیں باقی ہم سے ملنے کی کوشش کریں ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ کشمیریوں کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ پانچ فروری کے دن کو کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے پیپلز پارٹی نے وقف کیا ۔ کل لاہور میں جلسہ تھا، کل کشمیر ڈے تھا، 5 فروری کا دن کشمیر کی یکجہتی کا دن تھا ہم نے یکجہتی کا مظاہرہ کا ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ مولانا صاحب سے پوچھ لیں ، یہی مولانا ہمارے زمانے میں بھی ہوتے تھے لیکن وہ ہر جگہ کے دورے کرتے تھے، لیکن آج وقت حکومت کا منہ دیکھ رہے ہیں ۔ پیپلزپارٹی نے ہر جگہ پر کشمیر کی جنگ لڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر وقت میں پاکستان زندہ باد کہا ۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ وقت وقت کی بات ہے، مجھے نہیں کہنا چاہئے، کوشش کرتا ہوں اچھا الفاظ بولوں، ہمارے سر بھی کٹ گئے لیکن ہم نے پاکستان توڑنے کی بات نہیں کی ۔ ہم سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کے حق میں نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے کل کہا بوجھل دل ہے کشمیر پر کیا بات کروں جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے یوم یکجہتی کو زندہ رکھا ۔ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی صرف جلسے کر کے ہی نہیں کی جا سکتی ۔ ہم سب کو کشمیر کی آزادی پر بات کرنی چاہئے ۔دوسری طرف پیپلز پارٹی کے متعلق بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو میمو گیٹ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ سمجھ نہیں آْتی کیوں ایک شخص پاکستان سے باہر بیٹھ کر پاکستان کی تذلیل کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں کشمیر کا ذکر نہ کرنے پر افسوس ہے ۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے یوم یکجہتی کو زندہ رکھا ۔ کشمیر کے سلسلے میں صرف ایک دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.