نواز شریف خاموشی سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں ‘ خورشید شاہ

اسلا آباد جدت ویب ڈیسک قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر جے آئی ٹی کا والیم کھلا تو وہ پوری دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے اس لئے بچی کچھی عزت بچانے کے لئے وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونا ہی ان کے لئے بہتر ہو گا ۔ جبکہ قمرزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدالتوں سے ہمارے گلے شکوے رہے ہیں، لوگ اسی لیے عدالتوں میں آتے ہیں کہ یہاں انصاف ہوتا ہے، پاناما کیس میں دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔ان خیالات کا اظہار پیپلزپارٹی کے رہنمائوں نے سپریم کورٹ آمد کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ پانامہ کیس اب ایک ہفتے سے زیادہ نہیں چلے گا اور عدالت عظمی پانامہ سے متعلق جو بھی فیصلہ دے گی اسے من و عن تسلیم کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس کیس کو جتنا کھولے گی اتنی سے پھنستی چلی جائے گی اسے لئے نواز شریف کو مشورہ دیتا ہوں کہ خاموشی سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں تاکہ دنیا بھر میں ان کی بچی کچھی عزت محفوظ رہ جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہاکہ احتساب صرف سیاستدانوں اور حکمرانوں کا ہی نہیں بلکہ سب کا ہونا چاہئے اس احتساب میں ریٹائرڈ جرنیلوں اور بیورو کریٹس کو بھی شامل کیا جانا چاہئے ۔۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ دنیا کی بڑی عدالتوں سے انصاف ہی کی توقع ہوتی ہے لیکن سب سے بڑی عدالت اللہ کی ہے اور انسانوں کے لئے بڑی عدالت سپریم کورٹ ہے۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں پاناما کیس میں انصاف ہوگا، اس ادارے پر شک نہیں کرنا چاہیے۔سپریم کورٹ آمد سے متعلق پوچھے گئے سوال پر خورشید شاہ نے کہا کہ اپوزیشن سپریم کورٹ میں موجود ہے اس لئے اپوزیشن سے یکجہتی کے لئے یہاں آئے ہیں۔سپریم کورٹ آمد کے موقع پر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے دیگر رہنمائوں میں قمرزمان کائرہ ،ندیم افضل چن اور فیصل کریم کنڈی بھی تھے۔قمرزمان کائرہ نے کہا کہ عدالتوں سے ہمارے گلے شکوے رہے ہیں، لیکن لوگ اسی لیے عدالتوں میں آتے ہیں کہ یہاں انصاف ہوتا ہے، اس کیس میں دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، خورشید شاہ سمیت پیپلز پارٹی اراکین سے سپریم کورٹ کے احاطہ میں عابد شیر نے مصافحہ بھی کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.